کس نے سکھائے کافروں کو آداب انسانیت؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کافروں کا صیغہ اس لیے استعمال کیا گیا ہے کیونکہ بطور مسلمان ہم خود کو انوکھی اور قابل فخر قوم سمجھتے ہیں۔ ہماری نظر میں ہمارے علاوہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا، چاہے کوئی مریخ پر زندگی کے اثرات ڈھونڈنے میں مصروف ہو یا انسانیت کو بلندی عطا کرنے کے لیے تگ و دو کر رہا ہو۔ ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم موجودہ دور میں ہر میدان میں پیچھے جا چکے ہیں اور جنہیں ہم کفار مخاطب کرتے ہیں، وہ ہمیں لتاڑ کر بہت آگے جا چکے ہیں اور لمحۂ موجود میں دنیا کی امامت کا فریضہ بھی سر انجام دے رہے ہیں مگر ہم ٹھہرے عظمت رفتہ کے قیدی اور اسی چھوٹے سے حصار میں بہت خوش و خرم طریقے سے کفار کی عطا کردہ ٹھاٹ باٹ کو بھرپور طریقے سے خوب انجوائے کر رہے ہیں۔

گزشتہ دنوں ڈاکٹر خالد سہیل کا ایک کالم نظر سے گزرا جس میں انہوں نے دنیا کے مہذب ممالک خاص طور پر کینیڈا کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ کیسے یہ ممالک اپنے عوام کے لیے فکرمند ہوتے ہیں اور انہیں ہر ممکن حد تک سہولیات دینے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔ صدیوں کے تجربات سے وہ یہ جان چکے ہیں کہ عوام کسی بھی ریاست کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں اور اسی اثاثہ کی فلاح و بہبود کے لیے وہ دن رات کوشاں رہتے ہیں۔

ڈاکٹر سہیل کا کہنا تھا کہ
1۔ مہذب ممالک اور حکومتوں نے اپنے شہریوں کی زندگی میں بہت ساری آسانیاں پیدا کی ہیں۔
2۔ کینیڈا میں بچوں کی تعلیم کا مفت انتظام ہے۔
3۔ اب یورپ کے کئی ممالک میں پرائمری سکول سے یونیورسٹی تک تعلیم مفت ہے۔
4۔ کینیڈا میں ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کا علاج ہر شہری کے لیے مفت ہے۔

5۔ کینیڈا میں اگر کسی شہری کے ساتھ رنگ، نسل، مذہب یا زبان کی وجہ سے تعصب برتا جائے تو وہ اپنے حقوق کے لیے حکومت سے رجوع کر سکتا ہے۔
6۔ کینیڈا میں اگر وزیر بھی ٹریفک کی قانون شکنی کرے تو پولیس اسے جرمانہ کرتی ہے، کوئی بھی سیاسی یا مذہبی رہنما قانون سے بالاتر نہیں۔
7۔ کینیڈا میں معذور افراد کے لیے وہیل چیئر کے ساتھ ساتھ خصوصی پارکنگ کا بھی انتظام کیا جاتا ہے تاکہ معذور افراد عزت نفس کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں۔

یہ سب کچھ پڑھنے کے بعد سوچنے پر مجبور ہیں کہ کفار آداب انسانیت کے کس اونچے مرتبے پر فائز ہیں جبکہ ہم آج کہاں کھڑے ہیں؟ ہمارا معیار انسانیت کیا ہے؟ روسی وزیر خارجہ بارش سے بچنے کے لیے اپنی چھتری خود اپنے ہاتھ میں تھام کر طیارے سے باہر آتا ہے جبکہ ہمارے وزیر خارجہ کے لیے یہ فریضہ ایک ملازم سر انجام دیتا ہے شاید ہم ابھی تک سلطنت عثمانیہ کے سحر میں مبتلا ہیں۔ حیرانی کی بات ہے کہ کفار اپنے معذور شہریوں کی عزت نفس کا بھی خیال کرتے ہیں جبکہ ہم؟

خالی باتوں یا دعوؤں کا راگ الاپنے سے کوئی قوم بہتر نہیں بن سکتی، قوموں پر سرمایہ کاری کرنا پڑتی ہے۔ افرادی قوت کو خوشحال بنانے کے لیے یکساں اور برابر کے مواقع فراہم کرنا پڑتے ہیں۔ مہذب ملکوں کا اپنے شہریوں کے لیے اتنا ہمدردانہ رویہ، ہمیں تو یہ سب باتیں خواب لگتی ہیں۔ یہاں تو نظام تعلیم سے لے کر ہر نظام کئی حصوں میں تقسیم ہے۔ ایلیٹ کلاس کے لیے الگ نظام ہے جبکہ غربا کے لیے بالکل الگ ہے۔ یہاں تو ہر کوئی اپنی حیثیت اور طاقت کے مطابق اپنے مفادات کا تحفظ کرنے میں مصروف عمل رہتا ہے اور تقسیم اتنی بڑھ چکی ہے کہ تعلیمی اداروں سے لے کر ہسپتال تک امیروں اور ایلیٹ کلاس کے الگ ہیں اور غربا کے لیے الگ۔

یہاں پر سب سے بری حالت سرکاری اداروں کی ہے، جہاں سے غریب لوگ لائنوں میں کھڑے ہو کر اور مختلف طرح کے رگڑے کھا کر اپنا کام نکلوانے میں کامیاب ہوتے ہیں جبکہ ایلیٹ طبقہ کی فائلوں کو پر لگے ہوتے ہیں جو تمام رکاوٹوں کو عبور کر کے مطلوبہ ہدف تک کامیابی سے پہنچ جاتی ہیں۔ طبقاتی تقسیم کے مارے ہوئے اس سماج میں ایلیٹ کلاس کے لیے یہ ملک سونے کی کان ہے جو سرمایہ کاری کرتے کرتے بزنس ڈان بن جاتے ہیں حتیٰ کہ یہی طبقہ اب تعلیمی اداروں میں بھی گھس آیا ہے اور مہنگے ترین پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی چینز دھڑا دھڑ چلا رہا ہے۔

چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے اور اندھیر نگری کی وجہ سے ڈاکٹر سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کا اچھے سے معائنہ نہیں کرتے بلکہ ان کو اپنے ذاتی بزنس ایمپائر یعنی پرائیویٹ کلینک پر آنے کا مشورہ دیتے ہیں، جہاں پر وہ ان غریب مریضوں سے ہزاروں بٹورتے ہیں۔ کالج کے پروفیسرز کالج میں صرف حاضری لگانے آتے ہیں اور اس کے بعد وہ اپنے نام سے قائم کیے گئے ٹیوشن سینٹرز میں بڑی شفقت اور محبت سے پڑھاتے ہیں جبکہ سرکاری کالج کی عمارت میں ان کے رویے میں رعونت اور ایک طرح کا نامناسب برتاؤ نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

ہر شعبہ ایک بزنس ایمپائر کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔ اس ملک کے غریب کے ہاتھ میں کچھ نہیں بچا ہے سوائے اپنے پڑھے لکھے بچوں کی ملازمت کی فائلیں اٹھا کر در بدر ہونے کے، رہی سہی کسر اس غریب طبقے کی آخری امید پبلک سروس کمیشن کے امتحانات کے اسکینڈل نے پوری کر دی ہے، وسائل کی واضح تفریق کی وجہ سے آئے دن ہمارے ملک کی سڑکوں پر کوئی نہ کوئی تماشا لگا رہتا ہے۔ جب وسائل کا بہاؤ چند طبقات تک محدود ہو جائے تو پھر چھوٹے چھوٹے جتھے بلوائیوں کا روپ دھار لیتے ہیں اور اس ہجومی نفسیات کا خمیازہ ہم آج تک بھگتتے آ رہے ہیں۔

جب ریاست اپنے شہریوں کے ساتھ سوتیلا سلوک کرے گی اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے ٹیکس لینے کے باوجود بھی سہولیات نہیں دے گی تو پھر عوام کے پاس کیا آپشن بچے گا؟ وہ اپنی فرسٹریشن اور غصے کا اظہار کسی نہ کسی گروہ کا حصہ بن کر کریں گے یا ابدی راحت یا جنت حاصل کرنے کے لیے خود کش جیکٹ پہن کر ایک ہی جھٹکے میں تمام پریشانیوں اور نا انصافیوں سے مکت ہونے کی کوشش کریں گے۔ جب تعلیم کی شرح کم ہو گی تو پھر ایسے ہی ان پڑھ لوگ جنونیوں کا آسان ہدف بن جاتے ہیں۔

خیر، ہمیں ان باتوں سے کیا لینا دینا ہے ہم تو دنیا کی انوکھی اور منفرد قوم ہیں صرف باتوں سے کام چلا سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *