اسلامو فوبیا اور دہشت گردی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج چند مسائل ایسے ہیں جن کی لپیٹ میں اکثر دنیا ہے اور اسلامی ممالک تو ان کے شعلوں سے کچھ زیادہ ہی متاثر ہیں۔ ان مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ ہے دہشت گردی۔ دہشت گردی کرنے والے انسان نما سفاک بھیڑیوں نے اپنے کردار کی سیاہی سے صفحہ عالم پر خون کی جو سرخی پھیلائی ہے تمام دنیا اس سے پریشان ہے۔

موجودہ دور میں جب یہ ناسور ہر سو پھیلا نظر آتا ہے تو لگتا ہے کہ یہ مسئلہ تو شاید اب صور اسرافیل کے ساتھ ہی منتہی ہو گا لیکن اس وقت تک بس یہی تمنا حسرت بن کر آنکھوں میں سمائی ہوئی ہے کہ اللہ مسلمانوں کی حفاظت فرمائے۔

ایک مسئلہ تو عالمی ہے یعنی دہشت گردی اور دوسرا سنگین مسئلہ یہ ہے کہ کہ دہشت گردی کی دنیا کا مرکزی کردار مسلمان ہے۔ بظاہر تو یہ ایک الزام ہے لیکن اس کے پس پردہ ایک خطرناک سازش بھی ہے کہ ’جہاد دہشت گردی ہے‘ کیوں کہ عام فہم کے مطابق دہشت گردی کا مفہوم یہ ہے کہ بے گناہوں قتل عام کیا جائے تو جہاد میں بھی تو یہی ہوتا ہے لیکن ان دونوں میں فرق صبح واضح ہے۔

دہشت گردی میں تو بے گناہ انسانوں کو ناحق قتل کیا جاتا ہے جب کہ جہاد میں ایک مقصد ہوتا ہے، ایک بہت ہی اعلیٰ مقصد ہوتا ہے۔ جہاد کو دہشت گردی کہنا سوائے ایک دجل اور جھوٹ کے کچھ نہیں ہے ۔ لیکن حقیقت سے بیگانہ اور سچائی سے ناآشنا کچھ لوگ الزام لگاتے ہیں کہ مسلمان دہشت گرد ہوتے ہیں۔

اگر تاریخ کے سنگلاخ صحراؤں میں پھرا جائے تو انہی لوگوں کی خون آشامی اور ان کی سرشت میں رچی ہوئی بے رحمی کی دھول ان صحراؤں میں ہر سو پھیلی نظر آئے گی۔ چناں چہ تاریخ میں ایسے کتنے ہی ادوار آئے جن میں غیر مسلموں کی جانب سے نہ صرف مسلمانوں بلکہ انسانوں پر زندگی کو تنگ کر دیا گیا، لاکھوں بلکہ کروڑوں انسانوں کو موت کے پنجوں میں دے دیا گیا۔

700 ھ کے درمیان میں اسلامی حکومت بغداد پر تاتاریوں نے حملہ کیا اور حکومت بغداد کو تاخت و تاراج کیا اور خون ریزی کا وہ بازار گرم کیا کہ الامان و الحفیظ۔ تاتاریوں کے حکمران ہلاکو خان نے اپنی فوج کے ساتھ بغداد پر حملہ کیا اور سیاہ طوفان سے مسلمانوں کا قتل عام کیا، اس تباہ کن حادثے میں بغداد اور اس کے مضافات میں مقتولین کی تعداد دو لاکھ سے دس لاکھ بتائی جاتی ہے۔ بوڑھوں کو بخشا گیا نہ عورتوں کو اور نہ ہی بچوں پر رحم کیا گیا، مسلمانوں کا بیش قیمت علمی خزانہ دجلہ میں بہا دیا گیا اور کئی دن تک اوراق مقدسہ کا یہ علمی سرمایہ دجلہ کی موجوں کے ساتھ بہتا رہا۔ اب انصاف سے بتائیں کہ کیا دس لاکھ انسانوں کو قتل کرنا دہشت گردی نہیں ہے؟ اور ہے تو کیا ہلاکو خان مسلمان تھا؟ نہیں، بالکل نہیں!

یہ تو بات سقوط بغداد کی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور عالمگیر سانحہ جس میں سینکڑوں انسانوں اور  مسلمانوں ناحق قتل کیا گیا، سقوط غرناطہ ہے، وہ وقت جب عیسائی ہسپانیہ پر غالب آ گئے تھے۔ کیا سقوط غرناطہ کے وقت خون ریزی کا بازار گرما دینے والے مسلمان تھے؟ ہرگز نہیں، بلکہ شدید ترین متعصب عیسائی تھے۔

ہٹلر کے نام سے تو دنیا واقف ہے، جرمنی کا فوجی کمانڈر جس نے ظلم اور دہشت گردی کی انتہاء کر رکھی تھی اور اس کا ایک اتحادی جسے دنیا مسولینی کے نام سے جانتی ہے، ان دونوں نے مل کر کم و بیش 51 لاکھ یہودیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا تو یہ دونوں بھی مسلمان نہیں تھے۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں عالمی دہشت گرد امریکہ نے جاپان میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم حملہ کر کے ظلم و بربریت اور دہشت گردی کا سر بھی شرم سے جھکا دیا۔ صرف ہیروشیما میں ایٹم بم حملے سے آن کی آن میں ہلاک ہو جانے والوں کی تعداد دو لاکھ ہے اور کتنے ہی لوگ معذوری کی زندگی آج بھی گزاررہے ہیں تو کیا کسی مسلمان حکومت نے ایٹم بم حملے کی یہ گھناؤنی واردات کی تھی؟

آزادی پاکستان کے وقت جو لوگ ہجرت کر کے پاکستان آ رہے تھے، سکھوں اور ہندؤوں نے بے دردی اور بے رحمی سے ان کو قتل کیا۔ ٹرینیں جب پاکستان کی سرحد پر پہنچیں تو لاشیں ہی نظر آتی تھیں۔ اس وقت تقریباً پانچ سے دس لاکھ لوگوں کو لقمۂ اجل بنایا گیا تو ان لوگوں کو تو ہندؤوں اور سکھوں نے قتل کیا تھا اور دہشت گردی کی تاریخ رقم کی تھی۔

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہندوستان کا موجودہ وزیراعظم جب گجرات کا وزیر اعلیٰ تھا تو اس وقت مسلمانوں کو قتل کیا گیا، سکھوں کو گجرات کی گلیوں میں گھسیٹا گیا، خواتین کی آبرو ریزی کی گئی تو کیا یہ سب دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا؟ اور کیا یہ سب مسلمانوں نے کیا تھا؟ ہندوستان ہی کی وزیراعظم اندرا گاندھی کو کسی مسلمان نے قتل کیا تھا؟ مہاتما گاندھی کو کسی مسلمان نے گولیوں سے چھلنی کیا تھا؟ بابری مسجد مسلمانوں کے ہاتھوں شہید ہوئی تھی؟

یہ تو دہشت گردی کی وہ خوف ناک صورت تھی جو ہمیں تاریخ کے آئینے میں نظر آئی؛ لیکن اگر ہم تاریخ کو پس پشت ڈال کر موجودہ دور میں اپنے اطراف کا جائزہ لیں تو اب بھی غیر مسلموں کی جانب سے وہ سفاکانہ اقدامات نظر آئیں گے کہ روح کانپ اٹھے۔ آج بھی دنیا کے کئی حصوں خاص کر مسلم ممالک میں آئے روز قتل عام کیا جا رہا ہے۔ شام، برما، لیبیا، چیچنیا، کشمیر کے اندر ہزاروں بے گناہوں کے خون کی ندیاں بہائی جا رہی ہیں۔ ان میں مردوں، عورتوں، بچوں، بوڑھوں غرض کسی بھی شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے کسی بھی فرد کو رعایت نہیں دی جاتی۔ نہایت بے رحمی سے ان کو قتل کیا جاتا ہے۔ کہیں پر معصوم بچے کھڑے نظر آتے ہیں جو اپنے والدین کی جدائی پر رو رہے ہیں، کہیں پر والدین اپنی اولاد پر آنسو بہا رہے ہیں۔

فلسطین میں روز وشب اسرائیل کی جانب سے بمباری کی جاتی ہے۔ گھر تو گھر اسکولوں اور ہسپتالوں میں بھی یہ ناروا سلوک کیا جاتا ہے۔ کشمیر کے حالات ہمارے سامنے ہیں۔ بھارتی قابض افواج کی جانب سے جارحیت اور دہشت گردی کی انتہاء کر دی گئی ہے۔ کشمیری عوام ہر چیز کے لئے محتاج ہیں، ان پر زندگی تنگ کر دی گئی ہے، روزانہ کتنے نہتے کشمیریوں کو بے گناہ قتل کر دیا جاتا ہے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کے لوگوں کو امید سحر ہے ہی نہیں۔ ہر نکلتے دن کے ساتھ ان لوگوں کی نظریں دنیا کی طرف جاتی ہیں اور تمام نظریں آزادی اور پرسکون زندگی کی منتظر ہوتی ہیں لیکن مایوس کن جواب لے کر واپس آ جاتی ہیں۔ ان تمام حالات میں وہاں کے محبوس و لاچار مسلمان اور عوام اشک مصیبت بہانے پر مامور ہیں اور دیگر ممالک ے برادران ہاتھوں میں انگلیاں دبائے اشک ندامت بہانے پر مجبور ہیں لیکن ان تمام واقعات کی روشنی میں یہ اندازہ لگانا بالکل مشکل نہیں کہ دہشت گردی کی خونی داستانیں کن کی جانب سے لکھی جاتی رہی ہیں اور اس سب کے باوجود دور حاضر میں مسلمانوں پر اس کا الزام لگانا چہ معنی دارد؟

خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عثمان عامر خان کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *