مملکت خداداد پاکستان کا نظام عدل اور جارج فلائیڈ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ امریکہ کی ریاست منیسوٹا کا شہر منی ایپلس ہے۔ 25 مئی 2020 کو یہاں ایک واقعہ رونما ہو جس کی ویڈیو نے امریکی معاشرے کی بنیادیں ہلا دیں۔ اس ویڈیو میں دکھایا جا رہا تھا کہ ایک سیاہ فام شخص زمین پر اوندھے منہ پڑا ہوا ہے اور وہ بار بار پولیس والے سے التجا کر رہا تھا کہ اسے سانس لینے میں مشکل پیش آ رہی ہے کیونکہ وہ زمین پر گرا ہوا تھا اور پولیس کا ایک سپاہی اپنی تربیت کے مطابق اس کی کمر پر گھٹنے رکھ کر اسے قابو میں رکھے ہوئے تھا۔

وہ التجا کرتا اور پھر اٹھنے کی کوشش کرتا جس پر پولیس کا اہلکار اس کے جسم پر اپنے گھٹنوں کا دباؤ بڑھادیتا اور جارج بالآخر نو منٹ تک اس حالت میں رہنے کے بعد آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے اس دنیا سے کوچ کر گیا۔ اس ویڈیو میں پولیس کی وردی میں موجود شخص امریکہ کا ایک سفید فام ڈیرک شووین اور ملزم ایک سیاہ فام جارج فلائیڈ تھا۔ یہ ویڈیو امریکہ میں سماجی ویب سائٹس پر چلی تو امریکی معاشرے میں ایک طوفان برپا ہو گیا اور سیاسی، سماجی شخصیات سے لے کر ہالی وڈ کے سرخ و سفید فنکاروں اور سیاہی مائل موسیقاروں تک سب نے جارج کے بہیمانہ قتل پر واویلا مچا دیا۔

امریکہ کے نظام عدل اور انصاف میں کھلبلی مچ گئی اور کئی ریاستوں میں پولیس کو غیر مسلح کرنے کی تجاویز دی گئیں۔ جارج کے قتل کے الزام میں ڈٰیرک شووین کو گرفتار کر کے اس پر مقدمہ کا آغاز کر دیا گیا اور اس وقت جائے وقوعہ پر موجود گواہان اور عینی شاہدین بلا خوف و خطر اپنی گواہیاں دینے کے لیے اپنی زندگیوں میں سے وقت نکال کر عدالت کے چکر لگاتے رہے۔

ڈیرک شووین پولیس کا ملازم تھا لیکن مجال ہے کہ امریکی پولیس نے اسے اداروں کے مابین لڑائی کی وجہ بنایا ہو اور پولیس عدالتی کارروائی کے دوران ہر ممکن حد تک عدالت کے ساتھ تعاون کرتی رہی۔ اس واقعے کے کچھ عرصے بعد ہی ڈیرک پر فرد جرم عائد کر دی گئی اور 20 اپریل 2020 کو ایک جیوری نے اکثریتی فیصلے کی بنیاد پر اسے جارج کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرا دیا۔

وطن عزیز میں اگر اس طرح ہونے والے واقعات سے اس کا موازنہ کیا جائے تو یہ ایک عجیب سی بات لگتی ہے۔

وردی اور بوٹ والے پولیس اہلکار کے ایسے کوئی تعلقات نہیں تھے جو مقتول کے ورثا پر دباؤ ڈال کر صلح پر مجبور کرنے کی کوشش کرتے، کوئی ایسا سیاست دان یا ادارہ نہیں تھا جو ڈیرک کو قوم کے بہادر بچے کا خطاب دیتا۔ یہاں تو عجیب ماجرا نظر آتا ہے کہ امریکی پولیس نے اپنے ہی اہلکار کے اقدام قتل سے اپنے ہاتھ اٹھا لیے اور اسے امریکہ کی عدالتوں کے سپرد کر دیا کہ عدالت انصاف کے ترازو میں دونوں پارٹیوں کے دعوؤں کو تول کر جو فیصلہ کرے گی اس پر سرتسلیم خم کریں گے۔

اب آتے ہیں وطن عزیز کی طرف، یہ 13جنوری 2018 کے دن کراچی کے ایک مضافاتی علاقے کا منظر ہے۔ کراچی پولیس کا ایک بدنام زمانہ ایس ایس پی میڈیا کو بلاتا ہے اور انھیں خبر دیتا ہے کہ پولیس کے ساتھ مقابلے میں کالعدم تحریک طالبان کے 3دہشت گرد مارے گئے ہیں اور پولیس کارروائی کے بارے میں معلومات دینا جاری رکھا۔ دوسری طرف جب ان ”دہشت گردوں“ میں سے ایک کے ورثا کو یہ خبر ملی تو ان پر قیامت ٹوٹ پڑی کہ ان کا لال، ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک بے جان پڑا ہوا ہے۔

وہ پریشانی کے عالم میں ایک دوسرے کا منہ دیکھ کر سوال کر رہے تھے کہ جسے پولیس دہشت گرد بتا رہی ہے یہ تو ان کا بھائی، بیٹا اور شوہر ہے۔ یہ تو اپنے گاؤں سے دور شہر میں دو وقت کی روٹی کمانے کے لیے دکانداری کرتا تھا۔ عمومی طور پر تو یہ واقعہ بھی وطن عزیز کے نام نہاد عدل و انصاف کے علمبرداروں اور محافظوں کے نزدیک اتنا اہم نہ رہتا لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ مقتول نقیب اللہ محسود سوشل میڈیا پر سرگرم رہتا تھا اور اسے ماڈل بننے کا شوق تھا اور اس کی پروفائل اس کی خوبصورت تصاویر سے مزین تھی۔

جب کراچی پولیس کے مبینہ مقابلے میں نقیب محسود کی ہلاکت کی خبر نقیب کے دوستوں اور ورثا تک پہنچی تو ملک میں شاید پہلی بار ایک منظم مہم چلائی گئی جس کا مقصد اس ماورائے عدالت قتل کے مجرمان کو کیفرکردار تک پہنچانا تھا۔ لیکن اس کے لیے جدوجہد کرنے والے لوگوں کو شاید اندازہ نہیں تھا کہ مملکت خداداد پاکستان میں انصاف کے حصول کے لیے ایوبؑ کا صبر اور نوح ؑ کے جتنی عمر بھی کم ہے۔

اس سانحے کے ذمہ دار راؤ انوار کو پکڑ کر قانون کے سامنے کھڑا کرنے میں پولیس اور اداروں کے پسینے چھوٹ گئے۔ ایک موقع پر اپنے فرار کے دوران راؤ کو ملک کے ایک بڑے شہر کے ایئر پورٹ سے بیرون ملک فرار سے روک لیا گیا لیکن عجیب بات یہ تھی کہ وہ گرفتار نہیں ہو سکا۔ اور آخر کار جب وہ عدالت میں پیش ہوا تو انصاف کا اصل مذاق تب شروع ہوا۔ ماورائے عدالت قتل کا ملزم اپنے گھر میں مزے سے رہنے لگا اور ہر پیشی پر چمکتے جوتے اور مہنگے سوٹ زیب تن کیے راؤ ملک میں انصاف اور عدل کے پیمانوں کی حقیقت کو سینہ ٹھوک کے دنیا کو بتا رہا تھا۔

مقدمے کے شروع ہونے کے کچھ ہی عرصہ بعد راؤ انوار کے خلاف گواہ ایک ایک کر کے اپنے بیانات سے مکر گئے۔ ملک کی ایک بڑی سیاسی پارٹی کے سربراہ نے ببانگ دہل راؤ کو ”بہادر بچہ“ کا خطاب نواز کر ڈھکے چھپے الفاظ میں اس کی حمایت کا تأثر دیا۔ اور نقیب کے بہیمانہ قتل پر اس کے لیے انصاف حاصل کرنے کی دعویدار ایک قوم پرست جماعت نے ملک کے سیاسی مدار میں اپنی جگہ مضبوط کر کے اس واقعے کو تقریباً بھلا دیا۔

راؤ پر مقدمہ چلتا رہا اور آخر کار ملک کے نظام عدل نے انصاف کے ”اعلیٰ ترین تقاضوں“ کو مدنظر رکھتے ہوئے راؤ انوار کو پیرول پر رہائی دے دی۔ اسی دوران نقیب کا باپ اپنے بیٹے کو انصاف دلوانے کی جدوجہد اور انتظار میں کینسر کی بیماری کی وجہ سے دنیا سے چلا گیا۔ اور تین بے گناہوں کا قاتل اپنی مرضی سے اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہونے کا اعلان کر کے ملک میں امیر اور غریب، طاقتور اور کمزور کے لیے انصاف کے الگ پیمانوں کو آشکار کر کے آزاد گھومنے لگا۔

جارج فلائیڈ تو چلا گیا لیکن وہ امریکہ کے عدل و انصاف کے نظام پر اپنے نقوش چھوڑ گیا اور امریکہ کے ہر شہری کو بلاتمیز قانون کے تابع ہونے کا ثبوت دے گیا۔ نقیب بھی چلا گیا اور اس کو انصاف ملنے کے انتظار میں اس کا باپ بھی مرکھپ گیا لیکن جارج کے مدمقابل اس کی قبر پر اس کی، وطن عزیز میں بلا تفرق انصاف کی فراہمی اور بطور قوم ہماری انصاف کے لیے جدوجہد پر فاتحہ پڑھ لی گئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
لطیف الرحمان، کراچی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *