بہاولپور کا محلہ کجل پورہ جہاں صفائی نصف ایمان ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم ارد گرد پھیلی گندگی کا اکثر ذکر کرتے ہیں۔ کیوں نہ کریں ہمیں ماننا پڑے گا کہ ہمارے بازار، ہمارے واش روم، ہمارے گھر کی ساتھ والی گلی، ہمارے پارک، ہمارے گھر کے ساتھ والا خالی پلاٹ گندگی کی آماج گاہیں ہیں۔ معاف کیجیے گا اسی ارض پاک میں ایسی دیواریں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں جن پر ”صفائی نصف ایمان“ لکھا ہو گا اور نیچے کوڑے اور غلاظت کے ڈھیر لگے ہوں گے۔

آپ نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہوں گے جو اپنا ذاتی گھر صاف کرا کے سارا گند پچھلی گلی میں پھینک دیتے ہیں۔ آدھے کروڑ کی گاڑی کا شیشہ کھول کے برگر کا ڈبہ اور سوڈے کی بوتل باہر پھینک دیں گے۔ ساتھ ناک چڑھاتے اور منہ بسورتے یہ کہتے نہیں تھکیں گے کہ ”پاکستان کے لوگوں کو تمیز نہیں یا لوگ بہت گندے ہیں۔“

اپنے گھر کو تیزاب سے غسل دلوا کر اپنی ساری گلی گندی کر دیں گے (تیزاب گردی کے ماحولیاتی اثرات ایک علیحدہ مضمون کے متقاضی ہیں ) ۔ اڑتے لفافے، پلاسٹک کی بوتلیں، چپس کے پیکٹ، آئس کریم کے کپ، کانچ کے ٹکڑے۔ نہ جانے کیا کچھ گلیوں میں پھینک کر ہم میونسپل کمیٹی اور حکومت کو کوستے نظر آئیں گے کہ ”صفائی والا عملہ ٹھیک کام نہیں کرتا، کرے بھی کیسے حکومت ہی نا اہل ہے۔“

ہم یہ نہیں دیکھتے کہ چپس کھا کر ہمارے بچے نے پیکٹ گلی کی نذر کیا ہے۔ سگریٹ کی خالی ڈبی آپ کے سامنے آپ کے دوست نے زمین پر اچھالی ہے۔ پانی کی بوتل پارک میں لگے ڈرم کی بجائے زمین پر آپ نے پھینکی ہے۔ آپ نے جس بیوی کو محبت اور چاؤ سے آئس کریم کھلائی ہے، گاڑی کا شیشہ کھول کر خالی کپ آپ کے سامنے اسی نے اسی چاؤ سے باہر گرایا ہے۔ تو پھر یہاں صفائی والے عملے کی بجائے ہمارے اعمال کوسے جانے کے قابل نہیں ہیں؟ حکومت کی بجائے ہماری نا اہلی نہیں ہے کہ اہل خانہ کو صفائی کا اہل نہیں بنا سکے؟

سوئیزرلینڈ، ناروے، نیوزی لینڈ، جرمنی جیسے ملکوں کی خوبصورت تصویریں، پھولوں سے سجی گلیاں، گندگی کے بغیر بازاروں کی تصویریں ہم سوشل میڈیا پر بھی سجا رہے ہوتے ہیں اور بیسیوں لوگ انہیں لائک بھی کر رہے ہوتے ہیں لیکن یہ سوچنے سے قاصر رہتے ہیں کہ یہ بازار اور گلیاں اتنی صاف شفاف کیوں ہیں؟ اگر ان ملکوں کے شہری بھی ہمارے والے رویے اختیار کریں تو کیا ان کی حکومتیں اور صفائی والا عملہ ہر جگہ پھینکے جانے والے گند کو صاف کر سکے گا؟ہرگز نہیں۔

اپنے آپ اور اپنے گھر کے ساتھ ساتھ (بعد نہیں ) آپ کی گلی، آپ کے محلے، آپ کے شہر اور آپ کے ملک کی صفائی سب سے پہلے آپ پر فرض ہے۔ اس لئے ہمیں اپنے آپ کو اور پھر اپنے ارد گرد لوگوں کو احساس دلانے کی ضرورت ہے۔ ایک دوسرے پر اخلاقی دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے کہ ہماری گلی سے لے کرہمارا ملک صاف ستھرا نظر آئے۔

بہاولپور کے محلہ کجل پورہ کی شیخ مسعود سٹریٹ کی بہت خوش نما تصویریں دیکھنے کو ملیں۔ اہل محلہ نے اس تنگ سی گلی کو اٹلی یا یونان کی کسی گلی کی طرح پھولوں اور سبزے سے سجا دیا ہے اور یہ سب انہوں نے حکومت کا انتظار کیے بغیر اپنی مدد آپ کے تحت کیا ہے۔ کتنا خرچ آیا ہو گا؟ شاید ایک وقت کی پیزا پارٹی کے برابر۔ کتنا کام کرنا پڑا ہو گا؟ شاید احساس جگانے کا۔ دل پہ ہاتھ رکھ کر بتائیے ایسی گلی سے گزرتے ہوئے لاپروا سے لاپروا آدمی سگریٹ کا ٹوٹا پھینکتے ہوئے بھی ایک دفعہ رک نہیں جائے گا؟ کیا ان کے بچے ہی اپنے گھر کو اور آس پاس کو مزید سجانے اور سنوارنے کے لئے مقابلہ بازی نہیں کریں گے؟

اس گلی کی تصاویر دیکھ کر تصور کیجیے کہ یہی گلی اندھیری ہو، گندگی سے اٹی ہو، آوارہ بلیاں، کتے چہل قدمی فرما رہے ہوں تو کتنی بھیانک ہو گی؟ دن کے وقت بھی لوگ ادھر سے گزرتے ڈرتے ہوں گے۔ آج لوگ وہاں جا کر تصویریں بنا بنا کر بھیج رہے ہیں۔

حاصل کلام یہی ہے کہ جس دن ہم سب نے ذمہ داری اٹھا لی، جس دن ہمیں ادراک ہو گیا کہ صفائی نصف ایمان دیوار پر لکھنے کی بجائے اپنے دل، آنکھوں اور ہاتھوں پر لکھ لیا اور یہ سمجھ لیا کہ صفائی صرف حکومت کا نہیں میرا اور میرے گھر والوں کا بھی کام ہے اس دن ہماری گلیاں بھی صاف ہوتی جائیں گی، ہمارا محلہ بھی، ہمارا شہر بھی اور ہمارا ملک بھی۔ سب سے بڑھ کر ہماری نسلیں بھی۔

تو پھر کیوں نہ محلہ کجل پورہ کی تصویریں شیئر کرنے اور ان پر واہ واہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی گلی کا چکر بھی لگا لیا جائے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *