ظالمو ایسا نہ کرو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اندازہ کریں کہ جو شخص اس وقت قضا و قدر کا مالک ہو، جس کے سپاہی فتح کے جھنڈے لہراتے اس شہر میں داخل ہو رہے ہوں جس کی زمین کبھی اس کے لیے تنگ کر دی گئی ہو۔ اس کا معاشی بائیکاٹ اس طرح کیا گیا ہو کہ بوڑھے، جوان، مرد، عورتیں اور معصوم بچے بھوک کی شدت سے بلبلا اٹھے ہوں اور محصورین نے پیٹ پر پتھر باندھ رکھے ہوں، ان کو تپتی ریت پر لٹا کر تشدد کیا جاتا ہو، ان کو اس قدر اذیتیں دی گئیں ہوں کہ وہ اور اس کے ماننے والے یہ شہر چھوڑنے پر مجبور کر دیے گئے ہوں، ملک بدر کر دیے گئے ہوں اور گھر سے بے گھر کر دیے گئے ہوں۔

وہی شخص جب ان مظلوم لوگوں کے ساتھ اسی شہر میں ایک فاتح کی حیثیت سے داخل ہوتا ہے تو اس طرح کہ اس کا سر جھکا ہوا ہے اور اس کا چہرہ عجز و انکساری سے بوجھل ہے، مظالم ڈھانے والے تھر تھر کانپ رہے ہیں کہ ایک اشارے سے ان کے سر تن سے جدا کر دیے جائیں گے۔ اس منظر نامے میں وہ شخص شہر میں داخل ہوتا ہے اور سب لوگوں کے لئے عام معافی کا اعلان کرتا ہے ان الفاظ کے ساتھ کہ:
”آج کسی سے بدلہ نہیں لیا جائے گا۔“

وہ شخص کیسا ہو گا؟
کیونکہ تاریخ ایسی کوئی مثال دینے سے قاصر ہے۔

وہ شخص جس کے گلے میں چادر ڈال کر اس کی سانس کی ڈور کاٹنے کی کوشش کی جائے، اسے لہولہان اور شدید زخمی کر دیا جائے لیکن درد کی شدت میں بھی وہ شخص اپنے ان دشمنوں کو دعا دے رہا ہو۔

وہ شخص کیسا ہو گا؟

ایسا شخص جس کی راہ میں کانٹے بچھائے جائیں اور عبادت کے وقت اس پر کوڑا پھینکا جائے، پھر بھی وہ صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دے۔
ایسا بوریا نشین جس کے سامنے قیصر و کسریٰ کی حکومتیں لرزتی ہوں لیکن اس کے گھر میں کئی کئی دن چولہا نہ جلتا ہو۔

وہ شخص کیسا ہو گا؟

ایسا شخص جو اپنی فوج کا سپہ سالار ہو اور جنگ کے دوران جس کے ساتھیوں نے پیٹ پر پتھر باندھ رکھے ہوں اور سپہ سالار نے بھوک سے نڈھال ہو کر اپنے پیٹ پر ایک کی بجائے دو دو پتھر باندھ رکھے ہوں۔

وہ سپہ سالار کیسا ہو گا؟

وہ شخص جس پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہوں کہ اس کا مذہب دھوکہ، دجل اور فریب پر مبنی ہے۔ لیکن صدیوں بعد اسی مذہب کے لوگ تسلیم کریں کہ ان کا موقف شرمناک تھا جبکہ حضورﷺ کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ آج بھی سچ ہیں۔ تو ایسا شخص جو صدیوں کی کسوٹی پر بھی پورا اترے۔

وہ شخص کیسا ہو گا؟

لوگ جس شخص کی جان کے دشمن ہوں اور اس کو قتل کرنے کے منصوبے بناتے پھرتے ہوں، لیکن وہی لوگ اس کے بارے کہتے ہوں کہ

اس دھرتی پر اس سے زیادہ سچا صادق اور امین شخص کوئی نہیں دیکھا۔
اس شخص کا اس سے بڑا معجزہ کیا ہو گا؟

وہ شخص جس کی جوانی میں ایک طرف مال و زر رکھ دیا جائے اور دوسری طرف حسین و جمیل عورت کی پیشکش لیکن وہ اپنے موقف سے ہٹنے کو تیار نہ ہو۔

تم اس شخص کے کردار پر انگلی اٹھاتے ہو!
ظالمو ایسا نہ کرو۔
ہمارے دلوں میں آگ مت لگاؤ۔

ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سب اس مذہبی جنون کا شاخسانہ ہے جو تمہاری سول سوسائٹی کو تباہ کر دیتا ہے۔ تمہارے پر امن ماحول کو برباد کر دیا جاتا ہے اور معصوم بچوں، بوڑھوں، بے گناہ مردوں اور عورتوں کو دھماکوں سے اڑا دیا جاتا ہے جو بذات خود میرے آقاﷺ کے فرمان کی بھی خلاف ورزی ہے۔

آپﷺ کا فرمان ہے کہ
”کسی بے گناہ کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے“ ۔

ہم جانتے ہیں کہ تمہارا یہ ردعمل اس سوچ کے خلاف ہے لیکن تم نہیں جانتے کہ ان شدت پسندوں اور دہشت گردوں کی تکفیر کرتے ہوئے تم خود اسی جنونیت کا شکار ہو جاتے ہو اور اس شخص ﷺ کے خلاف بات کرتے ہو جس نے نسل انسانی کی زندگیوں میں خوبصورتی پیدا کی اور تاریخ تہذیب و تمدن کے حسن میں بے پناہ اضافہ کیا۔

تم نہیں جانتے کہ وہ شخصﷺ کتنا عظیم تھا۔

ایسا شخص ﷺ جس کے چاروں طرف لہو و لعب، شراب اور حسن و جمال کی پرستش ہوتی تھی لیکن اس کی جوانی بے داغ اور اس کا کردار پاکیزگی کا نمونہ تھا، اس قدر کہ ان ﷺ کے خلاف اس وقت کا بڑے سے بڑا دشمن بھی انگلی نہ اٹھا سکا ہو۔

تم ان کے خاکے اور فلمیں بناتے ہو!
فلم بھی ایسی غیر معیاری لچر، مبتذل اور سوقیانہ کہ کوئی صاحب فہم اس کو دیکھنا گوارا نہ کرے۔
لیکن اس سے ہمیں بہت اذیت ہوتی ہے۔
تم نہیں جانتے کہ تمہارے اس رویے سے معتدل لوگ بھی کہیں مذہبی جنونی نہ بن جائیں۔
ظالمو! ایسا نہ کرو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *