پچاس کروڑ کا نیزہ

ارشد ندیم نے یہ کب سوچا تھا کہ اولمپکس میں اس کا پھینکا ہوا فقط ایک نیزہ اس کو ایک دن اس قوم کا ہیرو بنا دے گا۔ اس ایک نیزے کے بدلے پچاس کروڑ کا خیال تو شاید کبھی اس کے تصور کو بھی نہ چھو کر گزرا ہو گا۔ اور ایسی لش پش نو دس گاڑیوں کی بارات بھی کہاں اس کے فرشتوں نے کبھی دیکھی ہو گی۔ اور کم و بیش اتنے ہی اپارٹمنٹس۔ سبحان اللہ۔ لیکن

Read more

بدو بدی ہی سہی مگر اب بھانڈ ہی ہمارا لیول ہیں!

حال ہی میں ستر کی دہائی میں گایا جانے والا ملکہ ترنم کا ایک سپر ہٹ پنجابی گانا ”اکھ لڑی بدو بدی“ مابدولت، زی احترام اور ابھرتے ہوئے نہایت ٹیلنٹڈ اور خوش گلو گلوکار چاہت فتح علی کی خوبصورت، مسرور کن اور دلنشین آواز میں سننے کو ملا۔ اس ابھرتے ٹیلنٹ کو ابھارنے میں سارا کریڈٹ یقیناً اس ذہین، فطین، اعلی پائے کا ویژن اور شعور رکھنے والی قوم کو جاتا ہے۔ ملکہ ترنم کی روح کو تو اس عزت

Read more

عبد الباسط ہمیں تم پر فخر ہے

بلا آخر وہ خبر آہی گئی جس کا مجھے پچھلے تین سالوں سے انتظار تھا۔ پاکستان کا دوسرا مواصلاتی سیٹلائٹ پاک سیٹ ایم ایم ون 30 مئی کو چین سے خلا میں چھوڑا جائے گا ”(الحمدللہ) مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میری فیملی کا ایک ہونہار بچہ سپارکو ٹیم کے ساتھ اس مشن کا حصہ رہا۔ بالکل ایسے ہی جیسے پاکستان کے ہر محب وطن شہری کا سر اس خبر کو سن کر فخر سے بلند ہوا۔ عبدالباسط

Read more

فطرت بہترین دوست اور بدترین دشمن بھی

1983 میں میکسیکو کی ریاست ہائیڈالگو میں واقع چھوٹے سے گاؤں مولنگو ڈی ایسکاملا میں ایک حیرت انگیز واقعہ رونما ہوا۔ گاؤں والوں نے دیکھا کہ ان کا مقامی پانی کا ذریعہ جو کہ ایک چشمہ تھا خشک ہو رہا ہے۔ آنے والے پانی کے بحران کے پیش نظر انہوں نے ایک غیر متوقع حل کی طرف رجوع کیا اور وہ تھا درختوں کی کاشت۔ دیہاتیوں نے آس پاس کے پہاڑوں میں درخت لگانے کے ایک پرجوش منصوبے کا آغاز

Read more

امید بہار

امید کے گھڑیال کے گرد کوہلو کے بیل کی طرح گھومتی یہ نسلیں کون جانے کتنے سالوں کا سفر صدیوں میں طے کریں گی۔ سانحہ 9 مئی کے محرکات اور نقصانات پر پچھلے ایک سال سے اتنی بحث ہو چکی کہ یہ سبق اب ہر کسی کو ازبر ہو چکا۔ لیکن جتنی جگہ ہنسائی اس سانحے کے بعد اس ملک اور اس ملک سے جڑے ہر محب وطن کی ہوئی یہ داغ مٹتے ابھی کئی سال مزید لگیں گے۔ پہلے

Read more

کیا ہمیں بھی کبھی چھٹی ملے گی؟

عالمی دنوں کی فہرست میں سب سے زیادہ مضحکہ خیز دن مجھے ”یوم مزدور“ لگتا ہے جس کا مزدوروں کی فلاح و بہبود سے دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ لیکن اس کا اچھا پہلو یہ ہے کی اس کی وساطت سے ملک بھر میں صرف مزدور کو چھوڑ کر ہر خاص و عام کے لئے سرکاری تعطیل کی سہولت دستیاب ہوتی ہے۔ جس کا بھرپور فائدہ میرے جیسے خوش نصیب بھی بنا کسی لاجک کے مفتی میں

Read more

ایک اور کٹی گردن کا بوجھ

بھی تو نور مقدم کی کٹی گردن کا منظر آنکھ سے مٹا نہیں تھا کہ ایک اور گردن کا بوجھ اس ریاست کے کندھوں پر آن پڑا ہے۔ ابھی تو نور کی چیخوں کی بازگشت ہی تھمی نہ تھی کہ آصف کی دل سوز چیخوں سے دھرتی کانپ اٹھی ہے۔ اس سی سی ٹی وی کیمرے کی آنکھ بھی یقیناً اس غم انگیز منظر کو قید کرتے ہوئے ٙ خون کے آنسو روئی ہو گی۔ فرق بس اتنا ہے تب

Read more

ریموٹ کنٹرول گدھا

پچھلے ہفتے گاؤں سے اطلاع آئی کے فضلو چاچا چل بسے ہیں۔ اس خبر کو سنتے ہی مجھے پہلا خیال چاچا کے گدھے کا آیا کہ اب اس کا کیا بنے گا؟ فضلو چاچا ہمارے گاؤں کے کمہار تھے۔ بیوی جوانی میں ہی چل بسی تھی۔ ایک بیٹی تھی جو بیاہی جا چکی تھی۔ فضلو چاچا کا اب اپنے گدھے کے علاوہ اور کوئی نہ تھا۔ چاچا کی ٹانگ ایک حادثے میں ضائع ہو گئی تھی اور نظر بھی کمزور

Read more

آزادی سے غلامی تک کا سفر

حال ہی میں ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی کا ایک دلچسپ واقعہ نظر سے گزرا۔ ایک سیاسی ریلی کے دوران جب بھٹو تقریر کر رہے تھے تو ایک گائے نجانے کہاں سے اسٹیج پر آ گئی۔ گھبرانے کے بجائے، بھٹو نے فی البدیہہ کہا، ”یہاں تک کہ گائے بھی پی پی پی (پاکستان پیپلز پارٹی) میں شامل ہونا چاہتی ہے!“ یہ دلچسپ فقرہ ان کے سیاسی کیریئر کا یادگار لمحہ بن گیا۔ بھٹو نے تو وہ بات یقیناً ازراہ مذاق

Read more

آزادی سے غلامی تک کا سفر

حال ہی میں ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی کا ایک دلچسپ واقعہ نظر سے گزرا۔ ایک سیاسی ریلی کے دوران جب بھٹو تقریر کر رہے تھے تو ایک گائے نجانے کہاں سے اسٹیج پر آ گئی۔ گھبرانے کے بجائے، بھٹو نے فی البدیہہ کہا، ”یہاں تک کہ گائے بھی پی پی پی (پاکستان پیپلز پارٹی) میں شامل ہونا چاہتی ہے!“ یہ دلچسپ فقرہ ان کے سیاسی کیریئر کا یادگار لمحہ بن گیا۔ بھٹو نے تو وہ بات یقیناً ازراہ مذاق

Read more

گیارہ سو بٹا گیارہ سو

میٹرک، گیارہویں اور بارہویں جماعتوں کے بورڈ رزلٹس کا سیزن شروع ہوتے ہی نمبروں کی ایسے لائن لگی ہے کہ اپنی دماغی صحت پر شک سا ہونے لگا ہے۔ یکساں قومی نظام کے نام پر رچائے گئے ڈرامے کا ڈھونگ ہی کیا کم تھا کہ اب گیارہ سو میں گیارہ سو لینے والے نیوٹنز اور آئن سٹائنز پر مشتمل ایسی نایاب قوم تیار ہونا شروع ہو گئی ہے۔ جو 2030 تک ٹیکنالوجی اور ترقی کی دوڑ میں یقیناً چین اور

Read more

مجھے میرا مقدمہ خود لڑنا ہے

آزاد جموں کشمیر میں الیکشن کا میلہ سجتے ہی سرکاری و نیم سرکاری، جمہوری و غیر جمہوری اور سماجی کھڑپینچ اپنے اپنے سیاسی لیڈران کی نمائشی دکانیں سجا کر بیٹھ چکے ہیں۔ کوئی دن خالی نہیں جاتا جب آزاد ریاست کے کسی نہ کسی کونے سے شیر کی دھاڑ، بلے کی مار، تیر کے وار، گھوڑے کی رفتار اور ترازو کے افکار کا واویلا نہ سنائی دیتا ہو۔ ہر سیاسی جماعت کے اپنے لوکل مینوفیکچرڈ لیڈران کی پہلے ہی کیا کمی

Read more

مرد کوئی روبوٹ نہیں

مرد کوئی روبوٹ نہیں، اگر عورت کپڑے کم پہنے گی تو اس کا اثر تو ہو گا۔ یہ جواب ہے اس سوال کا جو وزیر اعظم عمران خان نے خواتین پر جنسی تشدد سے متعلق امریکی ٹی وی کو انٹر ویو کے دوران دیا۔ ایسے ہی ملتے جلتے نادر خیالات کا اظہار وہ رواں سال 4 اپریل کو قومی ٹیلی ویژن پر ایک سوال کے جواب پر بھی دیے چکے ہیں۔ جب ایک خاتون نے ان کی توجہ ملک میں بڑھتے ہوئے جنسی جرائم کی طرف دلائی تھی۔ بقول وزیر اعظم پاکستان کے ایسے کیسز ملک میں بڑھتی ہوئی فحاشی کی وجہ سے ہیں۔

Read more

ریاست کی منڈیروں پر بیٹھے یہ گدھ

کچھ دن پہلے ایک چھوٹی سی، غیر اہم، غیر سیاسی خبر نے میری توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ بی بی سی کی اس خبر کے مطابق کیلیفورنیا میں امریکی گدھوں کی ایک قسم (کینڈور) ایک گھر میں بن بلائے مہمان بن گئے۔ گھر کی مالکن انھیں گھر کی منڈیروں سے اڑانے کے لیے تالی بجانے اور شور مچانے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتی۔ گھر کی مالکن کی بیٹی نے ایک ٹویٹ میں لکھا: ’میری چھوٹی سی امی دس فٹ

Read more

بنا عروج کے زوال کا سفر

سن 1889 میں ایک امریکی بزنس مین جارج ایسٹ مین نے کوڈک کمپنی کی بنیاد رکھی۔ 1970 کی دہائی تک کوڈک فوٹوگرافی کی صنعت میں ایک لینڈ مارک بن چکی تھی۔ 1963 میں ایک ارب ڈالر کا بزنس کرنے والی کمپنی کے پاس نوے کی دہائی کے آخر میں عالمی بزنس کا 85 فیصد شیئر تھا۔ پھر اچانک یہ کمپنی تیزی سے زوال پذیر ہونا شروع ہو گئی اور 2012 میں کمپنی نے دیوالیہ ہونے کا اعلان کر دیا کیا۔ کوڈک جیسی کمپنی نے ایسی کون سی غلطی کی کہ چند سالوں میں ہی بند ہو گئی؟

Read more

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں

ایشیا کے دو بڑے ایٹمی دیوؤں چین اور بھارت کے درمیان کئی دہائیوں پر مشتمل سرحدی تنازعے کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا یہ تو وقت ہی طے کرے گا۔ لیکن دسمبر 2020 کے بعد سے اب تک اوپر تلے ہونے والے کئی واقعات سے یہ تو ثابت ہو گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت اب ایک دوسرے کے جانی دشمن نہیں رہے۔ بھارت کی تو پانچوں گھی میں ہیں۔ چین کے خلاف امریکہ بھائی بن گیا اور اس بھائی چارے میں جاپان اور آسٹریلیا بھی ساتھ ہو لیے۔

اور ان دونوں کے درمیان پس گیا ”کشمیر“ جس کے دونوں اطراف یہ جوہری طاقتیں قابض ہیں۔ لہو گرمانے والے بیانات کے ساتھ انڈیا کو ناکوں چنے چبوانے کے دعوے دار اب ”فرینڈلی دشمن“ کا کردار ادا کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اور اس خیال کو تقویت کچھ سنی ان سنی، کچھ ادھوری اور کچھ ”بند کمروں“ سے آنے والی ”آف دی ریکارڈ“ خبروں سے ملتی ہے۔ خبر تو یہ بھی زبان زد عام ہوئی کہ انڈیا کے ساتھ تعلقات میں بہتری اور تجارت خطے میں ترقی کے لئے ناگزیر ہو چکی ہے وگرنہ اندیشہ لاحق ہے ہم خطے میں ”تنہا“ نہ رہ جائیں۔

Read more

فلائٹ نمبر پی ٹی آئی 2018

25 جولائی 2018ء کو ایئرپورٹ پر تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ صبح سے شام تک مسافروں میں فلائٹ نمبر پی ٹی آئی 2018 میں سفر کر کے نئے پاکستان میں پہنچنے کی بے تابی نظر آ رہی تھی۔ میرے ذہن میں بالکل وہی سین آ گیا جو انگریزی فلم ”ٹائٹینک“ میں سفر کرنے کے لیے بے تاب مسافروں کا تھا۔ خیر رات ڈھل گئی ، اب 22 کروڑ میں سے کچھ تو نئی منزل کی خوشی میں شادیانے بجا رہے تھے اور کچھ مسافروں کو بادل نخواستہ سوار ہونا پڑ رہا تھا۔

ایسے میں کنٹرول ٹاور سے اعلان ہوا ”آج سے آپ کا جہاز مختلف امور میں مہارت رکھنے والے آکسفورڈ سے سند یافتہ کپتان کے ہاتھوں میں ہے ،جس کے پاس 22 سالہ تجربہ اور بہترین دماغ رکھنے والوں پر مشتمل ایکسپرٹ ٹیم موجود ہے“ ۔

Read more