فلائٹ نمبر پی ٹی آئی 2018


25 جولائی 2018ء کو ایئرپورٹ پر تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ صبح سے شام تک مسافروں میں فلائٹ نمبر پی ٹی آئی 2018 میں سفر کر کے نئے پاکستان میں پہنچنے کی بے تابی نظر آ رہی تھی۔ میرے ذہن میں بالکل وہی سین آ گیا جو انگریزی فلم ”ٹائٹینک“ میں سفر کرنے کے لیے بے تاب مسافروں کا تھا۔ خیر رات ڈھل گئی ، اب 22 کروڑ میں سے کچھ تو نئی منزل کی خوشی میں شادیانے بجا رہے تھے اور کچھ مسافروں کو بادل نخواستہ سوار ہونا پڑ رہا تھا۔

ایسے میں کنٹرول ٹاور سے اعلان ہوا ”آج سے آپ کا جہاز مختلف امور میں مہارت رکھنے والے آکسفورڈ سے سند یافتہ کپتان کے ہاتھوں میں ہے ،جس کے پاس 22 سالہ تجربہ اور بہترین دماغ رکھنے والوں پر مشتمل ایکسپرٹ ٹیم موجود ہے“ ۔

اس کے ساتھ ہی ایئر ہوسٹس کی طرف سے باقاعدہ اناؤنسمنٹ کی جاتی ہے کہ فلائٹ نمبر پی ٹی آئی 2018 ٹیک آف کے لئے بالکل تیار ہے۔ تمام مسافروں سے درخواست ہے کہ وہ اپنی حفاظتی سیٹ بیلٹس باندھ لیں، آج سے ٹھیک 5 سال بعد یہ فلائٹ کنٹرول ٹاور کی مکمل نگرانی اور رہنمائی میں ریاست مدینہ کے پہلو میں واقع نئے پاکستان میں لینڈ کرے گی۔

(کاکپٹ سے بھی کپتان کی سحر زدہ آواز ابھرتی ہے ) ”میرے عظیم مسافرو! میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ اس قومی جہاز کو پچھلی کرپٹ کمپنیوں نے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ میرا آپ سے وعدہ ہے میں ان کو چھوڑوں گا نہیں۔ میری ٹیم کا اوپنگ بیٹسمین اپنے تجربے، علمیت اور قابلیت کی بنیاد پر اس جہاز کو پہلے 100 دنوں ہی میں آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دے گا۔“

مسافروں میں تو جیسے خوشی کی لہر دوڑ چکی تھی لیکن کچھ حسد کے مارے مسافر بار بار کپتان اور اس کی ٹیم کو دھوکے سے جہاز پر قبضہ جمانے پر برا بھلا کہہ رہے تھے۔

سو دن کی مسافت جوں ہی اختتام پذیر ہوئی ، کپتان کی کاکپٹ سے بڑبڑاہٹ سنائی دی ”یہ جہاز تو بالکل بھی ویسا نہیں جیسا میں نے سوچ رکھا تھا“ جھنجھلاہٹ کے مارے کپتان نے مسافروں پر پہلا بم گرا دیا۔ ”اس جہاز پر پچھلی حکومتوں کی مینوفیکچرنگ کمپنیوں کی کرپشن کے باعث 25 ہزار کے قرضوں کا اضافی بوجھ ہے جس کی وجہ سے اس کی رفتار متاثر ہو رہی ہے۔ مزید یہ کہ فیول کے ذخائر 14 ارب سے کم ہو کر 8 ارب ڈالر رہ گئے ہیں (مسافروں میں یک دم چیخ پکار)۔

حسد زدہ شرارتی مسافروں نے تو جیسے آسمان ہی سر پر اٹھا لیا۔ کپتان نے گرج کر ان کو وارننگ دی کہ وہ ان کو بالکل نہیں چھوڑے گا۔ ساتھ ہی باقی ماندہ مسافروں کو حوصلہ دیا کہ آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے جہاز تین تین ارب ڈالر کے فیول کے ساتھ بس پہنچا ہی چاہتے ہیں۔

یکایک کنٹرول ٹاور سے گھبرائی ہوئی آواز آئی ”جہاز کی رفتار امید سے بھی بہت کم دکھائی دے رہی ہے۔ فوری طور پر آئی ایم ایف سے رابطہ کیا جائے“

جہاز کے عملے نے حیرانی سے کپتان کی طرف دیکھا ”آئی ایم ایف؟ اور سوچا  لیکن وہ خود کشی؟

کپتان نے سارے عملے کو ہی جھاڑ پلا کر تبدیل کر دیا۔ سب کے سب نکمے نالائق۔ دس مہینوں میں 3710 ارب روپے کا امدادی فیول لے چکے ہیں ، ڈالر 139 کا کر دیا ، اس کے باوجود جہاز کی سپیڈ زیرو ہے۔

18 اپریل 2019 کنٹرول ٹاور: ”کپتان آپ کے اوپننگ پائلٹ نے آئی ایم ایف کے پاس جانے میں بہت سستی کا مظاہرہ کیا ہے۔ جس کی وجہ سے جہاز کو اربوں کا نقصان ہوا ہے۔ اس کو فی الفور فارغ کیا جائے“

کپتان صاحب اندر سے تلملائے تو بہت لیکن مرتے کیا نہ کرتے ، اپنے روایتی دبنگ سٹائل میں مسافروں کو آگاہ کرتے ہوئے گویا ہوئے ”میرے بہادر غیور مسافرو! مجھے افسوس ہے کہ میرا نہایت قابل پائلٹ گزشتہ چور، ڈاکو اور لٹیری قسم کی کمپنیوں کی بدعنوانیوں کی وجہ سے مطلوبہ پرفارمنس نہیں دے سکا ، لہٰذا ہنگامی بنیادووں پر اس جہاز کا کنٹرول اب ایک منجھے ہوئے نان الکٹیڈ پائلٹ کے ہاتھوں میں دیا جا رہا ہے۔ یہ چونکہ گزشتہ ادوار میں بھی مختلف کمپنیوں کے جہاز اڑاتے رہے ہیں، اس لیے پہلے کو۔پائلٹ کے مقابلے میں انھیں زیادہ بہتر اندازہ ہے کہ جہاز کا نظام کس طرح چلایا جاتا ہے“ ۔

اسی اثناء میں کنٹرول ٹاور سے ایک سوٹڈ بوٹڈ شخص ہاتھ میں ”بریف کیس“ تھامے نمودار ہوا۔ (اس کو دیکھتے ہی مسافروں میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔ یہ تو وہی ہے جس پر اس جہاز کو ڈبونے کا الزام تھا۔ آزمائے ہوئے کو کیوں لایا جا رہا ہے ۔) شر پسند مسافر تو باقاعدہ بازو ٹونگ کر آ گئے۔ نیا کو۔ پائلٹ نا منظور نا منظور ۔ یہ آئی ایم ایف کا ”ایجنٹ“ ہے

نئے آنے والے نے پائلٹ نے جب مسافروں کو آئی ایم ایف سے کامیاب مذاکرات سے آگاہ کیا اور خوشخبری دی کہ اس کے نتیجے میں 400 کے ٹماٹر اب 17 روپے کلو میں دستیاب ہیں ، مسافر تو پھولے نہ سمائے اور ہلڑ بازی بند کر دی۔ دوسری طرف جہاز میں کورونا کی افتاد اور مشرقی حصے میں جنات کے قبضے کی بدولت مسلسل فنی خرابی کی شکایت اور رفتار میں لگارتار کمی واقع ہو رہی تھی۔ مگر کپتان صاحب کی اٹھتے بیٹھتے بس ایک ہی کی رٹ تھی کہ میں ان مافیاز کو نہیں چھوڑوں گا۔ اور آنکھوں پر تو ایسا پردہ پڑا کہ الٹا امپورٹڈ پائلٹ کو لیگل کرنے کے لیے جہاز کے اپر ہاؤس کا اعزازی ٹکٹ دینے کی نوید سنا دی۔

سازشی مسافروں نے اب گٹھ جوڑ سے ایکا کر کے کپتان پر دھاوا بول دیا اور جہاز کے سٹاک میں رکھے اضافی آٹے اور چینی کی چوری کا الزام دھر دیا، ساتھ ہی مسافروں کو بجلی، پٹرول، گیس اور ادویات مہنگی دینے پر ہنگامہ برپا کر دیا۔

اس واویلے سے اب کپتان کے بھی ہاتھ پاؤں پھول چکے تھے۔ کپتان نے ہڑبڑا کر نئے کو پائلٹ پر ہی چڑھائی کر دی۔ ”جہاز کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اوپر اور جی ڈی پی گروتھ 2 سے بھی نیچے چلی گئی ہے اور ڈالر کی قیمت تو آسمان سے جا لگی ہے۔ اوپر سے آپ میرے الکٹیڈ عملے کے ترقیاتی منصوبوں کو رد کرتے ہیں۔ ان کا فون تک نہیں اٹھاتے۔ آپ کی پالیسیوں کی وجہ سے میرے ایک کروڑ نوکریوں اور 50 لاکھ گھروں کے وعدے بھی داؤ پر لگ چکے ہیں“

امپورٹڈ پائلٹ ہکا بکا کہ دو دن پہلے تک تو سب اشاریے ٹھیک جا رہے تھے۔ اس نے منماتی ہوئی آواز میں کپتان سے شکایت کی:“سر! آپ جہاز کے ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ کی طرح میرے کام میں بھی روڑے نہ اٹکائیں اور مجھے میرا کام آزادی سے کرنے دیں” لیکن کنٹرول ٹاور کو کون کنٹرول کرے ، وہاں سے اچانک ان کی برطرفی کے آرڈر صادر ہو گئے۔

کپتان شرمندہ شرمندہ مسافروں سے مخاطب ہوتے ہوئے: ”اس نان الکٹیڈ پائلٹ کو مہنگائی پر قابو نہ پا سکنے کی وجہ سے ہٹایا جا رہا ہے“ ۔

مسلسل ہچکولوں اور یو ٹرنز کی وجہ سے اب مسافروں میں بے چینی اور گھبراہٹ ناقابل برادشت ہوتی جا رہی تھی۔ کپتان نے اپنی بہترین ٹیم سپرٹ کے ساتھ اپنی بچی کھچی ہمت جمع کر کے مسافروں ایک ینگ پائلٹ کی آمد کی نوید دی جو ان کے مسائل اور تکلیفوں کو بہتر سمجھتا ہے۔ اس نوجوان پائلٹ نے آتے ہی اعلان جڑ دیا کہ انڈیا کے ساتھ ٹریڈ بحال کرتے ہوئے ہم چینی، دھاگے اور کپاس سے بھرے بوئنگ طیارے منگوا رہے ہیں۔

(مسافر جیسے ششدر رہ گئے ، انڈیا تو ہمارا دشمن ہے۔ کیا کشمیر پر ”سودا“ تو نہیں ہو گیا) کچھ ”سمجھ دار“ قسم کے مسافروں کی رائے میں پائلٹ کوئی بھی ہو ، یہ سب آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک اور فیٹف کی پالیسیوں کا کیا دھرا ہے۔ پائلٹ بدلنے سے کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ دو ہفتوں بعد ہی کنٹرول ٹاور سے پھر اعلان ہو گیا کہ جہاز کا پائلٹ ایک بار پھر عوام کے وسیع تر مفاد میں بدلا جا رہا ہے۔

کپتان کی بے بسی اب عروج پر دکھائی دے رہی تھی۔ باقی عملے کو ایک بار پھر اس تلملاہٹ میں اوپر نیچے کر دیا اور اتنا ہی کہہ سکے کہ وہ اس جہاندیدہ کو پائلٹ کو 35 سالوں سے جانتے ہیں اور چونکہ موصوف کپتان کے پرسنل ہسپتال کے بورڈ آف گورنرز کا بھی حصہ رہے ہیں ، لہٰذا پورا یقین ہے کہ یہ جہاز میں مزید استحکام لائیں گے اور بہترین حکمت عملی اور برق رفتاری سے جہاز کو اڑایا جائے گا (مسافروں میں پھر سے اضطراب۔ یہ تو وہی ہے جو کپتان اور اس کی کمزور ٹیم پر دل کھول کر تنقید کرتا تھا) ۔

شرارتی ٹولہ بہرحال اب تھک ہار کر تتر بتر ہو چکا تھا۔

قارئین! اتنے دھکوں ہچکولوں اور یو ٹرنز کے بعد ایک شارٹ انٹرول لے لیاجائے۔ ہوا کچھ یوں ایک پروفیسر صاحب انسانی جبلت پر سٹوڈنٹس کو لیکچر دیتے ہوئے ایک چوہے کے سامنے روٹی کا ایک ٹکڑا رکھتے ہیں اور دوسری طرف ایک چوہییا ہے۔ چوہا فوراً روٹی کی طرف لپکتا ہے۔ تین چار مرتبہ یہ تجربہ دہرانے پر چوہا ہر بار روٹی کی طرف ہی جاتا ہے۔

پروفیسر صاحب فاتحانہ انداز میں سٹوڈنٹس کی طرف دیکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس مثال سے آپ کو سمجھ آ گئی ہو گی کہ انسانی بھوک خواہش سے زیادہ سٹرانگ ہوتی ہے۔ ایک سٹوڈنٹ نے بڑی سنجیدگی سے مشورہ دیا۔ پروفیسر صاحب ایک بار چوہییا بھی بدل کر دیکھ لیتے۔
کہنا بس یہ تھا کہ بار بار پائلٹ اور ٹیم بدلنے سے بہتر نہیں ایک بار کپتان بھی بدل کر دیکھ لیا جائے ، شاید نتیجہ کچھ بہتر نکل آئے۔

Facebook Comments HS