کیا عمران خان اور جہانگیر ترین کے درمیان دوریاں ختم ہو سکیں گی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اہم لیکن ناراض رہنما جہانگیر خان ترین نے اسلام آباد سے رابطوں کی تصدیق کی ہے اور یہ دعویٰ کیا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے اشارہ ملنے پر انہوں اپنے حامی ارکانِ اسمبلی کے اعزاز میں افطاری کو منسوخ کیا ہے۔

ایک ماہ میں لگ بھگ یہ پہلا موقع ہے کہ جب جہانگیر ترین نے اسلام آباد سے رابطوں کے بارے میں کوئی دعویٰ کیا ہے۔

رواں ہفتے جمعرات کو عدالت میں پیشی کے موقع پر ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم عمران خان جلد ہی اُن سے اور اُن کے حامی اراکینِ اسمبلی سے ملاقات کریں گے۔

جہانگیر ترین کے حامی اراکینِ اسمبلی کا یہ مطالبہ رہا ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان جہانگیر ترین کے خلاف الزامات کی سچائی جاننے کے لیے اُنہیں ملاقات کا وقت دیں۔

جہانگیر ترین ان دنوں اپنے خلاف جعلی اکاؤنٹس اور چینی سٹے کے الزامات میں ضمانت پر ہیں اور عبوری ضمانت کی معیاد ختم ہونے پر انہیں پنجاب کے صوبائی دارالحکومت میں واقع دو مختلف عدالتوں میں پیش ہونا پڑتا ہے۔

جہانگیر ترین شروع شروع میں اپنے بیٹے کے ساتھ ہی ضمانت قبل از وقت گرفتاری کے لیے عدالت آئے لیکن پھر ان کے ساتھ ان کے حامی ارکان اسمبلی آنے لگے۔

پی ٹی آئی کے سینیٹر ولید اقبال سمجھتے ہیں کہ جہانگیر ترین کے خلاف جو بھی کارروائی ہو رہی ہے، وہ قانون اور آئین کے مطابق ہو رہی ہے اور جہانگیر ترین کو اس حد تک کوئی شکایت نہیں ہونی چاہیے کہ اُن کے خلاف کوئی ناانصافی یا زیادتی ہو رہی ہے کیوں کہ اُن کی جماعت کا نام ہی تحریکِ انصاف ہے اور وہ انصاف پر یقین رکھتے ہیں۔

اُنہوں نے مزید کہا اس مسئلے کے دو اہم پہلو ہیں جو کہ قانونی اور سیاسی نوعیت کے ہیں۔

ولید اقبال کے مطابق پی ٹی آئی میں کسی کو بھی ناانصافی کی شکایت کرنے کا موقع نہیں ہو گا۔ اُن کے بقول جہانگیر ترین اور اُن کی طرف سے کچھ ساتھی مبینہ طور پر ناانصافی اور زیادتی کا ذکر کر رہے ہیں۔

سینیٹر ولید اقبال نے کہا کہ تحریک انصاف کا نظریہ ہی یہ ہے جس کا 22 سال ذکر بھی کیا گیا کہ ملک میں طاقتور کے لیے قانون کچھ اور ہے اور کمزور کے لیے قانون کچھ اور ہے۔ ان کے بقول موجودہ حکومت کے دور میں قانون سب کے لیے یکساں ہے۔ جس کا اُن کو سامنا کرنا پڑے گا۔

پی ٹی آئی کے سینیٹر ولید اقبال مزید کہتے ہیں کہ وہ اور جماعت کے دیگر ارکان اِس بات سے قطعی طور پر بے خبر ہیں کہ اُن کے دماغ میں کیا چل رہا ہے اور وہ کیا کرنا چا رہے ہیں۔

ولید اقبال کے بقول جہانگیر ترین اور اُن کے ساتھی واضح طور پر جو کہہ رہے ہیں وہ یہی ہے کہ اُن کی بات کو پوری طرح سنا جائے اور اُن کے ساتھ ناانصافی نہ کی جائے۔

’جہانگیر ترین نے اپنی سیاسی طاقت دکھا دی ہے‘

سینئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس سمجھتے ہی کہ جہانگیر ترین نے اپنی سیاسی طاقت دکھا دی ہے اور کھل کر کہہ دیا ہے کہ اگر اُن کے خلاف کارروائیاں نہیں رکیں تو جہانگیر ترین نے جو سیاسی حمایت عمران خان کو فراہم کی تھی وہ واپس لے لیں گے۔

مظہر عباس کے بقول ایسی صورت میں جہانگیر ترین کا ساتھ کون لوگ دیں گے۔ وہ بھی وہ سامنے لے آئے ہیں۔

مظہر عباس سجھتے ہیں کہ اب گیند عمران خان کے کورٹ میں ہے کہ وہ اِس ساری صورتِ حال کو کس طرح لیتے ہیں۔

’عمران خان اور جہانگیر ترین کا تعلق ایک سیاسی مسئلہ بن چکا ہے‘

سینئر صحافی اور تجزیہ کار عارف نظامی کی رائے میں عمران خان اور جہانگیر ترین کا تعلق ایک سیاسی مسئلہ بن چکا ہے اور بقول ان کے جہانگیر ترین کے ساتھ 40 کے قریب ارکانِ پارلیمنٹ ہیں اگر وہ کھل کر سامنے آ جائیں تو عمران خان کی حکومت گر سکتی ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے عارف نظامی نے کہا کہ جہانگیر ترین عمران خان کو یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ مسئلہ کوئی اور ہے۔ جب کہ اُنہیں سیاسی طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

عارف نظامی کے بقول جہانگیر ترین عمران خان کو بتانا چاہ رہے ہیں کہ وہ کسی مافیا کا حصہ نہیں ہیں اور یہی غلط فہمیاں وہ عمران خان کے ساتھ ملاقات کر کے دور کرنا چاہ رہے ہیں۔

کیا دوریاں ختم ہوں گی؟

تجزیہ کار مظہر عباس سمجھتے ہیں کہ عمران خان اور جہانگیر خان ترین کے درمیان تلخیاں ختم ہو بھی جائیں تو وہ قریب نہیں آسکتے۔ ان کے بقول جب ایک مرتبہ دراڑ پڑ جائے تو وہ بڑی مشکل سے جاتی ہے۔ وہ ختم بھی ہو جائے تو نشان باقی رہتے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی مظہر عباس نے کہا کہ عمران خان اور جہانگیر ترین کا ایک دوسرے پر جو اعتماد کا رشتہ تھا وہ اب کافی حد تک متزلزل ہو گیا ہے۔ اُن کے مطابق لگتا نہیں ہے کہ یہ دوریاں ختم ہوں گی۔

اُن کے بقول اگر یہ مسئلہ حل بھی ہو جاتا ہے تو اِس میں زیادہ نقصان عمران خان کو ہوگا۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار عارف نظامی سمجھتے ہیں کہ یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ عمران خان اور جہانگیر ترین کے درمیان دوریاں ختم ہو سکیں گی یا نہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے عارف نظامی نے کہا کہ اب مسئلہ دوریاں نہیں ہے۔ جہانگیر ترین پر مقدمات بنے ہوئے ہیں۔ جن کو ختم کرنا زیادہ اہم ہے۔

عارف نظامی کا کہنا تھا کہ اُنہیں نہیں لگتا کہ جہانگیر ترین اِس حد تک جائیں گے کہ عمران خان کی حکومت کو گرا سکیں، لیکن دونوں طرف سے محاذ آرائی کی صورت حال ہے۔

ولید اقبال کہتے ہیں کہ جہانگیر ترین جو ارکانِ اسمبلی کی گنتی بتاتے ہیں کہ اِتنے ارکان اور اُتنے ارکان ہیں، یہ تمام باتیں ایوان کے اندر ہوتی ہیں۔ جو وہاں آئینی ترمیم، منی بل، اعتماد اور عدم اعتماد کے ووٹ کے وقت کی جاتی ہیں۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ اِس بات کو آئین نے بھی تحفظ دیا ہوا ہے کہ کوئی بھی رکن اپنی جماعت کے خلاف ووٹ نہیں دے سکتا۔ پریس کانفرنسوں اور اجلاسوں میں کوئی بھی بات ہوتی رہے جب کہ اسمبلی کے اندر جو قواعد ہیں اُن پر کافی سختی سے عمل کیا جاتا ہے۔

ولید اقبال نے کہا کہ اگر کوئی بھی سیاست دان اِس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو آئین کا آرٹیکل 63 اے اس کی وضاحت کرتا ہے۔

جہانگیر ترین کے خلاف کیس کیا ہے؟

گزشتہ ماہ پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین کے خلاف مبینہ مالیاتی فراڈ اور منی لانڈرنگ کا مقدمات درج کیے تھے۔

رپورٹ کے مطابق جہانگیر ترین نے سرکاری شیئر ہولڈرز کے پیسوں پر غبن کیا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جہانگیر ترین کی کمپنی ‘جے ڈی ڈبلیو’ نے دھوکے سے تین ارب 14 کروڑ روپے فاروقی پلپ ملز لمیٹڈ کو منتقل کیے ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق فاروقی پلپ ملز جہانگیر ترین کے بیٹے اور قریبی رشتہ داروں کی ملکیت ہے۔

ایف آئی آر درج ہونے کے بعد جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین نے لاہور کی سیشن عدالت سے عبوری ضمانتیں حاصل کر رکھی ہیں۔

عدالت میں جہانگیر ترین اور علی ترین نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایف آئی اے نے جھوٹے اور بے بنیاد مقدمے درج کیے ہیں۔ ان کے بقول اُنہوں نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا۔

کیا جہانگیر ترین کو این آر او ملے گا؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار عارف نظامی کہتے ہیں کہ موجودہ صورت حال میں عمران خان کو کوئی نہ کوئی راستہ نکالنا پڑے گا۔

اُن کے بقول عمران خان کو سوچنا پڑے گا کہ جہانگیر ترین کے ساتھ جو افراد ہیں اُنہیں اُن سے الگ کیسے کیا جائے۔

عارف نظامی کے بقول موجودہ صورتِ حال میں اصل نقصان عمران خان کا ہوا ہے اور یہی صورت حال جاری رہی تو آگے بھی اُنہی کا نقصان ہو گا۔

عارف نظامی سمجھتے ہیں کہ ایسی صورتِ حال میں جہانگیر ترین کا کوئی نقصان نہیں ہوا، بقول ان کے وہ تو سیاسی طور پر پہلے سے زیادہ نکھر کر سامنے آ گئے ہیں۔

مظہر عباس کے خیال میں اگر یہ مسئلہ حل ہو جاتا ہے تو ایک رائے یہ ہو گی کہ اگر جہانگیر ترین کو ریلیف ملتا ہے تو باقی لوگوں کو کیوں نہیں مل سکتا؟

اُنہوں کے کہا کہ اگر عمران خان نے نہ نہ کرتے ہوئے بھی جہانگیر ترین کو ریلیف دے دیا، جِس کے لیے پاکستان میں عام طور پر ‘این آر او’ کی ٹرم استعمال کی جاتی ہے تو ان کے بقول ایسا فیصلہ لینا عمران خان کے لیے آسان نہیں ہو گا۔

مظہر عباس کے بقول اگر عمران خان یہ فیصلہ نہیں کرتے تو اُن کی حکومت گِر سکتی ہے۔ جس کا اندازہ اُنہیں بخوبی ہے۔

مظہر عباس سمجھتے ہیں کہ عمران خان کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس حد تک جہانگیر ترین کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں۔

مظہر عباس کی رائے میں جہانگیر ترین نے اپنے کارڈز کھول دیے ہیں اور یہ نظر آ رہا ہے کہ اُن کے ساتھ جو لوگ ہیں اور جہانگیر ترین کے ساتھ کھڑے ہیں۔

جہاز سے کوسٹر

تحریکِ انصاف کی حکومت بننے سے قبل عمران خان، جہانگیر خان ترین کے جہاز کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔

گزشتہ دنوں جہانگیر ترین جہاز کے بجائے کوسٹر (بڑی ویگن) میں سفر کرتے دکھائی دیے۔ سیاسی تجزیہ کار اسے جہاز سے کوسٹر کا سفر قرار دیتے ہیں۔

مظہر عباس سمجھتے ہیں کہ اِس مسئلے میں یہ بھی اہم ہے کہ عمران خان کیا مؤقف اپناتے ہیں۔ اگر عمران خان جہانگیر ترین کے خلاف صاف اور واضح مؤقف لیتے ہیں تو بقول ان کے اِس کا نقصان ہو گا اور وقتی نقصان زیادہ ہو گا۔

اُن کے بقول اس صورت میں صوبہ پنجاب ان کے ہاتھ سے چلا جائے گا اور پی ٹی آئی کی حکومت گر بھی سکتی ہے۔

مظہر عباس کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت جاتی ہے تو وہ یہی مہم چلائیں گے کہ اُنہوں نے مافیا کے خلاف کارروائیاں کیں جس کے نتیجے میں اُن کی حکومت چلی گئی۔

عارف نظامی کے بقول اِس وقت جہانگیر ترین جہاز کی بجائے کوسٹر کو استعمال کرنا زیادہ مناسب سمجھتے ہیں جس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلے نمبر پر یہ کہ جہاز میں چار سے پانچ یا زیادہ سے زیادہ سات افراد سفر کر سکتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ کوسٹر پر عدالت آنا جہاز کی نسبت آسان ہے۔

عارف نظامی کے مطابق تحریک انصاف بطور جماعت عمران خان کے گرد گھومتی ہے۔ عمران خان کی پالیسیاں لوگ پسند کرتے ہیں اور جہانگیر ترین پی ٹی آئی کا حصہ ہے اور سرگرم کارکن اور ایک متحرک سیاست دان رہے ہیں۔

سینیٹر ولید اقبال اِس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ جہانگیر ترین جتنی دیر جماعت میں سرگرم تھے، اُن کی بہت سے خدمات ہیں۔

اُن کے بقول وہ جتنی دیر سرگرم رہے سیاسی اور انتظامی سطح پر پی ٹی آئی کو فائدہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک مؤثر سیاست دان ہیں جس میں کوئی شک نہیں۔

سیننیٹر ولید اقبال کہتے ہیں کہ کوئی بھی جماعت کسی بھی ایک شخص پر نہیں چل رہی ہوتی۔ اُن کے بقول پاکستان تحریک انصاف ایک بڑی سیاسی جماعت ہے اور وہ کسی بھی ایک شخص پر یوں انحصار نہیں کر سکتی۔

اُنہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اگر کسی ایک شخصیت پر انحصار کرتی ہے تو وہ عمران خان ہیں۔

چینی کی قیمتوں میں اضافے کی تحقیقات

واضح رہے کہ حکومتِ پاکستان نے گزشتہ برس 21 فروری کو ملک میں چینی کی قلت اور قیمتوں میں اچانک اضافے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی۔

کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق چینی کی برآمد اور قیمت بڑھنے سے سب سے زیادہ فائدہ جہانگیر ترین کے کاروباری گروپ کو ہوا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ چینی کی برآمد اور اس پر سرکاری رعایت (سبسڈی) دینے سے ملک میں چینی کی قلت کا سامنا رہا تھا۔

پچھلے سال 21 مئی کو چینی بحران پر فرانزک آڈٹ کرنے والے کمیشن کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں چینی کی پیداوار میں سب سے زیادہ 51 فی صد حصہ رکھنے والے چھ بڑے گروپوں کی تحقیقات کی گئی ہیں جن میں سے جے ڈی ڈبلیو، الائنس ملز اور العربیہ مل کے چینی پر اوور انوائسنگ کرتے ہوئے دو دو کھاتے پائے گئے اور یہی بڑے گروپ چینی کی بے نامی فروخت میں ملوث پائے گئے۔

کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد وزیرِ اعظم عمران خان نے گزشتہ برس سات جون کو شوگر کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں چینی اسکینڈل میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1938 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *