بائیڈن کا کانگریس سے خطاب ‘اسٹیٹ آف دی یونین’ کیوں نہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج صدر بائیڈن مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے اور اسے رسمی طور پر ’اسٹیٹ آف دی یونین‘ خطاب کا عنوان نہیں دیا گیا ہے

امریکہ کے صدر جو بائیڈن اپنی حکومت کے سو دن مکمل ہونے پر آج کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ حسب روایت اس خطاب میں صدر ملک کی موجودہ صورتِ حال، درپیش مسائل اور اپنی انتظامیہ کی کارکردگی پر اظہارِ خیال کریں گے۔

صدر کا یہ خطاب کئی اسباب سے اہمیت کا حامل ہے تاہم اس خطاب کو ’اسٹیٹ آف دی یونین‘ کا عنوان دیا جاسکتا ہے یا نہیں اور اس عنوان سے ہونے والے خطاب کا کیا تاریخی پس منظر ہے؟ اس کے بارے میں کچھ اہم تفصیلات یہاں دی جارہی ہیں۔

’اسٹیٹ آف دی یونین‘ خطاب کیا ہے؟

امریکی آئین کے آرٹیکل دو کے سیکشن تین کی شق ایک کے مطابق صدر کو ’’وقتاً فوقتاً کانگریس کو اسٹیٹ آف دی یونین یعنی وفاق کی صورتِ حال کے متعلق معلومات دینا ہوں گی اور انہیں کانگریس کو ایسے اقدامات تجویز کرنے ہوں گے جو ان کے خیال میں ضروری اور مناسب ہوں گے۔‘‘

سن1934 تک ’سالانہ پیغام‘ کہلانے والا یہ خطاب ہر سال دسمبر میں کیا جاتا تھا۔ اس کے بعد سے یہ خطاب جنوری یا فروری میں ہونے لگا۔

پہلا اسٹیٹ آف دی یونین خطاب آٹھ جنوری 1790 میں جارج واشنگٹن نے کیا جو صرف 1089 الفاظ پر مشتمل تھا۔ یہ اب تک امریکی تاریخ کا سب سے مختصر اسٹیٹ آف دی یونین خطاب ہے۔

یہ خطاب ایوان نمائندگان، سینیٹ، سپریم کورٹ اور ڈپلومیٹک کور کے ارکان اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی موجودگی میں ایوانِ نمائندگان کی عمارت میں ہوتا ہے۔

اس کی تاریخ دونوں ایوانوں سے منظور شدہ ایک قرارداد کے ذریعے طے کی جاتی ہے۔

کیا صدر بائیڈن ’اسٹیٹ آف دی یونین‘ خطاب کریں گے؟

امریکی کانگریس کی ’کانگریشنل ریسرچ سروس‘ کے مطابق ماضی کے چھ صدور نے اپنی حلف برداری کے بعد شروع ہونے والے سال میں ’اسٹیٹ آف دی یونین‘ خطاب کا عنوان اختیار نہیں کیا۔

اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ عام طور پر‘اسٹیٹ آف دی یونین‘ خطاب جنوری یا فروری میں ہوتا ہے جب کہ صدر کی حلف برداری بھی سال کے آغاز میں ہوتی ہے۔

صدر اس تقریب سے اپنا افتتاحی خطاب کر چکے ہوتے ہیں جس میں اپنی مستقبل کی پالیسی اور اہداف بھی بیان کیے جاتے ہیں اس لیے پہلے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے لیے رسمی طور پر اسٹیٹ آف دی یونین کا عنوان اختیار نہیں کرتے۔

مثلاً 2017 میں صدر ٹرمپ نے حلف برداری کے بعد کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے جو خطاب کیا اسے ’کانگریس کے مشترکہ اجلاس کے روبرو خطاب‘ کا عنوان دیا گیا تھا۔

ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے 14 اپریل کو صدر بائیڈن کے نام ایک خط میں انہیں حکومت کے سو دن مکمل ہونے پر ایوان سے خطاب کی دعوت دی تھی جس کے بعد آج صدر بائیڈن مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے اور اسے رسمی طور پر ’اسٹیٹ آف دی یونین‘ خطاب کا عنوان نہیں دیا گیا ہے۔

حالیہ تاریخ میں کئی صدور ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنی مدت پوری ہونے کے قریب اسٹیٹ آف دی یونین خطاب نہ کرنے کو ترجیح دی تاہم متعدد صدور نے الوداعی خطابات کیے ہیں۔

بدلتی روایات

صدر تھامس جیفرسن وہ پہلے صدر تھے جنھوں نے ہرسال کانگریس سے مخاطب ہونے کے بجائے تحریری طور پر اپنا سالانہ پیغام کانگریس کو ارسال کیا۔

انہوں نے سن 1801 میں اپنے پہلے خطاب کی نقول کانگریس کے دونوں ایوانوں کو بھیجی تھیں جہاں ان ایوانوں کے کلرکوں نے اس تقریر کو پڑھا۔

کانگریشنل ریسرچ سروس کے مطابق صدر تھامس جیفریسن صدر کا بذات خود ہر سال کانگریس سے مخاطب ہونے کو ’بادشاہت‘ کی روایت اور وقت کا ضیاع تصور کرتے تھے۔

خطاب کی تحریری نقول بھیجنے کی یہ روایت سو برس سے زائد عرصہ تک جاری رہی۔

بعد میں صدر وڈرو ولسن نے 1913 میں خود تقریر کرنے کی روایت کو بحال کیا۔

ٹیکنالوجی اور صدارتی خطاب کا سفر ساتھ ساتھ

صدر کیلون کولج کا 1923 میں کیا گیا اسٹیٹ آف دی یونین خطاب پہلی مرتبہ ریڈیو پر نشر کیا گیا۔

اسٹیٹ آف دی یونین خطاب پہلی مرتبہ 1947 میں ٹی وی پر نشر کیا گیا جو ہیری ٹرومین کی طرف سے کیا گیا۔

سن 2002 میں صدر جارج ڈبلیو بش کی اسٹیٹ آف دی یونین تقریر کو پہلی مرتبہ انٹرنیٹ پر لائیو نشر کیا گیا۔

1966ء میں پہلی مرتبہ صدر کے سالانہ خطاب پر باضابطہ ردِعمل ٹی وی پر نشر کیا کیا گیا۔ 1982 سے حزبِ اختلاف کی جماعت کی طرف سے ردعمل ظاہر کرنا ایک روایت بن گیا۔

خصوصی مہمان

رونلڈ ریگن وہ پہلے صدر تھے جنہوں نے 1982 میں خاتون اول کے ساتھ بیٹھنے کے لیے خصوصی مہمانوں کو دعوت دی اور تقریر کے دوران ان کی آمد کا شکریہ ادا کیا۔

’ڈیزگنیٹڈ سروائیور‘

ہر اسٹیٹ آف دی یونین خطاب سے پہلے ایک شخص کو نامزد کیا جاتا ہے جسے ’ڈیزگنیٹڈ سروائیور‘‘ یعنی ’’نامزد زندہ بچنے والا‘‘ کہا جاتا ہے۔

یہ صدر کی کابینہ کا ایک رکن ہوتا ہے جو کسی تباہ کن آفت میں صدر اور ان کی جگہ لینے کے اہل تمام افرد کی ہلاکت کی صورت میں صدارت سنبھالنے کا اہل ہوتا ہے۔

صدر کے خطاب سے کئی ہفتے قبل نامزد کیے جانے والے ڈیزگنیٹڈ سروائیور کی شناخت صیغہ راز میں رکھی جاتی ہے۔ خطاب کے دن اسے ایک خفیہ مقام پر لے جایا جاتا ہے اور صدر کے وائٹ ہاؤس میں واپس آنے اور دیگر رہنماؤں کے کیپیٹل ہل یعنی کانگریس کی عمارت سے چلے جانے تک اسے حفاظت میں رکھا جاتا ہے۔

اس بار مشترکہ اجلاس کتنا مختلف ہوگا؟

روایت یہ ہے کہ صدر کا ڈیزگنیٹڈ سروائیور اس خطاب کے لیے بلائے گئے اجلاس میں شریک نہیں ہوتا۔ ایوان میں صدر نائب صدر اور صدر کی ممکنہ جانشینی کی فہرست میں شامل دیگر حکام کے کسی قدرتی آفت یا حادثے کا شکار ہونے کی صورت میں امور صدارت کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے یہ احتیاطی تدبیر اختیار کی جاتی ہے۔ حالیہ برسوں میں کانگریس کے چنیدہ ارکان بھی کیپٹل سے غیر حاضر رہتے ہیں۔

تاہم اطلاعات کے مطابق کرونا وائرس کی وبا اور سیکیورٹی اقدامات کے باعث آج ہونے والا مشرکہ اجلاس بعض اعتبار سے ماضی سے مختلف ہوگا۔

اطلاعات کے مطابق ایوان یا ہاؤس چیمبر میں صرف 200 افراد کو داخلے کی اجازت ہوگی۔ اجلاس میں شریک نمائندگان کی نشستیں گیلری میں رکھی گئی ہیں اور ہاؤس فلور پر کسی کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اسی طرح اس بارمشترکہ اجلاس میں مہمان بھی شریک نہیں ہوں گے۔

عام طور پر کانگریس کا مشترکہ اجلاس سال کے آغاز میں منعقد ہوتا ہے کرونا وائرس سے پیدا شدہ حالات اور جنوری میں کیپٹل ہل میں پیش آنے والے واقعات کے باعث اجلاس کی تاریخ آگے بڑھائی گئی۔

رواں سال جنوری میں ہونے والے کیپٹل ہل واقعات کے باعث آج ہونے والے مشترکہ اجلاس کے لیے خصوصی حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں اور اسے ’نیشنل اسپیشل سیکیورٹی ایونٹ‘ قرار دیا گیا ہے۔

امریکہ میں ہوم لینڈ سیکیورٹی ڈپارٹمنٹ کسی قومی یا بین الاقوامی اہمیت کی حامل تقریب کو درپیش خطرات کے باعث اسے ’نیشنل سیکیورٹی ایونٹ‘ قرار دے سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1896 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *