ٹیم ورک کا فقدان کیوں ہے؟



جب ٹیم کا ہر رکن اپنے حصے کے لئے ٹیم کے پورے بکرے کو ذبح کرنے کے لئے تیار ہو تو پھر ٹیم ورک کی جگہ ذاتی مفادات کا کھیل کھیلا جاتا ہے۔ ہر کوئی مشترکہ منزل کی جانب نہیں بھاگتا ہے بلکہ اس کا مقصد ذاتی و انفرادی جنت کا حصول ہوتا ہے۔ سپر سٹارز پر مشتمل ایسی ٹیم کو گھر کے چراغوں سے آگ لگ جاتی ہے۔ ”اتحاد میں برکت ہے“ جیسے مثالی مقولے کہانیوں کے عنوان تو بنتے ہیں لیکن زمینی حقیقت کی شکل اختیار نہیں کرتے ہیں۔

مثالی ٹیم کے اراکین ایک دوسرے کو نفسیاتی تحفظ دیتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کی عزت کا پاس رکھتے ہیں۔ وہ ہونٹوں کو جنبش دینے سے قبل سو مرتبہ سوچتے  ہیں کہ کہیں کوئی ایسا لفظ ادا نہ ہو جائے کہ جس کے نتیجے میں زندگی سزا بن جائے۔ مثالی ٹیم کا لیڈر ٹیم میٹنگز کے دوران تحکمانہ انداز اختیار نہیں کرتا ہے۔ وہ پہلے سب کی سنتا ہے اور پھر اپنی سناتا ہے۔ اس پر ”ہر فن مولا“ بننے کا خبط سوار نہیں ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ پوری تصویر اس کے سمیت ٹیم کے کسی رکن کے سامنے نہیں ہے۔ سب کے پاس اپنی اپنی رائے ہے لیکن زمینی حقائق کا علم قدرے کم کم ہی ہے۔

مثالی ٹیم کا لیڈر انہیں زیادہ بولنے کا موقع دیتا ہے جن کا ہاتھ عوام کی نبض پر ہوتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے ٹیم کا ہر رکن کچھ ایسا جانتا ہے جو سب نہیں جانتے ہیں اور ہر رکن وہ نہیں جانتا ہے جو کوئی اور رکن جانتا ہے۔ اس لیے ٹیم کا لیڈر اپنی انا کے گھوڑے سے اتر کر سب کو ”بول کہ لب آزاد ہیں تیرے“ کا پیغام اپنی بدن بولی سے دیتا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ٹیم بنانے کی ضرورت ہی کیوں محسوس ہوتی ہے۔ ٹیم کا کپتان اگر پرکشش شخصیت کا حامل ہو اور دبنگ بھی ہو تو کیا پوری ٹیم کا متبادل ہو سکتا ہے۔ ایسا اس لیے ممکن نہیں ہے کہ اداروں کے اندر کوئی آل راؤنڈر نہیں ہوتا ہے۔ آج کی دنیا میں کام پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں ، اس لیے کسی کام کا ماہر ہی اسے سر انجام دے سکتا ہے۔ جو سو فیصد باؤلر ہو وہ سو فیصد بیٹسمین نہیں ہو سکتا ہے اور جو سو فیصد بیٹسمین ہو اس کے لیے ایک مشاق اور کل وقتی باؤلر بننا ممکن نہیں رہتا ہے۔

اس لیے آج کے سپیشلائزیشن کے عہد میں وہی لیڈر ہے جو تمام موتیوں کو ایک لڑی میں پرونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لوگوں کو خوف سے بھی اکٹھا رکھا جا سکتا ہے لیکن خوف سے تخلیقی صلاحیتیں دم توڑ دیتی ہیں اور ٹیم کا ہر رکن تحفظ خویش کو اپنا مقصد زندگی بنا لیتا ہے۔ خوف کے ماحول میں سب کو مسائل کے حل کے لیے تجاویز نہیں سوجھتی ہیں بلکہ صرف اپنے بچاؤ کی فکر دامن گیر رہتی ہے۔

جب ٹیم لیڈر کے دل میں کچھ اور ہو اور زبان پر کچھ اور ہو تو پھر ٹیم کے اندر بے اعتباری بال کھول کر سونا شروع کر دیتی ہے۔ جب ٹیم کا سربراہ اپنی عظمت کے قصے کہانیاں سننے کا خوگر ہو جائے تو پھر ٹیم کی جگہ فین کلب تشکیل پانا شروع ہو جاتا ہے۔ لیڈر کو انسان نہیں رہنے دیا جاتا ہے بلکہ اسے بت بنا کر اس کی پوجا کا آغاز ہو جاتا ہے۔ جو بت بنانے کی قوت رکھتے ہیں وہ بت کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی بھی طاقت رکھتے ہیں۔

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کسی لیڈر کے ساتھ وابستہ اس کے اراکین ٹیم درحقیقت اپنے اپنے مفادات کے لئے اس سے وابستہ ہوتے ہیں۔ یہ فصلی بٹیرے دراصل طاقت اور شہرت کی دیوی کے پجاری ہوتے ہیں اور جونہی دیوی طاقت و شہرت سے تہی دامن ہوتی ہے ، فصلی بٹیرے اس پر تین حرف بھیجتے ہیں اور طاقت اور شہرت کے سنگھاسن پر آویزاں نئے کپتانوں کو سیلوٹ مارتے ہیں۔

آرگنائزیشن ڈیویلمپنٹ کے گرو اور میرے مشفق مربی ایڈ گر شائن ہر طرح کے لیڈروں کو تلقین کرتے ہیں کہ وہ عاجزی اور فروتنی کو اپنا وصف خاص بنائیں۔ طاقت کے نشے میں فرعون بننے سے پرہیز کریں۔ لیڈرز اپنی ٹیم کے سامنے کھلے دل کے ساتھ اپنی شخصی کمزوریوں کا ذکر کریں کیونکہ انسانی رشتے اس وقت مستحکم ہوتے ہیں جب ٹیم کا ہر رکن وہ بات بلا خوف و جھجک بیان کر سکے جو اس کے دل میں کروٹیں لے رہی ہے۔

جب مصلحت کے تقاضے نبھانے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو پھر ٹیم کے اراکین میں سے اخلاص رخصت ہو جاتا ہے۔ سب ایسے بیانات دیتے ہیں جن سے ان کی موجودہ پوزیشن اور ظاہر و مخفی اثاثے محفوظ رہیں۔ جب ٹیم کے اراکین کو یقین ہو جائے کہ ان کی ٹیم کا سربراہ اور ان کے ادارے کا سربراہ اپنی دستار فضیلت کے لئے انہیں کسی بھی وقت گاجر مولی کی طرح کاٹ کر پھینک سکتا ہے تو پھر ان کی زبان ان کے قلب کی رفیق نہیں رہتی ہے۔ ایسے ماحول میں ٹیم کے سارے ارکان اپنا سارا زور زمینی حقائق کو چھپانے میں لگاتے ہیں اور اپنی ٹیم اور کابینہ کے سربراہ کے سامنے تپتی لو کو باد صبا پینٹ کرتے ہیں اور جان کی امان پا کر وہی عرض کرتے ہیں جو چیف ایگزیکٹو کے کانوں میں رس گھول دے۔

ہم اگر چاہتے ہیں کہ ہماری ٹیمیں مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کریں تو ٹیم کے لیڈروں کو نرگیست کے مرض سے نجات پانا ہو گی اور اقتدار کی کرسی کو اپنا جنازہ بنانے سے اجتناب کرنا ہو گا۔ اقتدار کی کرسی پر اسے ہی جلوہ افروز ہونا چاہیے کہ تاریخ میں اپنے آپ کو امر کرنے کی بجائے اپنی ٹیم کے اراکین کے دل میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائیں۔ وہ گورنر جنرل بننے سے پہلے قائداعظم بن جائیں۔

Facebook Comments HS

One thought on “ٹیم ورک کا فقدان کیوں ہے؟

  • 26/03/2022 at 2:34 شام
    Permalink

    The Best Article

Comments are closed.