میدان عمل کے سپاہی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قیوم آباد میں واقع دی سٹیزن فاؤنڈیشن کالج کی چاردیواری کے اندر رنگ تماشا جاری تھا۔ شرجیل بلوچ کی دعوت پر میں بھی رنگ تماشا کا حصہ تھا ، رنگ تماشا کا تیسرا دن تھا۔ رنگوں کا کھیل کھیلا جا رہا تھا۔ میں اور شرجیل کس موضوع پہ گفتگو کر رہے تھے کہ اچانک ان کے زبان پر آغا شکیل کا نام آیا۔ کہنے لگے کہ ایک دم ملنگ آدمی ہے۔ یتیم، کسان مزدوروں کے بچے پڑھ لکھ جائیں ، ایک ٹیم ہے جو اسی مقصد کے لیے مل کر کام کر رہی ہے۔

میں نے کہا ملنگ لوگوں سے ملنے میں دیر کیسی۔ غالباً اس وقت ہم آواران میں تعلیمی و ادبی میلہ کرنے جا رہے تھے ۔ فون پہ رابطہ ہوا۔ خیالات کا تبادلہ ہوا ، بندہ ہم خیال نکلا۔ وہ جس کاروان کے ساتھی ہیں کاروان کو ’کوائن دی ایجوکیشن موومنٹ‘ کا نام دے رکھا ہے۔

لاڑکانہ میں جب ڈاکٹر ادیب رضوی لائبریری کا افتتاح ہونے جا رہا تھا۔ دعوت ملی تو فوراً سندھ کی سرزمین موہن جو دڑو چلا آیا۔ لائبریری کوائن دی ایجوکیشن موومنٹ کے ساتھیوں نے مل کر بنائی ہے۔ یہ نہیں ہے کہ فقط کتابیں جمع کیں اور لائبریری بنا ڈالی، بلکہ بلڈنگ کی تزئین و آرائش، کتابیں، فرنیچر، 24 گھنٹے بجلی فراہم ہو ، اس کے لیے سولر سسٹم کا انتظام، لائبریرین سے لے کر انتظامی عملہ تک سب کچھ کوائن دی ایجوکیشن موومنٹ کر رہا ہے ،دلی لگاؤ تھا کہ ڈاکٹر ادیب رضوی صاحب علمی منصوبے کا افتتاح کرنے خود موہنجودڑو چلے آئے۔

ہم خیال ساتھیوں کا ٹولہ ہے جن کا خیال ہے کہ کسان مزدوروں کے بچے، یتیم بچے جو پڑھنا چاہتے ہیں، آگے بڑھنا چاہتے ہیں مگر مالی مشکلات ان کے آگے بند باندھ کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ وہ بند ان کے ارادوں کو پس پشت نہ ڈال دیں، اس کے لیے وہ محنت کر رہے ہیں، وسائل اکٹھے کر رہے ہیں، بچوں کو اسکالرشپ ایوارڈ کر رہے ہیں۔ اب تک 5 سو زائد بچوں کو مختلف کیٹگریز میں اسکالر شپ ایوارڈ کر چکے ہیں۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ کے نام سے سکول کا قیام اسی خیال کا مرہون منت ہے۔

ڈاکٹر ادیب رضوی لائبریری کا قیام اور لائبریری میں اسٹیشنری بنک کے ذریعے ان بچوں کو اسٹیشنری کی مد میں معاونت فراہم کرنا، جن کے والدین مشکل حالات میں اپنے بچوں کو اسٹیشنری فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے کوائن دی ایجوکیشن موومنٹ کے ساتھی اسے موبائل اسٹیشنری بینک میں تبدیل کرنے جا رہے ہیں دیہی علاقے کے یتیم، کسان ،مزدور بچے جن کے والدین تعلیمی اخراجات کا بوجھ برداشت نہ کر پانے کی وجہ سے بچوں کو اسٹیشنری فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ میرا ان سے سوال تھا کہ اتنا بڑا خیال کیسے آیام کبھی پریشانی تو لاحق نہیں ہوئی کہ اتنا بڑا کام آگے کیسے بڑھ پائے گا؟

کہنے لگے کہ قائداعظم یونیورسٹی میں جب تعلیم حاصل کر رہا تھا تو وہاں ایسے اسٹوڈنٹس بھی تھے جن کے پاس کھانے کے لیے پیسے نہیں ہوتے تھے تو کلاس فیلوز ان کے ساتھ کھانا شیئر کر لیتے تھے۔ بہت سے احباب وہ تھے جن کے پاس کھانے کے لیے بہت ہی چھوٹی سی اماؤنٹ ہوا کرتی تھی مگر وہ گزارہ کر کے تعلیم حاصل کر رہے تھے ، بعد میں میں نے دیکھا کہ وہی دوست محنت کر کے اچھی اچھی پوزیشنوں پہ آ گئے اور ان کے لائف اسٹائل میں تبدیلی آ گئی۔

ایک خیال جو بچپن سے میرے ذہن میں گردش کر رہا تھا وہ یہ کہ کسان مزدور یا یتیم بچوں کا لائف اسٹائل کیوں تبدیل نہیں ہوتا۔ اسی منظرنامے نے میرے ان خیالات کو عملی جامہ پہنایا کہ بہتر تعلیم انسانی زندگی میں بہتر تبدیلی لا سکتی ہے تو کیوں نہ اس طبقے کو تعلیم دلوانے کی جدوجہد کی جائے جو پڑھنا چاہتے ہیں ، یہ کون لوگ ہیں، کسان مزدور کے بچے اور یتیم بچے۔ پھر ہوا یوں کہ میدان میں آ گئے۔ دوسرے نقطے کی طرف آتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ خوف رہتا ہے اور ضرور رہتا ہے کہ جن جن بچوں کو اسکالرشپ ایوارڈ ہوا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ امانت کم پڑ جائے اور کوائن دی ایجوکیشن موومنٹ کا خواب ادھورا رہ جائے لیکن اگلی صبح ہم میدان عمل میں پہنچ کر اس خوف کو شکست دے چکے ہوتے ہیں۔ یہ روز ہوتا ہے ہم ہر روز میدان عمل میں سرخرو ہو جاتے ہیں۔

ایک طویل فہرست ہے ان احباب کی جو کوائن دی ایجوکیشن موومنٹ کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ یہ تمام احباب نظریاتی طور پر اس نیک مقصد کے لیے منسلک ہیں ، کوائن دی ایجوکیشن موومنٹ نے بلوچستان میں بھی کام کا آغاز کیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی کڑی کے طور پر آواران سے تین بچوں کو سکول ٹو لیڈنگ یونیورسٹی اسکالرشپ ایوارڈ ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جاہو میں واقع پرائمری سکول عبدالستار گوٹھ کو اون کیا ہے۔ دوستوں کا خواب ہے کہ سکول کو ایک مثالی تعلیمی ادارہ بنایا جائے۔

آغا جان کیا کر رہا ہے؟ لاڑکانہ جا رہا ہے خیرپور جا رہا ہے ، کیا کرنے؟ چیزیں اکٹھی کرنے، کن سے؟ ان احباب سے جو اس مقصد کے لیے ایک ہی بینر تلے جمع ہو چکے ہیں۔ کن کے لیے؟ کسان مزدور بچوں، یتیم بچوں کی تعلیمی اسکالرشپس کو پورا کرنے کے لیے۔ فون پر جب بھی رابطہ ہوا، تو آغا جان کو اسی مقصد کے ساتھ ہی جڑا پایا۔

میدان عمل کا یہ سپاہی ہم خیال ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس سلسلے کو آگے بڑھا رہا ہے میدان عمل مشکل ہی سہی مگر ناممکن نہیں۔ میدان عمل کا ایک اور سپاہی آپ بھی بن سکتے ہیں۔ بشرطیکہ آپ میں کچھ کرنے کی چاہ ہو جستحو ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *