میں لائیک اور سبسکرائب کیوں کرتا ہوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج ایک دوست کے دوست نے اپنے فیس بک پیج کو لائیک کرنے کی ریکویسٹ بھیجی، جھٹ سے منظور کر لی میں نے۔ مشکل سے ایک سکینڈ لگا۔ اس سے پہلے بھی جنہیں میں جانتا ہوں اور جنہیں نہیں جانتا، ان کے کاموں یا سروسس کی تشہیر کرتے فیس بک اور یوٹیوب پیجز کو پسند کرنے کے میسیجز پر اہتمام کے ساتھ ’ہاں‘ کہتا آیا ہوں۔ اس میں جاتا بھی کیا ہے۔ انگلی کی ایک جنبش ہی تو ہے۔ کسی کو یہ احساس دلانے کا بھی اپنا ہی مزا ہے کہ اس کے منصوبے جو وہ بہت کچھ سوچنے اور گھنٹوں مشوروں میں صرف کرنے کے بعد بنانے میں کامیاب ہوا یا ہوئی ہے، وہ منصوبے قابل عمل ہیں اور میں ان سے متفق ہوں۔

لمبی فہرست ہے، ایک سے بڑھ کر ایک قیمتی خواب۔ ایک قابل اسٹوڈنٹ آن لائن ٹیوشنز پڑھا کر یونیورسٹی کی فیس بھرنا چاہتا ہے۔ ایک محنتی خاتون گھر میں بنائے ہوئے سالگرہ کے کیکس مارکیٹ سے کم ریٹ پر فروخت کر کے شوہر کا ہاتھ بٹانا چاہتی ہیں۔ پڑھائی میں کمزور ایک لڑکے کو کبوتر بازی کا شوق ہے، وہ اس کام کی سمجھ بوجھ بھی رکھتا ہے اور ارادہ رکھتا ہے کہ آن لائن ٹریڈنگ کر کے ایک روز ذاتی دکان ڈالے گا۔ ایک بڑے صاحب پامسٹ ہیں اور اب عمر بسوں رکشوں میں سفر کر کے گاہکوں تک پہنچنے کی اجازت نہیں دیتی۔

ان سب کے سروس پیجز کو میں لائیک اور سبسکرائب کر چکا ہوں، ہو سکتا ہے کہ آگے کبھی کبوتر پالنے کا شوق پیدا ہو جائے یا ہاتھ دکھانے کا موڈ بن جائے لیکن میں ان میں سے کسی کے دعوت نامے کو بھی نظر انداز نہیں کر سکا اور کرتا بھی کیوں؟ میرے صرف ایک بٹن دبانے سے یہ امکان پیدا ہو چکا ہے کہ مجھ سے جڑے فرینڈز ان میں سے کسی کی پراڈکٹ یا سروس حاصل کر جائیں۔

یہ سب لوگ جو فیس بک اور یو ٹیوب پر اپنے پیجز بناتے ہیں، آئے روز نیا نیا مواد ڈالتے ہیں، پرکشش آفرز کرتے ہیں، کاروبار ملنے کی امید باندھتے ہیں۔ یہ لوگ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ جب یہ کسی کو اپنا آن لائن بزنس پیج لائیک اور سبسکرائب کرنے کی ریکویسٹ بھیجتے ہیں تو اس کے پیچھے ایک امید ہوتی ہے کہ آگے سے جواب ’نہ‘ میں نہیں آئے گا۔ ان میں سے کوئی بھی آپ کو دعوت نامے میں یہ لکھ کر نہیں بھیجے گا کہ اگر ریکویسٹ نظر انداز کی تو دس روز بعد تمہارے گھر میں بدحالی آئے گی، یا اگر منظور کی تو دس روز بعد نورانی چہرے والے بزرگ خواب میں آ کر دعائیں دیں گے۔

یہ لوگ صرف اپنی سروسز اور مال بیچنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ایمان داری کے ساتھ کسٹمر کو مطمئن کرنا اور حلال کی کما کر مطمئن رہنا چاہتے ہیں۔ یوٹیوب نے اب یہ شرط رکھ دی ہے کہ مونیٹائز اکاونٹ جس کے ذریعے آپ کمائی کر سکتے ہیں اس کے کم از کم سبسکرائیبرز یا پسند کرنے والے ایک ہزار ہونے چاہئیں، اسی طرح چار ہزار گھنٹوں کا واچ ٹائم پورا کرنے کے بعد ہی آپ کمانے کے لائق ہو سکتے ہیں۔ فیس بک کا بھی یہی معاملہ کہ جتنے زیادہ لائیکس ملیں گے، آپ کے کاروبار یا سروس کو اجاگر کرنے والی تصاویر اور پوسٹس سوشل میڈیا پر اتنا ہی زیادہ پھیلیں گی۔

دوست ہوں یا اجنبی۔ کسی کے بھی بزنس پیج پر لائیک اور سبسکرائب کا بٹن دبانے میں ایک دھیلا بھی نہیں لگتا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ مسجد کے باہر سے محلے میں کھلی نئی بیکری کا تشہیری پمفلٹ وصول کر لیں، جس طرح آپ پمفلٹ دینے والے کا بڑھا ہوا ہاتھ نظر انداز نہیں کرپاتے بالکل اسی طرح بزنس پیجز یا چینلز کی ریکویسٹس بھی قبول کر لینی چاہئیں۔ رزق دینے والی ذات ہماری کوششیں اور نیتیں دیکھتی ہے۔ باقی ملنا تو سب اسی کے خزانوں سے ہے۔

آپ اسے جادو کی ’ای جھپی‘ کہہ لیں جسے دینے میں کرسی سے اٹھنا بھی نہیں پڑتا لہٰذا سوچیں مت۔ جو بھی مانگے اسے جواب ہاں میں دیں۔ امید بندھائیں، حوصلہ دلائیں۔ جو کسی کا خواب ہو وہ شاید آپ کی راہوں میں بکھرا ہوا ثواب ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *