ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنا سب کے معاشی مفاد میں ہے، بائیڈن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صدر بائیڈن موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کے لئے ہونے والی ورچوئل کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔

وائٹ ہاوس میں موسمیاتی تبدیلیوں کی روک تھام پر غور کے لیے دو روز سے جاری وورچوئل کانفرنس جمعے کو ختم ہو گئی۔ صدر بائیڈن نے کانفرنس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں کی روک تھام کے لئے جو کچھ کرنا ہے، مل کر کرنا ہوگا۔

کانفرنس میں دنیا کے چالیس ملکوں کے رہنما اور بڑی کمپنیوں اور اداروں کے سربراہ شریک تھے۔

صدر بائیڈن نے کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی روک تھام میں ہم تب تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک دنیا میں سب مل کر یہ کام نہ کریں۔

کانفرنس کے دوسرے اور اختتامی دن عالمی رہنماؤں نے زور دیا کہ خوش حال اور صاف توانائی والی معیشتیں پیدا کرنے کے لئے امریکہ اور دنیا بھر کے ملکوں کو بہت زیادہ سرمایہ خرچ کرنے کی ضرورت ہوگی۔

بائیڈن نے کہا کہ جو وعدے ہم نے یہاں کئے ہیں، انہیں حقیقت بننا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ “کیا آپ کسی اور ایسے کام کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جس سے اکیسویں صدی میں روزگار کے اتنے زیادہ مواقع پیدا ہوسکتے ہوں”۔

کرونا وائرس کی وجہ سے بائیڈن انتظامیہ کی یہ اہم ترین کانفرنس ورچوئل انداز میں منعقد کی گئی، جس کے لئے وائٹ ہاوس کے مشرقی حصے میں ٹی وی ٹاک شو نوعیت کا سیٹ لگایا گیا تھا۔

موسمیاتی تبدیلیوں پر ہونے والی کانفرنس کا انعقاد ورچوئل انداز میں کیا گیا۔
موسمیاتی تبدیلیوں پر ہونے والی کانفرنس کا انعقاد ورچوئل انداز میں کیا گیا۔

امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ صاف توانائی، ریسرچ اور انفرا سٹرکچر کے منصوبوں پر خطیر رقم خرچ کرنے سے امریکی معیشت مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے اور ماحول کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے قابل ہو جائے گی۔ صدر بائیڈن کا نیا مجوزہ انفرا سٹرکچر منصوبہ ان کے دور رس ویژن کے لئے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

ری پبلکن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے ماحولیاتی تبدیلیوں کی روک تھام کے لئے کاربن کے اخراج میں پچاس فیصد کمی کا وعدہ امریکہ میں تیل، قدرتی گیس اور کوئلے کی صنعت میں کام کرنے والے مزدوروں کے حق میں بہتر ثابت نہیں ہوگا۔

امریکی سینیٹ کے اقلیتی ریپبلکن رہنما مچ میکونل نے جمعرات کو سینیٹ کے ایوان میں کہا تھا کہ بائیڈن کے نئے انفرا سٹرکچر منصوبے سے امریکہ میں زیادہ تنخواہ والی ملازمتیں ختم ہو جائیں گی۔

موسمیاتی تبدیلیوں کو روکنے کے لئے درکار خطیر رقم کا تخمینہ صدر بائیڈن کے انفرا سٹرکچر سے متعلق نئے منصوبے میں ہی شامل ہے، جس سے امریکہ میں نئی سڑکیں، محفوظ پل اور ٹرانسپورٹ کا نیا نظام قائم کیا جائے گا، جب کہ بجلی سے چلنے والی گاڑیاں، پینے کا صاف پانی اور سولر، اور ہوا کی توانائی میں سرمایہ کاری کی جائے گی۔

جمعے کو موسمیاتی تبدیلیوں پر ہونے والی کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں مائیکروسوفٹ کے بانی بل گیٹس اور مائیک بلوم برگ جیسے کھرب پتی کاروباری افراد اور شخصیات نے بھی شرکت کی۔

مائیک بلوم برگ نے، جو کوئلے سے چلنے والے پلانٹس کو قابل تجدید توانائی پر منتقل کرنے کے بہت حامی ہیں، کہا کہ ہم موسمیاتی تبدیلیوں کو نئی سرمایہ کاری کے بغیر شکست نہیں دے سکتے۔

ماحولیات کے حوالے سے امریکہ کے خصوصی نمائندے جان کیری ۔ فائل فوٹو
ماحولیات کے حوالے سے امریکہ کے خصوصی نمائندے جان کیری ۔ فائل فوٹو

ماحولیاتی تحفظ کے لئے امریکہ کے خصوصی نمائندے جان کیری نے زور دیا کہ پرانے امریکی انفرا سٹرکچر کو زیادہ صاف توانائی سے چلنے والے جدید انفرا سٹرکچر میں تبدیل کرنے پر خرچ کر کے امریکہ ایک طویل عرصے کے لئے ایک مضبوط معاشی قوت بن جائے گا۔

ان کے بقول، “کسی سے کوئی قربانی دینے کو نہیں کہا جا رہا، یہ ایک موقع ہے”۔

کانفرنس میں شریک دیگر عالمی رہنماوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کو روکنے کے لئے اپنے ملکوں میں کئے جانے والے تجربات سے شرکا کو آگاہ کیا۔

کینیا کے رہنما نے بتایا کہ ان کے ملک میں مٹی کے تیل سے جلنے والے چولہوں سے جیو تھرمل پاور تک کا سفر کیسے طے کیا گیا۔

اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے بتایا کہ ان کے ملک میں سٹارٹ اپ کمپنیاں سولر اور ہوا کی توانائی سے چلنے والی بیٹریاں محفوظ کرنے لئے کیا کام کر رہی ہیں۔

صدر بائیڈن نے جمعرات کو کانفرنس کے آغاز پر امریکہ کی جانب سے سال 2030 تک کاربن کے اخراج میں 52 فیصد کمی لانے کا ہدف طے کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جنوبی کوریا، جاپان، کینیڈا اور جنوبی افریقہ نے بھی کاربن کے اخراج میں کمی کے نئے اہداف طے کرنے کا اعلان کیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1896 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *