آکسیجن کی کہانی (قسط 2) لاوزیئر کا سر کیوں قلم کیا گیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آٹھ مئی 1794ء کی خوشگوار صبح پیرس میں ایک جگہ بہت بڑا مجمع لگا ہوا ہے۔ کچھ دن پہلے تک اس جگہ کا نام تخت پادشاہی چوراہا ہوا کرتا تھا لیکن اب انقلاب آ چکا ہے چنانچہ اسے الٹے ہوئے تخت کا چوک کہتے ہیں۔ تماش بینوں میں جوان، بوڑھے، عورتیں اور بچے سبھی شامل ہیں۔ اردگرد عمارتوں کی کھڑکیوں سے بھی بہت سے لوگ لٹکے ہوئے بے چینی سے ان دلچسپ اور خوشگوار مناظر کے منتظر ہیں جو کچھ دیر بعد نمودار ہونے کو ہیں۔ ایک بڑا دروازہ کھلتا ہے ، انقلابی مددگار ایک ایک کر کے 28 مجرموں کو مضبوطی سے قابو کر کے لاتے ہیں۔

ہجوم زور زور سے نعرے لگاتا ہے۔ کچھ افراد لائے جانے والوں کی طرف تھوک، گالیاں اور جوتے بھی اچھال دیتے ہیں۔ انقلابی کارکنان وقت ضائع کیے بغیر ان سبھی کا جرم مختصراً پڑھ کر سنا دیتے ہیں۔ زیادہ ٹیکس لینے اور تمباکو میں ملاوٹ جیسے ہولناک جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ شور اتنا ہے کہ فرد جرم کسی کو سنائی نہیں دیتی۔ ایک ایک مجرم کو لایا جاتا ہے۔ گلوٹین کے نیچے شکنجہ میں اس کی گردن کسی جاتی ہے اور جلاد کھٹ سے بھاری بلیڈ گراتا جاتا ہے۔ قلم شدہ سر سامنے رکھی بید کی باسکٹ میں جا گرتا ہے۔ باسکٹ میں جمع ہونے والے ان سروں میں ایک سر اس شخص کا ہے جس نے ہوا میں آکسیجن کا سراغ لگایا تھا اور اپنی اس دریافت کو آکسیجن کا نام دیا تھا۔ اس شخص کا نام آنتوائن لاوزیئر ہے۔

یورپ کا عہد تاریک

سلطنت روما کے زوال سے قرون وسطیٰ کا آغاز ہو گیا جسے یورپ کا عہد تاریک بھی کہا جاتا ہے۔ اس دور کی اہم خصوصیات میں بڑے بڑے جاگیردار، نواب، نائٹس، بادشاہ اور کسانوں کا وجود شامل ہیں۔ سب سے نمایاں پہلو معاشرے پر مذہب کا مکمل اور اٹل غلبہ ہے۔

آبادی کی اکثریت رومن کیتھولک مذہب اور اس کی اقدار پر ایمان رکھتی ہے۔ وابستگان کلیسا صرف پیدائش سے موت تک تمام تقریبات کا انتظام ہی نہیں کرتے بلکہ لوگوں کے افعال، اعمال، ایمان، لباس اور اخلاق پر نظر رکھنا بھی اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ مذہبی رہنما اتنے طاقتور ہیں کہ انہیں ناراض کر کے بادشاہ بھی تخت پر برقرار نہیں رہ سکتا۔ کلیسا ہی عدالتی نظام کا سربراہ ہے۔ ملک کے دفاع اور دوسرے ملکوں پر حملہ کرنے کے لئے صلیبی مجاہدین فراہم کرنا بھی کلیسا کے ہی اختیار میں آتا ہے۔ اس نظام کے عروج پر کل جاگیروں کا ایک تہائی کلیسا کی ملکیت تھا۔

چودھویں صدی میں جب پورا یورپ طاعون کی لپیٹ میں آ گیا تو کلیسا نے وبا کو بداعمالیوں اور گستاخیوں کی سزا اور عذاب خداوندی قرار دیا۔ گناہ گار افراد کی تلاش میں پہلے پہل مسلمانوں اور یہودیوں کے قتل عام کیے گئے پھر خود عیسائیوں کی باری آئی۔ جس شخص پر توہین مذہب یا بدعت کے ارتکاب کا الزام لگتا، اس کی جائیداد بحق کلیسا ضبط کر کے اسے سرعام جلایا جاتا۔ مفرور یا طبعی موت مر جانے والے ملزم کی جگہ اس کے پتلے جلا کر سزا کی تکمیل کر دی جاتی۔

ایک طرف یورپ کی قریباً آدھی آبادی اور مال مویشی چوہوں سے پھیلنے والے ایک جراثیم یرسینیا پیسٹس کے ہاتھوں تلف ہو رہی تھی اور عوام الناس قحط سالی کا شکار تھے ۔ دوسری طرف کلیسائی کارندے جنونی انداز میں دعائیہ محافل اور ماتمی جلوسوں (فلاجیلیشن) کا اہتمام کر رہے تھے۔ چرچ کی منظور شدہ تعلیمات کے علاوہ ہر قسم کی فکر سختی سے ممنوع اور حرام تھی۔ عام طور پر 1517ء کو اس عہد سیاہ بختی کا خاتمہ سمجھا جاتا ہے ، جب وٹن برگ یونیورسٹی میں دینیات کے پروفیسر اور پادری مارٹن لوتھر نے کلیسا پر منظم تنقید تحریر کر کے اس تحریک کا آغاز کیا ، جو پروٹسٹنٹ فرقہ کے قیام پر منتج ہوئی۔

سائنسی انقلاب کی ابتداء

ارسطو اور بطلیموس کے نظام کائنات میں دنیا ایک ساکت و جامد سیارہ ہے جس کے گرد سورج، چاند اور تمام سیارے گردش کر رہے ہیں۔ یہ تصورات انجیلی تعلیمات کے قریب تر ہیں۔ پولش ماہر فلکیات کوپرنیکس نے 1543ء میں نئے کائناتی تصور کو پیش کرتے ہوئے وضاحت کی تھی کہ دنیا اپنے مدار پر گھوم رہی ہے اور ساتھ ساتھ سورج کے گرد گردش کرتی ہے۔ اس کا انتقال ہو گیا لیکن یہ نظریات آہستہ آہستہ مقبول ہوتے گئے۔

یوں تو علم البصریات (آپٹکس) پر ابتدائی کام الکندی اور ابن الہیثم جیسے عرب فلاسفر کئی صدی پہلے کر چکے تھے لیکن جب 1608ء میں بنی ہوئی پہلی جدید اور طاقتور دوربین کی مدد سے اطالوی نژاد گلیلی گلیلیو نے سورج، چاند، مشتری اور زہرہ کا طویل عرصہ مشاہدہ کیا تو اسے یقین ہو گیا کہ زمین حرکت کر رہی ہے۔ اس کے ان مشاہدات پر مشتمل کتاب ”دنیا کے دو اہم ترین نظاموں پر مکالمہ“ شائع کی۔ اس کاوش کو کلیسائی عہدیداروں نے اپنے اختیارات میں دخل اندازی سمجھا چنانچہ 1633ء میں پوپ اربن ہشتم کے متعین کردہ تفتیشی افسر نے گلیلیو پر مقدمہ کا آغاز کیا۔

کمرہ عدالت اتفاق سے وہی جگہ تھی جہاں 1600ء میں ماہر فلکیات برونو بعینہٖ انہی نظریات پر گستاخ ثابت ہو گیا تھا اور نتیجہ میں جلا دیا گیا تھا۔ اڑھائی ماہ تک چلنے والے اس مقدمہ کے اختتام پر گلیلیو کے نظریات کو باطل اور مقدس آسمانی صحائف سے متصادم قرار دیتے ہوئے اس کی کتاب پر پابندی عائد کر دی گئی وہ جلائے جانے سے تو بچ گیا لیکن پھر تا عمر گھر میں نظربند رہا۔ گلیلیو کو سائنسی انقلاب کا نقیب سمجھا جاتا ہے۔ 1687ء میں آئزک نیوٹن نے حرکت اور کشش ثقل کے قوانین کی وضاحت کر کے فلکیات میں انقلاب برپا کر دیا اور جدید طبعیات کی بنیاد رکھ دی۔

فلاجسٹن کا نظریہ

سترہویں صدی میں آئرش ماہر طبعیات و کیمیاء دان رابرٹ بوائل نے ثابت کیا کہ عمل احتراق (کمبسشن) ہوا کے بغیر ممکن نہیں۔

کیونکہ اس وقت تک ارسطو کا چار بنیادی عناصر والا نظام سائنس دانوں کے حواس پرغالب تھا لہٰذا دھاتوں میں زنگ لگنے کے مشاہدہ کی بنیاد پر ایک نیا نظریہ سامنے لایا گیا جسے فلاجسٹن نظریہ کہتے ہیں جس کے مطابق ہر آتش گیر شے میں آگ موجود ہوتی ہے۔ ایک دفعہ جب ایسا مادہ پوری طرح جل جائے تو بچ رہنے والا مادہ ہی اس کی خالص شکل ہوتی ہے۔

آکسیجن کی دریافت

اس کو محض اتفاق نہیں کہا جا سکتا کہ تین مختلف ملکوں میں رہنے والے تین محققین نے ایک دوسرے سے الگ تھلگ تجربے کرتے ہوئے کم و بیش ایک ہی عرصے میں آکسیجن کے وجود کو دریافت کر لیا۔

1۔ کارل شیل

1771ء میں سویڈش فارماسسٹ شیل بہت سادہ سامان سے یہ کھوج لگانے میں کامیاب ہو گیا کہ ہوا میں ایک چوتھائی گیس وہ ہے جو جلنے میں مدد کرتی ہے جس کا نام اس نے ناری ہوا یا فائر ایئر رکھا۔ شیل نے یہ سراغ بھی لگایا کہ لوہے کو زنگ لگانے کا کام بھی یہی ناری ہوا کرتی ہے۔

2۔ جوزف پریسٹلی

1774ء میں برطانوی مصنف، تاریخ دان، نقاد، ماہر ریاضیات اور برقیات جوزف پریسٹلی ہوا میں موجود ایک ایسی گیس کا سراغ لگانے میں کامیاب ہو گیا جو جلتی شمع کے شعلے کو مزید روشن کر دیتی ہے۔ پریسٹلی نے اس گیس کا نام فلاجسٹن نظریہ کے تحت ڈی فلوجسٹیکیٹڈ ہوا قرار دیا۔ اس گیس کے علاوہ ہوا میں موجود کوئی گیس عمل احتراق میں مدد نہیں دیتی۔ پریسٹلی کی ایجادات میں نائٹرس آکسائیڈ جسے آپریشن اور زچگی کے دوران استعمال کیا جاتا ہے اور سوڈا واٹر بھی شامل ہیں جبکہ اس نے پودوں میں فوٹو سینتھیسز کا انقلابی سراغ بھی لگایا۔

پریسٹلی اپنے سیاسی و مذہبی خیالات میں خاصہ انقلابی تھا۔ اس کی کتاب ”عیسائیت میں انحراف کی تاریخ“ پر لوگ اس کے خلاف ہو گئے اور کتاب کے تمام نسخوں کو سرعام نذر آتش کیا گیا۔ وہ فرانسیسی اور امریکی انقلابات کا بھی کھلم کھلا حامی تھا۔ چنانچہ اسے غیر محب وطن اور باغی قرار دیتے ہوئے برمنگھم میں واقع اس کے گھر کو جلا کر راکھ کر دیا گیا۔ مجبوراً اسے اپنے اہل خانہ کے ساتھ ایک کشتی میں سوار ہو کر امریکہ جانا پڑا جہاں کی سائنسی برادری نے کھلی بانہوں سے اس کا استقبال کیا۔ پریسٹلی اور امریکی صدر بنجمن فرینکلن بہت گہرے دوست تھے۔ فرینکلن خود برقیاتی سائنس دان تھے اور ان ہی کی تحریک پر پریسٹلی نے تصنیف و تاریخ کے بجائے سائنس کو اپنا میدان مشق بنایا تھا۔

اینتوئن لاوزیئر

فرانسیسی کیمیاء دان لاوزیئر کو اعزاز جاتا ہے کہ انہوں نے 1778ء میں ہوا میں موجود اس گیس کا سراغ لگا لیا جو اشیاء کو جلنے میں مدد دیتی ہے۔ اس گیس کا نام انہوں نے آکسیجن رکھا۔ لاوزیئر نے متعدد دیگر عناصر بھی دریافت کیے اور بقائے کمیت کا کلیہ متعارف کرایا۔

لاوزیئر نے تنفس میں آکسیجن کے ساتھ ساتھ حرارت اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کا کافی درست اندازہ لگا لیا۔ اس کے علاوہ 55 بنیادی عناصر کے تسمیات کا نظام وضع کر کے چار بنیادی عناصر کے تاریخی نظام کو بالآخر مسترد کر دیا۔ انہی خدمات کی بنا پر لاویزیئر کو بابائے جدید کیمیاء تسلیم کیا جاتا ہے۔

لاوزیئر کا تعلق فرانس کے طبقۂ امراء سے تھا۔ اپنی غیر روایتی فکر، انسان دوستی اور تحقیقی امنگ کے باعث وہ پھر بھی فرانسیسی انقلاب کے پرجوش حامی تھے۔ پریسٹلی کی طرح وہ بھی امریکہ کے سائنس دان صدر بنجمن فرینکلن کے ذاتی احباب میں شامل تھے۔ انقلابی حکومت نے ان کے طبقاتی پس منظر کو جواز بناتے ہوئے جھوٹے مقدمہ میں ان کا سر قلم کر دیا۔ گو کچھ عرصہ بعد اس غلطی کا احساس کر لیا گیا اور بیوہ سے معذرت کر لی گئی۔ لاوزیئر نے دوران مقدمہ جج سے اپیل کی تھی کہ مجھے صرف اپنے پہلے سے جاری تجربات مکمل کرنے دیں جس پر جج نے یہ تاریخی جواب دیا تھا:

”اس جمہوریہ کو دانشور اور سائنس دانوں کی کوئی ضرورت نہیں!“

جاری ہے۔۔۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *