کوئٹہ: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے مقامی صحافی ہلاک، صحافیوں کا احتجاج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے مقامی اخبار سے وابستہ رپورٹر کو ہلاک کر دیا۔ واقعے پر صحافی تنظیموں نے احتجاج کرتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ واقعہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب کوئٹہ کے نواحی علاقے ’کلی قبمرانی‘ میں اس وقت پیش آیا جب مقامی اخبار ‘آزادی’ سے وابستہ صحافی عبدالواحد رئیسانی گھر سے دفتر جا رہے تھے۔

پولیس حکام کے مطابق واقعے کے بعد مقتول صحافی عبدالواحد کے بھائی اسفند یار نے پولیس تھانہ سریاب میں مقدمہ درج کرادیا ہے۔

سریاب تھانے کہ ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مقدمہ چوری اور ڈکیتی کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے تاہم اس حوالے سے مزید تفتیش کی جارہی ہے۔

اہلکار کے مطابق پولیس نے قمبرانی روڈ پر لگے ایک سی سی ٹی وی کیمرے کی ویڈیو حاصل کرلی ہے جس میں ملزم کو عبدالواحد پر فائرنگ کرتے دیکھا جاسکتا ہے تاہم اس ویڈیو میں ملزم کا چہرہ واضح نہیں ہے۔

عبدالواحد کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں سینے اور پیٹ میں گولیاں ماری گئیں۔

عبدالواحد گزشتہ چار برسوں سے روزنامہ ’آزادی‘ کوئٹہ میں بطور ڈیجیٹل رپورٹر خدمات سرانجام دے رہے تھے۔

صحافی کے قتل پر صحافتی تنظیمیں سراپا احتجاج ہیں۔
صحافی کے قتل پر صحافتی تنظیمیں سراپا احتجاج ہیں۔

سن 2008 کے بعد 45 صحافیوں کی ہلاکت

بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے اعداد و شمار کے مطابق 2008 سے اب تک بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکوں اور دیگر واقعات میں کم و بیش 45 صحافی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے اپنے ایک بیان میں صحافی عبدالواحد رئیسانی کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کا نوٹس لیا ہے۔

عبدالواحد رئیسانی کو سیکڑوں سوگواران کی موجودگی میں اتوار کو کوئٹہ کے ریلوے کالونی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔

تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کا مطالبہ

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس(پی ایف یو جے) کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ صحافی عبدالواحد کے قتل کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔

پی ایف یو جے کے صدر شہزادہ ذوالفقار اور جنرل سیکرٹری ناصر زیدی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکومت یقین دہانیوں کے بجائے ملزمان کی گرفتاری کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

صحافی رہنماؤں نے صحافیوں کے خلاف کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال ملک میں صرف چار ماہ کے دوران سات سے آٹھ صحافی نامعلوم قاتل کی گولیوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔

صحافی تنظیموں کا احتجاج

پیر کو بھی صحافیوں کی نمائندہ تنظیم بلوچستان یونین آف جرنلسٹس نے صحافی عبدالواحد کی ہلاکت کے واقعے کے خلاف بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔

بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر سلمان اشرف نے وائس آف امریکہ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عبدالواحد رئیسانی کے قتل کے خلاف صحافی کوئٹہ سمیت صوبہ بھر میں سراپا احتجاج ہیں۔

سلمان اشرف نے بتایا کہ ہم نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نہ صرف صحافی عبدالواحد بلکہ صوبے میں گزشتہ 15 برسوں کے دوران قتل ہونے والے45 صحافیوں کے قاتلوں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1850 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *