کیا آپ کے بچے مستقبل کے شاعر، فنکار اور دانشور ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میری چھوٹی بہن عنبرین کوثر نے جب مجھے بتایا تھا کہ ان کی پہلوٹی کی بیٹی عفیفہ پہلے دن سکول گئی ہے تو میں نے انہیں ایک مزاحیہ بٹن بھیجا تھا جس پر لکھا تھا
Do not let your school interfere with your education

سچ بات تو یہ ہے کہ خوش قسمتی سے بعض سکول بچوں کی تخلیقی صلاحیتیوں کو جلا بخشتے ہیں اور بدقسمتی سے بعض سکول انہیں ملازمت اور نوکری کے لیے تیار تو کرتے ہیں لیکن ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ میں نے زمانہ طالب عملی میں ایک نفسیاتی تحقیق پڑھی تھی جس میں انہوں نے ہزاروں بچوں کا نفسیاتی تجزیہ کر کے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ سکول کی پہلی جماعت کے بچوں میں تخلیقی صلاحیتیں 85 %تھیں جبکہ دسویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے وہ صلاحیتیں صرف 15 % رہ گئی تھیں۔

آج میں آپ کو دو ماؤں اور دو بچوں کی کہانیاں سناتا ہوں۔ دونوں مائیں کئی برسوں سے میری مریضائیں ہیں اور اپنی اینزائٹی اور ڈپریشن کا علاج کرواتی ہیں۔

پہلی ماں شکایت کیا کرتی تھی کہ اس کا دس سالہ بیٹا سکول کی پڑھائی کرنے کی بجائے وڈیو گیمز کھیل کر وقت ضائع کرتا ہے۔ میں نے جب اس لڑکے کا انٹرویو لیا تو مجھے پتہ چلا کہ وہ ایک فنکار بچہ ہے اور وہ اینیمیشن میں خاص تخلیقی دلچسپی رکھتا ہے۔ میں نے ماں کو تسلی دینا چاہی اور بتانا چاہا کہ تمہارا بیٹا کل کا مشہور فنکار ہے لیکن اس ماں کو میری باتوں سے زیادہ تسلی نہ ہوئی۔ اسے لگا کہ میں اس بچے کی ناجائز تعریف کر رہا ہوں اور مبالغہ آمیزی سے کام لے رہا ہوں۔

اس ماں کی شکایت اور بچے سے ملاقات کے چھ برس بعد جب اس بچے کی عمر سولہ برس تھی اسے ہالی وڈ کی ایک کمپنی کا خط موصول ہوا جس میں اسے 80,000 ڈالر سالانہ کی آفر آئی تھی۔ اس ماں نے مجھے وہ خط دکھایا اور بتایا کہ اس کے بیٹے نے ایک نیا animation character تخلیق کر کے ہالی وڈ کی کمپنی کو بھیجا تھا جو انہیں بہت پسند آیا۔ اس کمپنی کی ایک شاخ ٹورانٹو کینیڈا میں بھی تھی جس میں انہوں نے اس کے بیٹے کو ملازمت تو آفر کر دی تھی لیکن انہیں یہ پتہ نہ تھا کہ وہ ایک بالغ جوان مرد کو نہیں ایک بچے کو آفر کر رہے ہیں۔

ماں نہیں چاہتی تھی کہ اس کا بیٹا ہائی سکول ختم کرنے سے پہلے ملازمت کرے۔ اس نے میرا مشورہ مانگا تو میں نے کہا کہ وہ اور اس کا بیٹا مل کر کمپنی کو خط لکھیں۔ ملازمت قبول کر لیں لیکن یہ شرط لگائیں کہ وہ دو سال یعنی ہائی سکول ختم کرنے کے بعد ملازمت شروع کرے گا۔ میرا یہ مشورہ ماں کو بھی پسند آیا بیٹے کو بھی اور کمپنی کو بھی۔

اس دن اس ماں نے میرا شکریہ ادا کیا اور معذرت کی کہ اس نے چند سال پیشتر میری باتوں پر غور نہیں کیا تھا اور میرے مشورے کو سنجیدگی سے نہ لیا تھا۔

اسی طرح ایک اور ماں کو شکایت تھی کہ اس کی بیٹی ہر وقت موسیقی سنتی رہتی ہے اور گھر کا کام کاج نہیں کرتی۔ میں اس کی بیٹی سے ملا تو پتہ چلا کہ وہ فنکارہ ہے اور اپنے موسیقار دوستوں کے ساتھ مل کر موسیقی تخلیق کرتی ہے اور پھر اس کے وڈیو بھی بناتی ہے۔ میں نے ماں کو تسلی دینے کی کوشش کی لیکن اس کی تسلی نہ ہوئی۔ لیکن پھر پچھلے سال جب کینیڈا میں جونو ایوارڈز کا اعلان ہوا تو جن پانچ موسیقاروں کو ایوارڈ کے لیے نامزد گیا گیا تھا اس میں اس کی بیٹی بھی شامل تھی۔

جونو ایوارڈ کی رسم کے لیے بیٹی نے جب پانچ مہمانوں کا فیصلہ کیا تو اس میں اس کی ماں شامل نہ تھی۔ ماں نے مجھ سے شکایت کی تو میں نے یاد دہانی کرائی کہ وہ کئی سالوں سے اپنی بیٹی کی حوصلہ شکنی کرتی آئی ہے اور اب جب اسے اعزاز مل رہا ہے تو اس میں شرکت کرنا چاہتی ہے۔ میری باتیں سن کر ماں کو اپنے رویے کا احساس ہوا اور وہ نادم ہوئی۔

اتفاق سے کرونا وبا کی وجہ سے وہ پروگرام ہال کی بجائے انٹرنیٹ پر ہوا اور پانچ مہمانوں کی بجائے سب دوست اور رشتہ دار دیکھ سکے جس کی وجہ سے ماں کی شکایت دور ہو گئی۔

یہ دو واقعات میں نے اپنے موقف کی وضاحت کے لیے پیش کیے ہیں۔ ہمارے ارد گرد نجانے کتنے والدین اور اساتذہ ایسے ہیں جو اپنے بچوں کی خفیہ صلاحیتوں سے ناواقف ہیں۔

میری اپنی والدہ کی خواہش تھی کہ میں ڈاکٹر بنوں اور میں جب ان سے کہتا تھا کہ میں ایک شاعر اور فلاسفر بننا چاہتا ہوں تو کہتی تھیں شاعر تو بھوکے مرتے ہیں۔ ڈاکٹر بننے کے بعد میں نے سوچا کیوں نہ میں طب اور فلسفے کو یکجا کر لوں اس لیے میں ماہر نفسیات بن گیا۔

اگر آپ دنیا کے عظیم ادیبوں اور شاعروں ’فنکاروں اور دانشوروں کی سوانح عمریاں پڑھیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ

آئن سٹائن جیسے سائنسدانوں
کرشنا مورتی جیسے روحانی رہنماؤں اور
والٹ وٹمین جیسے شاعروں

کو اپنے سکولوں میں بہت سی مشکلات اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ لوگ بچپن سے ہی غیر روایتی سوچ اور شخصیت کے مالک تھے اسی لیے ان کے اساتذہ نے ان کے والدین سے کہا کہ یہ بچے کند ذہن ہیں ’سست الوجود ہیں اور کام پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے خلاؤں میں گھورتے رہتے ہیں۔ وہ اپنی ہی دنیا میں کھوئے رہتے ہیں۔ وہ اساتذہ اور والدین نہیں جانتے تھے کہ وہ بچے بڑے ہو کر عظیم ادیب اور شاعر‘ فنکار اور دانشور بنیں گے۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ والدین اور اساتذہ کی سماجی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی شکایت کرنے سے پہلے ان کی تخلیقی صلاحیتیوں کی نشاندہی کریں تا کہ ان کی صحیح خطوط پر تربیت ہو سکے اور انہیں وہ مواقع مل سکیں جو ان کی خفیہ صلاحیتوں کو اجاگر کریں اور ان کی تخلیقی شخصیتوں کا جلا بخشیں۔

ہر دور، ہر قوم اور ہر نسل میں تخلیقی شخصیتوں کی ایسی اقلیت موجود ہوتی ہے جو انسانی ارتقا کے سفر میں عوام کی اکثریت کی رہنمائی کرتی ہے۔ ایسی اقلیت اس قوم کی ہی نہیں پوری انسانیت کی قیمتی متاع ہوتی ہے۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ایسی اقلیت کا خیال رکھیں۔ میرا ایک شعر ہے

؎ وہ جس کسی کی بھی آغوش جاں کے بچے ہیں
نوید صبح ہیں سارے جہاں کے بچے ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 421 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *