فائز عیسیٰ کے خلاف کیس وزیرِ اعظم نے بنوایا؛ سابق سربراہ ایف آئی اے کے الزام پر حکومت کا قانونی نوٹس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر احمد میمن نے جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف مبینہ سازش کے بارے میں کہا ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ایف آئی اے میں کیس کا اندراج چاہتے تھے۔ (فائل فوٹو)
اسلام آباد — سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے اور کارروائی کے حوالے سے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) بشیر احمد میمن کے حالیہ انکشافات پر حزبِ اختلاف نے حکومت پر شدید تنقید کی ہے، جب کہ حکومت نے بشیر میمن کے بیانات کی مکمل تردید کرتے ہوئے انہیں قانونی نوٹس ارسال کر دیا ہے۔

سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر احمد میمن نے جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف مبینہ سازش کے بارے میں کہا ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ایف آئی اے میں کیس کا اندراج چاہتے تھے۔ وزیرِ اعظم کے مشیر شہزاد اکبر، وفاقی وزیر فروغ نسیم، وزیرِ اعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان اور ایف بی آر کے ایک اعلیٰ افسر اس سارے معاملے میں شامل تھے۔

بشیر میمن نے کیا دعویٰ کیا ہے؟

ایف آئی اے کے سابق ڈی جی بشیر میمن نے منگل کی شب نجی ٹی وی چینل ’جیو نیوز‘ کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیرِ اعظم کے اسٹاف کے ایک سینئر رکن نے انہیں فون کر کے کہا کہ وزیرِ اعظم نے انہیں طلب کیا ہے۔ جب وہ ان سے ملاقات کے لیے گئے تو ایسٹ ریکوری یونٹ کے سربراہ اور وزیرِ اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر پہلے سے وہاں موجود تھے۔ اعظم خان اور شہزاد اکبر انہیں لے کر وزیرِ اعظم آفس گئے جہاں عمران خان نے ان سے کہا کہ وہ پہلے بھی بڑے اچھے کیس بناتے رہے ہیں۔ اس کیس میں بھی ہمت کرنی ہے اور اچھا کیس بنانا ہے۔

بشیر میمن کا کہنا تھا کہ شہزاد اکبر کے دفتر میں جا کر انہیں معلوم ہوا کہ وزیرِ اعظم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیس بنانے کی بات کر رہے تھے۔ ان کے بقول، اس پر انہوں نے حیرانی سے شہزاد اکبر اور اعظم خان سے کہا کہ وہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ کے خلاف ایف آئی اے کی تحقیقات کی بات کر رہے ہیں۔ ان کی طبیعت تو ٹھیک ہے۔

بشیر میمن نے مزید کہا کہ اس حوالے سے انہوں نے واضح انکار کیا جس کے بعد وہ وفاقی وزیرِ قانون فروغ نسیم کے دفتر پہنچے جہاں انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کیس شروع کرے باقی عدالت کا معاملہ فروغ نسیم خود دیکھ لیں گے۔

ایف آئی اے کے سابق افسر کے مطابق انہوں نے اس بات سے صاف انکار کیا اور کہا کہ کسی جج کے خلاف کارروائی کا اختیار سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس ہے۔ ایف آئی اے ایسا نہیں کر سکتی۔ لیکن حکومتی عہدیدار بضد رہے۔ ایک ماہ بعد شہزاد اکبر نے ان سے قاضی فائز عیسیٰ اور ان کے اہل خانہ کی سفری تفصیلات مانگیں۔ لیکن انہوں نے دینے سے انکار کر دیا۔ بعد میں حکومت نے ایف بی آر اور دیگر اداروں کی مدد سے ان کے خلاف ریفرنس بنایا جو کالعدم قرار دے دیا گیا۔

بشیر میمن نے سیاسی رہنماؤں کے خلاف مقدمات بنانے کا حکم دینے سمیت وزیرِ اعظم عمران خان اور مختلف حکومتی شخصیات پر سنگین الزامات بھی عائد کیے اور کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان سابق وزیرِ اعظم نواز شریف، ان کی صاحب زادی مریم نواز، قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف، مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں خواجہ آصف، جاوید لطیف، رانا ثنا اللہ سمیت دیگر افراد کے خلاف سخت مقدمات چاہتے تھے اور انہیں بار بار ایسا کرنے کے لیے کہا گیا۔ بعد ازاں ان کی مدتِ ملازمت مکمل ہونے سے 20 روز قبل انہیں او ایس ڈی بنا دیا گیا جس پر انہوں نے ملازمت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

بشیر میمن سے ایسی کوئی ملاقات کبھی ہوئی ہی نہیں؛ شہزاد اکبر کی مکمل تردید

وزیرِ اعظم کے مشیر برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر نے بشیر میمن کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بشیر میمن کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے معاملے پر وزیرِ اعظم یا ان سے ملاقات کے لیے کبھی طلب نہیں کیا گیا۔ نہ ہی ان کی وزیرِ قانون فروغ نسیم سے کوئی ملاقات ہوئی ہے۔ انہیں کسی شخصیت کے خلاف کوئی کیس شروع کرنے کا کبھی نہیں کہا گیا۔

سوشل میڈیا پر جاری بیان میں شہزاد اکبر نے کہا کہ ان پر لگائے جانے والے تمام تر الزامات جھوٹ ہیں۔

شہزاد اکبر نے بشیر احمد میمن کو 50 کروڑ روپے کا قانونی نوٹس بھی ارسال کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں انہوں نے اس نوٹس کی کاپی بھی لگائی ہے جس میں انہوں نے بشیر میمن کو کہا کہ ان پر ٹی وی پروگرام میں کسی ثبوت یا حقائق کے بغیر جھوٹ پر مبنی، من گھڑت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ فوری طور پر معافی مانگی جائے۔ بصورت دیگر شہرت کو نقصان پہنچانے پر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

وفاقی وزیرِ قانون فروغ نسیم نے بھی ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ قاضی فائز عیسیٰ کیس کے حوالے سے کبھی بھی بشیر میمن سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ اعظم خان، شہزاد اکبر اور بشیر میمن کبھی ایک ساتھ ان کے دفتر نہیں آئے۔

انہوں نے کہا کہ اعظم خان صرف ایک مرتبہ ان کے دفتر آئے تھے تاکہ قانونی اصلاحات سے متعلق تبادلۂ خیال کیا جا سکے۔ وزیرِ اعظم عمران خان، اعظم خان اور شہزاد اکبر نے ان سے اس بارے میں کبھی بات نہیں کی کہ انہوں نے جسٹس عیسیٰ کیس پر بشیر میمن سے کوئی بات کی ہو۔

فائزعیسی کیس میں حکومتی کردار پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے: مریم نواز

بشیر میمن کے دعوؤں کے حوالے سے ​مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مافیاز کے گینگز نے کبھی ایسی حرکتیں نہیں کیں جو وزیرِ اعظم ہاؤس سے کی جا رہی ہیں۔ اداروں کے سربراہ کو بلا کر کہا جاتا ہے کہ مقدمات بنائیں۔ سیاسی انجینئرنگ کے لیے ادارے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ بشیر میمن ایک ادارے کے سربراہ تھے اور ادارے کا سربراہ ذمہ داری سے بات کرتا ہے۔ حکومت کے سربراہ نے کہا کہ فلاں کو جیل میں ڈالو۔ اس طرح تو ڈان یا گینگ کے سربراہ کہتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ارشد ملک کی ویڈیو جب میرے پاس آئی تو قوم کے سامنے رکھی۔ جسٹس شوکت عزیز کی گواہی آن ریکارڈ ہے۔ اب بشیر میمن کی گواہی آ گئی ہے۔ بشیر میمن کے انکشافات تو آج سامنے آئے اور بھی بہت سی گواہیاں آئیں گی۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے حکومتی سازشوں کا مقابلہ کیا۔ اگر یہ جج دب جاتے اور آواز نہ اٹھاتے۔ تو ان کا بھی آج کہیں ذکر نہ ہوتا۔

مریم نواز نے کہا کہ وزیرِ اعظم ہاؤس میں قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سازش کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ قاضی فائز عیسیٰ کیس میں وزیرِ اعظم کے اوپر لگنے والے الزامات پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ججز کو بلیک میل کر کے غلط فیصلے کرانے پر وزیرِ اعظم پر مقدمہ بننا چاہیے۔ عدلیہ میں موجود جج کے لیے کہا گیا کہ اسے گرفتار کرو یہ بڑا معاملہ ہے۔ مسلم لیگ (ن) اس کو نہیں جانے دے گی۔ عدلیہ سے درخواست ہے اس معاملے کو خود دیکھے۔

سنگین الزامات پر عدالت کو از خود نوٹس لینا چاہیے: امان اللہ کنرانی

سابق سینیٹر اور سپریم کورٹ بار ایسویسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی ایڈوکیٹ کہتے ہیں کہ اس معاملے پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ازخود نوٹس لینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بشیر میمن کی طرف سے عائد کیے جانے والے الزامات سنگین نوعیت کے ہیں۔ ریاست نے ایک جج کے خلاف کارروائی کے لیے حکومتی ادارے کو مجبور کیا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ جوڈیشل کمیشن بنا کر تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کو سزا دی جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1850 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *