امریکی انخلا کے بعد دہشت گردوں سے پاکستان کو خطرہ ہے: جنرل میکنزی

فراز ہاشمی - بی بی سی اردو سروس لندن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جنرل کیتھ میکنزی
Getty Images
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل کیتھ ایف میکنزی نے افغانستان میں القاعدہ اور داعش کے دوبارہ فعل ہو جانے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطے کے ملکوں اور خاص طور پر پاکستان کے لیے شدید تشویش کی بات ہے۔

افغانستان سے امریکی اور افغان فوجوں کے انخلاء پر چند دن قبل امریکی وزارتِ دفاع میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان تنظیموں کا افغانستان میں دوبارہ فعل ہو جانے کا امکان، وسطی ایشیائی ریاستوں اور ایران کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔

امریکہ کے مقتدر ترین جریدے نیو یارک ٹائمز نے اس بریفنگ کی خبر میں کہا تھا کہ امریکہ کے مشرق وسطی میں اعلی ترین فوجی کمانڈر نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس سال ستمبر گیارہ تک افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد امریکہ کی فوج کے لیے افغانستان میں القاعدہ جیسے دہشت گردی کے خطروں پر نظر رکھنا اور ان کا تدارک کرنا انتہائی مشکل ہو گا۔

جنرل میکنزی نے کہا کہ افغانستان میں استحکام خطے کے تمام ملکوں کے مفاد میں ہے کہ افغانستان میں استحکام ہو اور شدت پسند گروہوں القاعدہ اور نام نہاد دولت اسلامیہ کو جگہ نہ دی جائے۔

جنرل میکنزی نے کہا کہ ان کے خیال میں امریکی اور نیٹو افواج کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد اگر دباؤ برقرار نہ رکھا گیا تو القاعدہ اور دولت اسلامیہ افغانستان میں دوبارہ منظم ہو سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ دباؤ افغان حکومت کی طرف سے ڈالا جا سکتا ہے لیکن ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں افغان حکومت کے خد و خال کیا ہوں گے۔

سینٹرل کمانڈر کے سربراہ نے مزید کہا کہ طالبان نے بھی یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ان تنظیموں کو افغانستان کی سرزمین استعمال نہیں کرنے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ اگر طالبان مستقبل میں افغان حکومت کا حصہ بن جاتے ہیں تو وہ اپنے وعدے کی پاسداری کریں گے۔ ‘ابھی ہم یہ نہیں جانتے کے افغان حکومت کی شکل کیا ہو گی کیونکہ طالبان نے افغانستان کے امن مذاکرات میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا اور یہ مذاکرات عارضی طور پر تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔’

پریس کانفرنس کے دوران برطانوی خبر رساں ادارے کے نمائندے نے جنرل میکنزی کے گزشتہ بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ کے فی الوقت افغانستان کے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ فوجی اڈوں کے بارے میں کوئی معاہدہ نہیں ہے۔

روائٹرز خبرساں ادارے کے نمائندے نے جنرل میکنزی کے اس بیان کی روشنی میں پوچھا کہ کیا وہ اس بارے میں پر امید ہیں کہ امریکی فوج کے انخلا سے قبل ایسے معاہدے ہو سکتے ہیں۔

اس سوال کے تسلسل میں روائٹرز کے نمائندے نے پاکستان کا نام لیتے ہوئے کہا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ان ملکوں کے اندرونی حالت کی وجہ سے ایسے معاہدے ہونے میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔

جنرل مینکزی نے اپنے جواب میں پاکستان کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ یاد رہے کہ افغانستان پر حملے کے وقت امریکی فوج نے پاکستان میں اڈے حاصل کیے تھے اور ان میں پاکستان کے صوبے بلوچستان میں کوئٹہ سے تین سو کلو میٹر جنوب اور گوادر سے 400 کلو میٹر شمال مغرب میں شمسی فضائی اڈہ شامل تھا۔ اس کے علاوہ جیکب آباد سندھ کا بھی ایک ہوائی اڈے امریکہ فوج کے استعمال میں رہا تھا۔

امریکی فوج

AFP

جنرل میکنزی نے جواب میں کہا کہ 'میرے خیال میں آپ تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان اور قزاقستان کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔' انہوں نے کہا کہ ان تمام ملکوں کے ساتھ اس نوعیت کا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘میں جانتا ہوں کہ ہمارے سفارت کار اس بارے میں کام کریں گے۔’ اس پر مزید بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ان ملکوں میں امریکہ کو فوجی اڈوں کے حقوق چاہیئیں تو حتمی فیصلہ قومی سطح پر کیا جائے گا۔

وسطی ایشیائی ریاستوں میں امریکی فوج کے اڈے حاصل کرنے کے حوالے سے نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ ان ملکوں میں روس کے اثر و رسوخ کی وجہ سے امریکہ کے لیے اڈے حاصل کرنا ممکن نہیں ہو گا۔

اس وقت امریکہ نے روس پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور اس کے علاوہ یوکرین کے مسئلہ پر بھی دونوں ملکوں کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہیں۔

جنرل میکنزی نے اس ضمن میں خلیجی ملکوں کا ذکر کیا اور کہاں کہ امریکہ کو اپنے خلیجی ‘پارٹنرز’ سے فضائی حدودوں کو استعمال کرنے اور آڈوں کی بہتریں سہولت حاصل ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا یہاں سے افغانستان کافی دور پڑتا ہے۔

جنرل میکنزی نے کہا کہ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے مختلف تجاویز پر غور ہو رہا ہے۔

افغانستان سے امریکی اور نیٹو ممالک کی افواج کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ امریکہ اور نیٹو کی افواج ایک معاہدے کے تحت ایک ساتھ افغانستان میں داخل ہوئی تھیں اور ایک ساتھ ہی نکلیں گی۔

افغانستان میں طالبان کی کارروائیوں کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ طالبان نے کبھی بھی اپنی کارروائیاں بند نہیں کی ہیں اور وہ اب بھی افغان فوج اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روزآنہ تقریباً 30 سے 35 افغان فوجی طالبان کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں اور افغان فوج کی طرف سے جوابی حملوں میں طالبان کو بھی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

جنرل میکنزی نے اپنے بریفنگ کے آغاز ہی میں طالبان کو متنبہ کیا کہ وہ انخلاء کے دوران امریکی فوج پر حملے نہ کریں ورنہ امریکی فوج جوابی کارروائی کرے گی۔

‘ہم اپنے فوجیوں کی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے افغانستان سے تیزی اور منصوبہ بندی سے انخلاء کریں گے۔ میرا طالبان کو یہی کہنا ہے کہ ہم انخلا کے تمام عمل میں اپنے دفاع کے لیے پوری طرح چوکس رہیں گے۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18858 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp