کلاس رومز اور تربیت


بچوں کی تربیت میں والدین کے ساتھ ساتھ اساتذہ کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے۔ جہاں والدین بچوں کو برے اور اچھے کی پہچان کرواتے تھے ، وہیں اساتذہ بھی پیش پیش ہوتے تھے۔ نوجوان نسل کی تربیت میں والدین کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔

کلاس روم وہ جگہ جہاں ایک استاد پر بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اس نے نہ صرف بچوں کو تعلیمی نصاب پڑھانا ہے بلکہ بچوں کو ادب آداب بھی سکھانا ہے۔ پہلے بچوں کو تعلیمی نصاب پڑھانے کے ساتھ ساتھ ان کی روحانی تربیت بھی کی جاتی تھی۔ بڑوں سے کیسے پیش آنا ہے ، چھوٹوں سے کیسے شفقت کرنی ہے۔ اچھائی اور برائی کا فرق سمجھایا جاتا تھا۔ لیکن آج یہ سب جب میں سوچتی ہوں تو ایسے لگتا ہے جیسے لوگوں کے لئے یہ تربیت ادب آداب صرف مذاق کی باتیں ہیں۔

ایک دفعہ کالج میں ہماری کلاس میں ٹیچر نے نصاب سے ہٹ کر بات کی تو ٹیچر نے باقاعدہ sorry کا لفظ استعمال کیا کہ sorry بچو میں نے نصاب سے ہٹ کر کوئی بات کی ہے۔

اگر یونیورسٹیز کے لیول کے کلاس رومز کی بات کی جائے تو اخلاقیات سے گری ہوئی باتیں کی جاتی ہیں اور ان اخلاقیات سے گری ہوئی باتوں پر زور دار قہقہے لگائے جاتے ہیں اور ان قہقہوں میں تربیت کہیں گم ہو جاتی ہے،  نہ صرف بچے بلکہ اساتذہ بھی ان قہقہوں میں شامل ہوتے ہیں۔

مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کلاس رومز میں قہقہے لگائے جاتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ کیا کلاس رومز کا مقصد بچوں کو چند کتابوں کو رٹا لگوانا اور پیپرز لینا اور پاس ہونا ہی ہے۔ کیا کلاس رومز کا یہ مقصد نہیں ہونا چاہیے کہ بچوں کی تعلیمی نصاب کے ساتھ ساتھ تربیت بھی کرنی چاہیے بچوں کو معاشرے میں رہنے کے اصول بتائے جائیں یا صرف اس کلاس رومز کا مقصد A for apple اورB for ball سکھانا ہی ہے۔

تعلیمی اداروں کے اندر ہی بچوں کو ایسی ایسی گھٹیا زبان استعمال کرتے سنا ہے میں نے جو کہ پڑھے لکھے نوجوانوں (بچوں ) کا شیوہ نہیں ہوتا۔ پھر میں سوچتی ہوں کہ ان کا کیا قصور ان کو اے بی سی کے علاوہ کچھ کلاس رومز میں سکھایا ہی نہیں جاتا کہ کیسے بولنا ہے ،کیسے تمیز و تہذیب کے ساتھ دوسروں کے ساتھ پیش آنا ہے۔

افسوس! اگر ہم نے اپنے بچوں اور نوجوانوں کو صرف تعلیمی نصاب پڑھا کر پیپر لے کر اور ہاتھ میں ڈگری کا کاغذ ہی پکڑانا ہے تو پھر معاشرے کے بگاڑ میں جتنا قصور ان نوجوانوں کا ہو گا ، اتنا ان کلاس رومز کا بھی ہو گا جہاں انہیں  A، B، C تو سکھا دی لیکن تمیز و تہذیب، اچھائی و برائی میں فرق، معاشرے کا مفید فرد کیسے بننا ہے ، یہ سب تو سکھایا ہی نہیں گیا۔

آخر میں صرف یہی کہوں گی کہ یا تو آج کے کلاس رومز میں موجود اساتذہ تربیت کرنا ہی نہیں چاہتے یا پھر آج کی نوجوان نسل تربیت، تمیز و تہذیب کو صرف مذاق سمجھتی ہے۔

Facebook Comments HS