آخر ہندو لڑکیاں ہی کیوں مسلمان ہوتی ہیں؟

لاڑکانہ کی نوجوان ہندو لڑکی آرتی بائی 5 اپریل بروز پیر اچانک کہیں گم ہو گئی پانچ دنوں کے بعد پتا چلا کہ آرتی اب ”عائشہ“ بن چکی ہے، وہ لاڑکانہ سے کراچی چلی گئی تھی جہاں جاکر اس نے مذہب تبدیل کیا اور ایک مسلمان لڑکے سے شادی کرنا چاہتی تھی۔

اس معاملے پر سندھ میں ہندو برادری میں سخت پریشانی کی لہر دوڑ گئی، سندھ اکثر ہندو اپنی بچیوں کے حوالے سے سخت تذبذب کا شکار ہیں، سندھ کی سول سوسائٹی بھی ہندو لڑکیوں کے اغوا اور ان کے زبردست مذہب کی تبدیلی پر فکرمند ہے۔ یہ ایک نہایت پیچیدہ مسئلہ ہے جس کے کئی عوامل ہیں، ان معاملات کو سلجھانے سے پہلے سمجھنا بھی الجبرا کی طرح مشکل ہے۔

ایسے معاملات چونکہ کافی سالوں سے پے درپے ہوتے رہے ہیں، اس لئے سندھ جیسی صوفیانہ دھرتی کے لئے باعث ننگ و عار سمجھے جاتے ہیں۔ صاف ظاہر ہے اہم ہندو رہنما، دانشور اور ایسے معاملات پر کڑی نظر رکھنے والوں ہندو مکھی اور تاجر طبقہ بھی بہت فکرمند ہے۔

یہ بھلا کیسے ممکن ہے کہ صرف ہندو لڑکیاں اور وہ بھی غیر شادی شدہ، خوبصورت اور پڑھی لکھی ہی مسلمان ہو رہی ہیں، حتی کہ چند نابالغ اور غیر خواندہ ہندو لڑکیاں بھی اسلام کی حقانیت کو پرکھ لیتی ہیں۔ جبکہ ہندو نوجوان لڑکے، مرد دانشور، وکیل، افسر، تاجر اور ساری عمر گزار چکے بوڑھے ہندو کبھی مسلمان نہیں ہوتے۔ جہاں مسلمان خود مسلکی چکر میں ایک دوسرے کو کافر قرار دے کر اسلام سے خارج کرنے لگتے ہیں وہاں ہندو لڑکیاں جوق در جوق حلقہ اسلام میں داخل ہو رہی ہیں۔ اس صورتحال نے سب کو حیران اور پریشان کر کے رکھا ہے۔

اصل مسئلہ کیا ہے، یہ تو سمجھنا اور ایک ہی رائے قائم کرنا آسان کام نہیں ہو گا، مگر دو تین مختلف رائے قائم کی جا سکتیں ہیں۔

تھرپارکر کے سماجی رہنما اور سندھ کے مہا ہندو سنت شاعر ”سامی“ کے نام پر ”سامی فاؤنڈیشن“ بنانے والے گووند رام مالہی کا کہنا ہے کہ ”سماج ترقی اور تبدیلی کی راستے پر چلتا رہتا ہے، قومی یا مذہبی سطح پر بنیاد پرستی سماج کو آگے بڑھنے نہیں دیتی، جب تک سماج کا متوسط طبقہ اس تبدیلی کو قبول نہیں کرتا اس تبدیلی کو ناستک، بدعت، الحاد یا کفر سمجھتا رہتا ہے۔ جبکہ سماج کا امیر طبقہ خود کو ان تمام معاملات سے ہی مبرا سمجھتا ہے۔“

گووند رام کا کہنا ہے کہ عورت کا اغوا ہونے کا جرم ہر سماج موجود ہے، سندھ میں تو زیادہ جھگڑالو برادریوں کی عورتیں بھی زیادہ اغوا ہوتی ہیں، لڑکیوں کو بھگا کر شادی کرنے رواج بھی اسی سماج میں موجود ہے، روز اخبار میں ایسی خبریں ملتی ہیں، سندھی اخبارات میں تو ”دھیان طلب“ جیسے ایسے اشتہار مزے لے کر پڑھے جاتے رہے ہیں جس میں کوئی لڑکی کہتی ہے کہ ”میں فلاں بنت فلاں عاقل، بالغ، آپ وکیل دو جوڑوں میں اپنے گھر سے نکل آئی ہوں کیوں کہ میرے والد میری شادی میری مرضی کے سوا مجھ سے بڑی عمر کے شخص سے کروا رہے تھے، اب میں نے دین محمدی کے تحت فلاں بن فلاں سے شادی کرلی ہے، یہ بیان۔ رکارڈ پر رکھا جائے۔“ کاروکاری کا چکر اس کے علاوہ ہے، جس میں تو پورا سماج مل کر مرد اور عورت کو جرگہ کر کے مار دیتا ہے۔

ہاں یہ خبر اخبار، ٹی وی اور سوشل میڈیا کی زینت تب بنتی ہے جب کوئی ہندو لڑکی مسلمان ہو کر شادی کرے، کوئی سید لڑکی گھر سے بھاگ کر امتی سے شادی رچا لے یا پھر کسی سردار، وڈیرے یا با اثر کے گھر کی عورت گھر چھوڑ کر چلی جائے۔

مگر اصل سوال یہ ہے کہ کوئی عورت بھاگتی ہی کیوں ہے؟ یہ جانتے ہوئے بھی کہ گھر سے بھاگ جانے کی صورت میں زندگی وبال بن جائے گی، اور اس سماج میں بھاگنے کی سزا موت ہے، پھر بھی گھر سے کیوں بھاگ جاتی ہے؟ ”اس بات کے بھی کئی عوامل ہیں، پسند کی شادی نہ کروانا، لڑکیوں کی شادی ہی نہ کروانا، جہیز کا بندوبست نہ کر سکنا، کوئی اور لڑکا پسند آجانا، کسی سے جنسی روابط رکھ لینا اور کئی ایسے ہی اور عوامل ہوسکتے ہیں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سندھ میں ہندو لڑکیوں کو جبری طور پر مذہب کی تبدیلی، جبری شادی اور اغوا کر کے شادی کرنے جیسے قبیح مسائل کا سامنا ہے، اور میاں مٹھو یا پیر سرہندی کی درگاہیں ایسے کام کے لئے بدنام رہی ہیں جہاں مبینہ طور پر کوئی بھی مسلمان نوجوان کسی پسند آئی ہندو لڑکی کو بھگا کر یا اغوا کر کے لے آئے، باقی آگے کا کام درگاہ کا ہے۔

اک سوال کہ ”کیا ہندو لڑکیاں بھی گھر سے بھاگ جاتی ہیں، یا ان کو ورغلا کر گھر سے بھگایا جاسکتا ہے۔ آخر ہندو لڑکیاں ہی کیوں مسلمان ہوتی ہے، ہندو مرد اس خوش قسمتی سے کیوں محروم ہیں؟“ کے جواب میں گووند رام مالہی کا کہنا ہے کہ ”میرا یہ خیال نہیں بلکہ یقین ہے کہ یہ معاملہ سرے سے مذہبی ہے ہی نہیں، بلکہ یہ تو ایک سماجی مسئلہ ہے، جسے زبردستی مذہبی طریقے سے ڈیل کرنے اور اس کا حل ڈھونڈنے کی کوشش میں اور پیچیدہ بنایا جاتا ہے۔“

گووند رام مالہی کا کہنا ہے کہ ”یاد رہے کہ ہندو ازم بنیادی طور پر مذہب یا دھرم نہیں بلکہ اس خطے میں رہنے والوں کی، جغرافیائی شناخت ہے جو ہزاروں سالوں کی انسانی تاریخ اور ثقافت کا نچوڑ بھی ہے، جہاں انسان کو ہر قسم آزادی اور آسانی فراہم کی گئی ہے، جہاں نہ تو گناہ اور ثواب کا طے شدہ نظام ہے، نہ ہی پنڈت اور مہاراج کے پاس وہ اختیارات ہیں جو کسی مفتی، ربی اور پادری کے پاس ہیں، اور ہاں سناتن دھرم میں راون کی صورت میں فرعون اور شداد تو ہیں شیطان ہے ہی نہیں، بلکہ خدا بھی آسمانوں کے بجائے دھرتی پر انسانوں کے ساتھ رہتا ہے، اس سے بڑی یہ بات کہ انسان کو یہ تک آزادی دی گئی ہے کہ جس چیز میں بھی خدا کا عکس پا لو اس چیز سے عشق کرو یا اس چیز کو پوجنا چاہو تو آپ کو اجازت ہے۔

سندھ صوفیا اور سنتوں کی دھرتی ہے اس میں سخت گیری کسی بھی مذہب سے قبول نہیں کی گئی، یہ دھرتی تیرہ صدیوں سے اپنی شناخت کی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے، اور ابھی تک کامیاب رہی ہے۔ سندھ کے عظیم مسلمان صوفیا شاہ عبداللطیف بھٹائی، سچل سرمست، سنت سامی، شہید مخدوم بلاول، موہن بھگت، کنور رام، شاہ عنایت شہید، روحل فقیر، جانن چن، سائیں جی ایم سید، شیخ ایاز، استاد بخاری تک سینکڑوں عالم اور اثر رکھنے والوں نے نفرت اور جھگڑے کے بجائے پیار اور محبت کا درس دے کر اک خاص نظام کو جنم دیا ہے جس کو سندھیت کہتے ہیں۔

گووند رام مالہی کا کہنا ہے کہ ”مجھے اس بات سے مکمل اتفاق نہیں کہ سندھ میں ہندو لڑکیوں کو شادی کے لئے اغوا کیا جاتا ہے، یہ ممکن بھی نہیں، سندھ میں ہندو کمیونٹی کی عورت کو اغوا کرنے کے لئے ہاتھ لگانے کا مطلب یہاں کی روایات کو توڑنا ہے۔ مجھی یقین ہے کہ سندھ میں ہندو لڑکی کو ورغلایا جاتا ہے، اسے بلیک میل کیا جاتا ہے، گھر سے بھاگ آنے پر اکسایا جاتا ہے اور اسے مستقل طور پر اپنے پاس رکھنے کے لئے مسلمان کیا جاتا ہے۔

ماضی میں ایسے کئی مثالیں موجود ہیں جہاں اگر کوئی مسلمان ہندو عورت کو ورغلا کر یا بھگا کر لایا تو خود مسلمان وڈیرے اور دینی عالم ان لڑکے کو مجبور کرتے تھے کہ ہندو لڑکی کو عزت سے اپنے گھر واپس چھوڑ آئے، یا سماج خود اس لڑکی کو واپس لاتا اور معافی بھی مانگتا تھا۔ مگر اس خوبصورت روایات والے سماج کو میاں مٹھو اور پیر سرہندی جیسے سخت گیر ملاؤں نے تباہ کر دیا۔ اب یہ درگاہیں ہندو لڑکیوں کے قید خانے بن چکی ہیں، جہاں بہلا پھسلا کر یا ورغلا کر لائی گئی ہندو لڑکیوں کو جیسے قید کیا جاتا ہے، اور ان کی واپسی کی تمام امیدیں دم توڑ جاتی ہیں۔ ہمارے مسلمان بھائی اسلام کی خدمت اعلیٰ اخلاقیات، کردار اور زہد و تقویٰ کے ساتھ بھی کر سکتے ہیں مگر ان کو غیر مسلم مردوں کو مسلمان بنانے میں دلچسپی ہی نہیں، ان کو ہندو لڑکیاں ہی آسان ہدف لگتی ہیں۔ بغیر کسی منگنی، مایوں، مہندی، ولیمے اور دعوت کے سیدھا سیدھا کلمہ پڑھا کر نکاح کر دیتے ہیں۔

گووند رام کا کہنا ہے کہ اس معاملے کے اور بھی کئی پہلو ہیں جیسا کہ سندھ میں رہنے والی ہندو کمیونٹی کو معاشی اور معاشرتی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ سندھ کے ساحلی اور صحرائی علاقوں میں رہنے والے 80 فیصد سے زیادہ ہندو معاشی طور پر بہت غریب اور مزدور پیشہ یا خانہ بدوش ہیں، جن میں مینگھواڑ، اوڈ، کوہلی، بھیل، باگڑی اور دیگر برادریاں شامل ہیں۔ ان برادریوں کی اکثریت تھرپارکر میں رہتی ہے، جبکہ محنت مزدوری کے لئے دوسرے اضلاع میں آتی جاتی رہتی ہیں۔

دوسری طرف اپر سندھ کے اضلاع لاڑکانہ، شکارپور، دادو، جیکب آباد، گھوٹکی، سکھر اور میرپور، ماتھیلو میں رہنے والے ہندوؤں کی اکثریت مالی طور پر بہت مستحکم ہے، وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ، کاروباری، تاجر اور سیاست میں بھی بہت اثر رکھتے ہیں، سندھ کی زیادہ تر امیر سمادھیاں، مندر، دھرم شالا اور مراکز بھی ان اضلاع میں ہیں۔ یہاں کے ہندو سرکاری اداروں، سیاسی پارٹیوں، پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا سے لے کر سندھ کی سول سوسائٹی میں بھی بہت اثر رکھتے ہیں۔

سچ بات یہ ہے کہ تھر میں رہنے والی ہندو برادریاں زیادہ مشکلات کا شکار ہیں، وہ مسلمان زمیندار کے کھیتوں میں ایسے نوکر کی طرح کام کرتے ہیں جن کے بچوں اور عورتوں کو جانوروں کی طرح ہانکا جاتا ہے، یہ بات بھی سچ ہے کہ ان علاقوں ہندوؤں کے طرح غریب برادریوں کی مسلمان مزدوروں کی عورتیں بھی ایک رات کے لئے اٹھائی جاتی ہیں، آدھی بوری گندم یا پھٹی / کپاس کے بدلے ان کی عصمت دری کی جاتی ہے۔ مگر وہاں کسی ہندو عورت کو شادی کے لئے بھگایا نہیں جاتا، یا اس قابل ہی نہیں سمجھا جاتا، کمزور اور غریب اوڈ، بھیل اور باگڑی قبیلے کی عورتوں کو ہوس کا نشانہ تو بنایا جاتا ہے مگر ان کے مسلمان بنانے میں کسی مسلمان بھائی کو زیادہ دلچسپی نہیں ہوتی، کیونکہ وہ ان سے شادی کر کے اپنے گھر کا حصہ نہیں بنانا چاہتے۔

دوسری طرف اپر شمالی سندھ کی معاشی طور پر بہتر یا امیر ہندو فیملیز اپنی اعلی تعلیم، سماجی اثر رسوخ اور سماج میں برابری کی جگہ ملنے کے باعث معتبر سمجھے جاتے ہیں۔ جس طرح لاڑکانہ، کندھ کوٹ، جیکب آباد، شکارپور اور کشمور کے کئی ہندو سندھ کے کافی وڈیروں سے زیادہ اثر رسوخ رکھتے ہیں اسی طرح ہندو سنتوں کی سمادھیاں کئی مسلمان درگاہوں اور مزاروں کی طرح یا ان سے بھی زیادہ طاقتور اور با اثر ہیں۔ یہاں اگر کسی ہندو عورت کا کسی مسلمان مرد یا مسلمان عورت کا کسی ہندو مرد کے ساتھ عشق وشق ہو جائے تو ان دونوں کے پاس دو ہی راستے ہیں، بغیر کسی کو بتائے اپنے ذاتی رابطے استوار رکھیں، موقع ملنے پر یاری دوستی یا جنسی معاملات بھی چلاتے رہیں، یا پھر مذہب تبدیل کریں اور شادی کر لیں۔ اب شادی کی لئے مذہب تبدیل کرنے کی قربانی ہر صورت میں ہندو مرد یا عورت کو ہی دینی پڑے گی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words