مجھے سائیں بشیر کیوں یاد آیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

hasnain tirmazi

یہ پہلا رمضان ہے کہ جس پر ابھی تک سائیں بشیر ہمارے گھر نہیں آیا۔ وگرنہ جب سے میں نے زندگی کو سمجھنا شروع کیا ہے ہر سال سائیں بشیر رمضان کے تیس دن سحری پر آیا کرتا تھا۔ اپنے بچپن میں مجھے سائیں بشیر کو دیکھنے کا اشتیاق ہمیشہ سے ہوا کرتا تھا کیونکہ سارے رمضان کے مہینے سحری میں ہمیں ہمیشہ سے سائیں بشیر ہی اٹھایا کرتا تھا۔

مجھے یاد ہے کہ ایک نسبتاً چھوٹے قد کا سیاہ فام اور بیٹھی ہوئی آواز کا مالک سائیں بشیر اپنے گلے میں گھی کا پرانا کنستر ڈالے اسے لکڑی سے زور زور سے بجایا کرتا تھا، وہ اتنی زور سے اسے بجاتا تھا کہ ہم سب ڈر کر بیدار ہو جایا کرتے تھے اور پوری قوت کے ساتھ منہ سے آواز نکالا کرتا تھا کہ ”رکھو روجے تے پڑو نماج۔ اے سائیں بشیر دی آواج“ ( رکھو روزے پڑھو نماز یہ سائیں بشیر کی آواز) اور سائیں بشیر آ گیا اے، سب دی خیر منا گیا جے۔

اسے سب گھروں کے مکینوں کے بارے میں معلوم تھا کہ کس گھر میں کون رہتا ہے، وہ انہیں اسی طرح پکارا کرتا تھا، شاہ صاحب، بٹ صاحب، چوہدری صاحب، وکیل صاحب۔

رمضان کے جمعہ کے دن میں پیسے لینے کے علاوہ وہ عید کے دن اپنی عیدی وصول کر کے چلا جاتا تھا۔ وہ پورا سال کبھی نظر نہیں آتا تھا، صرف رمضان میں آتا اور عید والے دن مکمل وصولیاں کیا کرتا تھا۔

اس وقت میں اور آج کے وقت میں بہت سا فاصلہ قائم ہو چکا ہے، ہمارے بچپن میں پی ٹی وی پر کسی مولانا کے رمضان المبارک کے چاند دیکھنے کے اعلان کے ساتھ ہی گھر میں ایک عجیب سا سماں برپا ہو جایا کرتا تھا، سحری کے لیے امی کچھ خاص اہتمام کیا کرتی تھیں، روزہ بھی سب لوگ ہی رکھا کرتے تھے، پھر سحری کے وقت ہمسائے بھی ایک دوسرے کا خیال رکھا کرتے تھے۔

اگر کسی کے گھر میں رات کو روشنی نہیں ہوا کرتی تھی تو ایک دوسرے کو لوگ دروازے بجا کر اٹھا دیا کرتے تھے کہ سحری کا وقت ختم ہونے والا ہے اٹھ جاؤ۔ اب زمانہ بدل گیا ہے، اب لوگ دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہیں کیا کرتے ہیں۔

رمضان میں رات کو سحری کے لئے بیدار کروانے کی روایت صرف برصغیر پاک و ہند میں ہی نہیں رائج ہے بلکہ یہ روایت عربوں ترکوں کے ساتھ ہمارے علاقوں میں وارد ہوئی تھی جسے دیکھ کر ہم نے اسے اپنی روایات کا حصہ بنایا تھا۔

تاریخ کی ورق گردانی سے پتا چلتا ہے کہ ہجرت کے دوسرے سال جب رمضان کے روزے امت پر فرض ہوئے تو یہ ضرورت شدت سے محسوس کی جانے لگی کہ اہل مدینہ کو سحری میں جگانے کے لئے کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے جس سے لوگ آسانی سے اٹھ کر سحری کا نظم بنا سکیں۔

کچھ روایتوں میں ہمیں ملتا ہے کہ رسول خدا ﷺ نے ایک صحابی سیدنا بلال بن رباہ رضی اللہ عنہ کے ذمہ یہ کام لگایا کہ کہ وہ مدینہ کی گلیوں میں آوازیں لگا لگا کر لوگوں کو سحری کے لئے بیدار کریں گے۔

اور کچھ روایتوں میں یہ بھی ملتا ہے کہ انہوں نے یہ کام خود ہی اپنے ذمہ لیا تھا کہ وہ سحری میں اہل مدینہ کو بیدار کیا کریں گے۔

بہرکیف اللہ بہتر جانتا ہے کہ اصل ماجرا کیا تھا، مگر یہ بات طے ہے کہ 2 ہجری کے رمضان المبارک میں پہلی مرتبہ روزے فرض ہونے پر حضرت بلال بن رباہ رضی اللہ عنہ وہ پہلے صحابی رسول تھے جنھوں نے مدینہ کی گلیوں میں بلند آواز میں لوگوں کے گھروں کے باہر جا جا کر اہل مدینہ کو نیند سے بیدار کرنے کی ذمہ داری اٹھائی اور اہل مدینہ ان کی آواز پر بیدار ہوا کرتے تھے۔

وقت گزرا تو حضرت بلال کی یہ سنت زور پکڑتی چلی گئی، مدینہ کی گلیوں سے یہ بات اہل عرب میں پھیلی اور پھر اسلام کے ساتھ ساتھ اس کی تمام روایات نے بھی سفر کیا اور جہاں جہاں اسلام گیا وہاں وہاں اس کی روایات بھی پہنچیں۔ پھر سحری میں بیدار کرنے کے لیے پورے پورے جھنڈ لوگوں کے نکلنا شروع ہوئے، کچھ نے اسے احکام کی شکل میں قبول کیا اور کچھ نے اسے ایک فیسٹول کا روپ دے ڈالا۔

آج بھی جب رات کو سحری میں بیدار کرنے کے لئے کچھ لوگ ایک مخصوص لے میں نعتیہ کلام پڑھتے ہیں تو روحانیت کا سماں باندھ ڈالتے ہیں۔

اب اگرچہ بہت سی باتوں کے ساتھ ساتھ یہ روایات بھی ماند پڑتی جا رہی ہے مگر اب بھی کچھ پرانے علاقوں میں ان روایات کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اہل لاہور اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو ایک مخصوص فکر کے ساتھ اس بات کو کاروبار کا رنگ دے کر ایسی بہت سی روایات کو اپنے طرز عمل سے خراب کر رہے ہیں۔

مگر یہ میری زندگی کا پہلا سال ہے کہ سحری میں بیدار کرنے کے لئے ہمارے علاقے میں کوئی بھی انسان نہیں آیا، اب یہ کورونا کا خوف تھا یا کچھ اور مگر یہ نہیں ہوا، مجھے ڈر ہے کہ بہت سی روایتوں کی طرح یہ رسم بھی کہیں وقت کے ہاتھوں تباہ نہ ہو جائے اور میں عمر بھر کسی سائیں بشیر کا انتظار ہی کرتا رہ جاؤں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *