اسلامی نظام کا نفاذ اور اس کی خواہش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ دین اسلام، کسی انسانی گروہ کی طرف سے نہیں بلکہ ہمارے ایمان کے مطابق کائناتوں اور کل جہانوں کے رب اللہ کی طرف سے، ہمارے لیے دیا گیا نظام زندگی ہے، جس کی تفصیل اللہ کی کتاب قرآن مجید میں، اور عملی تفسیر آنحضور ﷺ کی زندگی اور سنت کی شکل میں موجود ہے۔

اس صورت میں اگر اس نظام کا اطلاق دوبارہ سے غور و فکر کا ہی متقاضی ہے تو یہاں سنجیدہ سوال پیدا ہوتا ہے، یہ طریقہ کار تو دنیاوی اور انسانی نظام ہا کے عملی نفاذ کے لیے اختیار کیا جاتا ہے، جس میں تفکر اور تجربے سے نظام کی خرابیوں اور قباحتوں کو دور کیا جاتا ہے، جس کی واضح مثال اس دور میں سکینڈے نیوین ممالک کا فلاحی جمہوری نظام ہے، جو کہ انہوں نے ایک تدریجی عمل اور مختلف تجربات کے بعد بالآخر ایک فلاحی نظام کے طور پر اختیار کیا ہے ۔ اس پر بھی انہوں نے فکر اور بہتری کے لیے ”دروازے“ بند نہیں کیے ، اور کسی بھی قانون کو ضرورت کے مطابق، مزید بہتری کی طرف لے جانے کے لیے ایک طریقہ کار اور گنجائش رکھی گئی ہے، جبکہ ہمارے ایمان کے مطابق وسیع پیمانے پر ودیعت کردہ قوانین میں کوئی بنیادی اور بڑی تبدیلی کرنا ارتداد اور کفر کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ ہمارے نزدیک ہمارے لیے مجوزہ نظام کا خالق خود اللہ تعالیٰ ہے۔

اب اگر ہم نے بھی خود بذریعہ اجتہاد یا بغیر اجتہاد یہ نظام نئے سرے سے عملی نفاذ کے لیے ڈیزائن کرنا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آنحضور ﷺ کی رحلت کے بعد سے اب تک بہت سے جید اور برگزیدہ صحابہ کی موجودگی کے باوجود یہ نظام کوئی مستقل واضح شکل کیوں نہ لے سکا؟ اور آج جب حالات میں بہت تبدیلی، اور سوالات کی نوعیت میں علم میں اضافے کی وجہ سے بہت اضافہ ہو چکا ہے تو کب اور کون سی ایسی طاقت آئے گی، جو اس ”نظام“ کا نفاذ ممکن بنا دے گی؟

جبکہ ہم بحیثیت ایک قوم یعنی مسلمان کی حیثیت سے ماضی کی نسبت بہت تیزی سے تفرقہ اور نفرت کا شکار بن چکے ہیں، اور اکثریت مذہبی معاملات میں ذہن سے سوچنا گناہ تصور کرنے لگی ہے، ہم جذباتیت اور انتہاپسندانہ رویے کو ہی دین کی خدمت اور آخرت میں بخشش کا طریقہ تصور کرنے لگے ہیں، اور اس رجحان میں واضح طور پر اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، یہ غیر عقلی جذباتی رویہ ہمیں باقی دنیا کے سامنے تشدد پسند اور علم دشمن و غیر مہذب ثابت کرنے کے غیر مسلموں کے دلائل اور الزامات کو تقویت دیتا ہے۔

کیا اب ہم مثبت طریقے سے مذہبی استدلال کے علمی اور اخلاقی طور پر قابل نہیں رہے، اور اسی وجہ سے متشدد رویے میں واضح اضافہ اور اس کی حمایت اکثریت کی طرف سے واضح طور پر دکھائی دے رہی ہے۔ لہٰذا معذرت کے ساتھ مجھے کسی معجزے کی کوئی امید ہے نہ ہی اسلامی نظام نام کی کوئی چیز اپنا عملی وجود رکھتی ہے۔

مذہب ہماری اخلاقی اور سماجی زندگی کے اصول تو ضرور طے کرتا ہے اور اسے کرنے بھی چاہئیں، لیکن اپنی یعنی مسلمانوں کی پوری سیاسی تاریخ کا مطالعہ فرما لیجیے، ہم ایک قابل عمل اور خود کار نظام حکومت بنانے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکے، بلکہ ہماری تاریخ میں بہتری لانے کے لیے ہر سوال ہر کوشش کو حاکم اور مذہبی طبقات کی طرف سے انتہائی سنگدلی سے کچل دیا گیا، وہ معتزلہ ہوں یا مسجد کے باہر بھکاری بنا کر بٹھایا گیا ابن رشد، جس پر نمازیوں کو تھوک کر گزرنے کا حکم ہو، یا فارابی جس کی ضخیم تصنیفات اس کے سر پر مارمار کر اس کو اندھا کر دیا جاتا ہے، امام ابو حنیفہ کو قید میں ڈال کر تشدد کیا جاتا ہے، امام ابو حنبل کو قید سلاسل میں کوڑے لگائے جاتے ہیں۔

ہمارے ابتدائی چار میں سے تین خلفاء راشدین کو قتل کیا گیا، ناجائز اقتدار کے لیے ہی آنحضور ﷺ کے نواسے کو ان کے خاندان سمیت کربلا میں قتل کیا گیا۔ لہٰذا کون سا نظام، اگر ہم دین کو اپنے اخلاقی اور سماجی نظام اور اپنی ذات کی حد تک ہی نافذ کر لیں تو بہت بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔ لیکن حالت یہ ہے کہ ہمارے علماء اور عوام کی نیم خواندہ اکثریت کسی ایسے کردار کا انتظار کر رہی ہے جو حجاج بن یوسف کی طرح ڈنڈے یا تلوار سے ہم سے اسلام کے احکامات کے مطابق عمل کروائے گا۔

ماضی قریب میں ہم افغانستان میں طالبان کی اسلامی حکومت کی شکل میں ایک عملی ماڈل اور اس کے نتائج و مضمرات کا مشاہدہ کر چکے ہیں، جتنے مہاجرین اس دور میں ہجرت کر کے پاکستان آنے پر مجبور ہوئے اتنے وہاں روسی قبضے کے دوران نہیں آئے تھے۔ اسی لیے آج کل کے علماء کا پسندیدہ ترین موضوع ”دجال“ کی آمد ، قرب قیامت اور اس کی نشانیاں ہیں۔ یعنی دراصل اس زندگی میں بہتری اور مثبت تبدیلی بذریعہ دین کے پیغام کی امید ان میں بھی ختم ہو چکی ہے۔

اگر ہم اپنی ذاتی زندگی کو ہی دین کے بنیادی احکامات کے مطابق گزارنے کی کوشش کریں، دین کے احکامات کے مطابق اپنے کام اور کاروبار سرانجام دیں، ایک باہمی احترام پر مبنی معاشرہ قائم کر لیں جس میں ہمارے اموال اور عزتیں ایک دوسرے کے استحصال سے محفوظ ہوں، انسانیت کا احترام ہو اور ہم اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کریں جو ہم اپنے لیے پسند کرتے ہیں، اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لیں، تفرقہ میں نہ پڑیں، دوسروں کے ایمان کے فیصلے کرنے کے بجائے اپنے ایمان، نیت اور اعمال کی حفاظت اور احساس کریں، تو شاید ہمارا معاشرہ خود ہی اسلامی نظام کی صورت اختیار کر لے۔

ہمیں تبلیغ کے لیے پند و نصائح کے بجائے اپنے کردار کو اس قابل بنانا چاہیے جو دوسروں کو ہمارے نظریہ اور دین کے بارے میں معلوم کرنے پر ازخود مائل اور متأثر کر سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *