بھارت میں کورونا کی قیامت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس وقت بھارت میں عام لوگوں کی حالت اور ان کی بے بسی دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ کورونا کی تیسری لہر نے ہمارے پڑوسی ملک میں جو تباہی اور افراتفری مچا رکھی ہے اس نے ساری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ بھارت کے مختلف علاقوں میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد کم ہونے کے بجائے روزبروز بڑھتی چلی جا رہی ہے اور بھارت دنیا میں کورونا کے پھیلاؤ کا نیا مرکز بن رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ صرف ایک دن میں یعنی جمعرات بائیس اپریل کو کووڈ 19 سے 3 لاکھ 8 سو 35 بھارتی شہری متاثر ہوئے اور یہ ایک ہی دن میں اس وبا سے متاثر ہونے والوں کی دنیا کے کسی بھی ملک میں سب سے بڑی تعداد ہے۔ یہ تعداد حکومت کی جانب سے بتائی گئی ہے، لیکن متاثرین اور ہلاک شدگان کی صحیح تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ ٹیسٹ کی سہولیات ضرورت کے مقابلے میں بہت کم ہیں اور اسپتالوں میں گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے کتنے ہی متاثرین گھروں میں جان دے رہے ہیں۔

بھارت میں ایک طرف تیزی سے پھیلتا اور لوگوں کو زندگی سے محروم کرتا کورونا ہے، دوسری طرف صحت کے اتنے کم وسائل جو معاشی ترقی اور ”چمکتے انڈیا“ کے دعویدار ملک کے لیے شرم کا باعث میں ہیں۔ اسپتالوں میں آکسیجن کی کمی کے حوالے سے کچھ دنوں پہلے دہلی ہائی کورٹ میں ایک درخواست کی سماعت ہوئی۔ یہ درخواست دہلی کے ایک اسپتال کی انتظامیہ کی طرف سے عدالت میں داخل کی گئی، جس میں کہا گیا ہے اسپتال میں داخل ہونے والے سیکڑوں مریضوں کو آکسیجن کی اشد ضرورت ہے، لیکن اسپتال میں آکسیجن کا اسٹاک ختم ہونے کے قریب ہے۔

اسپتال کی انتظامیہ نے دو روز قبل ہی انتظامیہ کو بتا دیا تھا لیکن اس کے باوجود جب کوئی بندوبست نہیں ہوا تو عدالت سے رجوع کیا گیا۔ اس درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے مودی حکومت کی کارکردگی پر سخت الفاظ میں برہمی کا اظہار کیا اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت آخر عوام کی زندگیوں کے بارے میں اس قدر لاپروا اور بے حس کیسے ہو سکتی ہے؟ ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ، ”حکومت زمینی حقائق سے آخر اس قدر غافل کیوں ہے؟ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے آپ لوگوں کو اس طرح مرنے کے لیے نہیں چھوڑ سکتے۔ بھیک مانگ کر، ادھار یا پھر چوری کر کے جیسے بھی بن پڑے، آکسیجن کا انتظام کریں، یہ آپ کا کام ہے۔“

اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بھارت میں کورونا کی وبا کے متاثرین کتنی افسوسناک صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ وائرس کے متاثرین میں نہایت تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے ملک کے اسپتالوں کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جن کے پاس گیس کا ذخیرہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اگرچہ وزیراعظم نریندر مودی نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی حکومت آکسیجن کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ریاستی حکومتوں اور نجی کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے، لیکن ان کا یہ دعویٰ اب تک پورا ہوتا نظر نہیں آیا۔ بھارت سے متعلق کورونا کے متاثرین کے حوالے سے دل دکھانے والی خبریں، تصویریں اور وڈیوز ہر روز عالمی میڈیا کا حصہ بن رہی ہیں۔ ان خبروں کے مطابق شمشان گھاٹوں میں مردے جلانے کے لیے جگہ نہیں بچی ہے۔ اس ضمن میں سامنے آنے والی ایک تصویر دل دہلا گئی، جس میں

بیسیوں چتائیں ایک ساتھ جلتی نظر آ رہی ہیں، اور ان کے اردگرد سیکڑوں دیگر چتائیں جو کچھ دیر پہلے ہی جلائی گئیں، راکھ بنی دکھائی دے رہی ہیں۔

آکسیجن کی قلت اور اسپتالوں میں جگہ کی کمی تو اموات کا سبب بن ہی رہی ہے، لیکن بھارت میں نظام صحت کے نقائص بھی صورتحال کو سنگین بنانے میں اپنا رنگ دکھا رہے ہیں۔ اس کی ایک مثال بھارت کی امیر ترین ریاست مہاراشٹر کے شہر ناسک میں پیش آنے والا دردناک واقعہ ہے، جب ایک سرکاری اسپتال میں آکسیجن کے سلنڈر کے لیک ہونے سے کورونا وائرس کے 24 مریض ہلاک ہو گئے۔

ایک طرف بھارت میں کورونا کی تیسری لہر کسی بلا کی طرح لوگوں کی جانیں نگل رہی ہے، صورتحال کی وجہ سے ہر طرف پریشانی پھیلی ہوئی ہے اور سوگ کی کیفیت ہے، دوسری طرف اس صورتحال سے بے اعتنائی کا یہ عالم ہے کہ ملک پر کووڈ 19 کے شدید حملے کے باوجود ہندومت کا مشہور کمبھ میلہ پوری شان سے منعقد ہوا جس میں پورے ملک سے لاکھوں کی تعداد میں شرکت کی۔ اس میلے میں شریک ہونے والے کتنے ہی افراد کا ٹیسٹ مثبت آیا۔ یہ تو خیر دھرم کا معاملہ تھا، جس میں مداخلت کر کے مودی سرکار اپنا ووٹ بینک نہیں گھٹا سکتی، لیکن کورونا کے شکار دیش میں سیاست میں پوری آب و تاب سے جاری ہے۔

ان ہی دنوں میں جب پورے بھارت میں کرونا وائرس نے قیامت مچا رکھی ہے، ریاست مغربی بنگال میں انتخابات کا چھٹا مرحلہ منعقد ہوا، جس کے انعقاد سے پہلے بھرپور انتخابی مہم چلائی گئی، سیاست دانوں نے بڑی بڑی ریلیاں نکالیں اور جلسے کیے، جن میں لاکھوں لوگوں نے بناء ماسک پہنے اور سماجی فاصلے کا ذرا بھی خیال رکھے بغیر شرکت کی۔ ریلیاں نکالنے والے ان سیاسی راہنماؤں میں ملک کے وزیرداخلہ امیت شاہ بھی شامل تھے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ بھارتی حکومت کو عوام کی جانوں سے کہیں زیادہ اپنی سیاست عزیز ہے۔

بھارت میں آکسیجن سیلنڈروں اور طبی وسائل کی کمی کے باعث کورونا متاثرین کی ہلاکتیں بھارت کی سرکار کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ بھارت نے عالمی طاقت بننے، پاکستان کو زیر کرنے اور چین کو نیچا دکھانے کے لیے اسلحے کے جو ڈھیر لگائے ہیں، ان کے بجائے صحت کی سہولیات پر توجہ دی ہوتی تو بھارت کے غریب شہری آج یوں بے بسی کی موت نہ مر رہے ہوتے۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ دہلی سرکار ہمیشہ سے ہی اسلحے کی دوڑ میں آنکھیں بند کر کے بھاگتی رہی ہے، اور نریندر مودی کی انتہاپسند حکومت آنے کے بعد تو یہ رویہ جنون کی شکل اختیار کرچکا ہے۔

ماضی میں جو بھی ہوا، اب بھارت کے حکم رانوں، سیاست دانوں، جرنیلوں اور ہر وقت عوام کو اشتعال لانے پر تلے جنگجو بھارتی میڈیا کو سوچنا ہو گا کہ ان کے اس جنون کی قیمت بھارت کے مفلس باسی ادا کر رہے ہیں، وہ اپنی جانیں دے کر، ایک ایک سانس کے لیے ترستے ہوئے تکلیف دہ موت کے ساتھ ختم ہو رہے ہیں۔ قدرت نے اس وبا کے ذریعے بھارت سمیت دنیا بھر کی اقوام کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اپنے وسائل جنگ اور اسلحے پر لگانے کے بجائے عوام کو صحت و تعلیم کی سہولیات فراہم کرنے اور غربت دور کرنے پر خرچ کریں، دنیا کو تباہی سے بچانے کا یہی واحد راستہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *