ہاتھی دانت کا تخت
آئیں میرے ساتھ آپ کو ایک عظیم الشان بادشاہ سے ملواتا ہوں۔ کچھ نہیں ہوا آپ کے لباس کو، ایسے ہی چلتے ہیں۔ جینز، ٹراؤزر، ٹی شرٹ، جو بھی پہن رکھا اس بات کی فکر نہ کریں۔ دربان کی جرأت نہیں ہو گی آپ کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ لے۔ بادشاہ کے بیٹے میرے دوست ہیں، وہ اور بات ہے کہ آپس میں دشمن ہیں۔
یہ دیکھیں قلعۂ معلی ہے۔ سبز پوش میدان ہے۔ اس میں موجود سب لوگ بادشاہ سے ملنے کے لیے ہی آئے ہیں۔ یہ ہاتھیوں کو دیکھو کیسے زربفت کی جھولیں اور سنہری عماریاں پہنے ہوئے ہیں۔ ظالم اپنے ہی نشے میں مست ہیں۔ آؤ آگے چلتے ہیں کہیں کوئی اتھرا ہاتھی ہمیں پہلے ہی سونڈ میں گھما کر جلاد کے پاس نہ پھینک دے۔ قلعہ کی فصیل پر دیکھو کیسے توپیں چڑھائی ہوئی ہیں۔ جیسے پوری رعایا ایک حکم سے مار دینی ہے۔
یہ سامنے بادشاہ کا یاقوتی بجرہ کھڑا ہے۔ اس کا نام سرخ عقاب ہے۔ ایسا لگ رہا جیسے عقاب پانی میں تیر رہا ہو۔ دیکھو کیسے حاشیوں پر زریں دستوں کے شمع دان اور کنول نصب ہیں۔ یہ سات علم ہیں۔ آفتاب گیر، کوکبہ، چترطوغ، طومان، ماہی مراتب، شیر مراتب اور شاہجہانی۔ یہ ہل چل کیوں مچ گئی، لگتا بادشاہ آ گیا ہے۔
دیکھو کیسے توپیں داغ رہے ہیں، نقارے گرج رہے ہیں، نوبتیں بج رہی ہیں۔ آؤ ہم بھی ان معززین کی قطار میں چلیں۔ جوتا اتار لو، ادھر اصفہانی قالین پر چلنے کا مزہ لو۔ یہ طلاباف مخمل کی چھت تو دیکھو، یہ ستون چاندی کے بنے ہوئے ہیں۔ منقاروں میں موتیوں کی مالا دیکھی؟ یہ ادھر ہاتھ لگاؤ پکھراج کی ڈالیں، زمرد کی پتیاں، یاقوت کے پھل۔
یہ محافظ دستہ ہے اس کے پیچھے دیکھو، بادشاہ کیسے جلال سے آ رہا ہے، کیسے آستین، شمس دامن، گریبان میں ہیرے جواہرات لٹکائے ہوئے ہے۔ موتیوں سے بنا تاج، اس کی چمک دمک دیکھو۔ جلدی سے گھٹنوں تک سر کو جھکا لو، لباس کی معافی ہے بے ادبی کی نہیں۔ اب آرام سے سر اٹھاؤ، نگاہ نیچی ہی رکھنا۔
بادشاہ تخت طاؤس پر بیٹھ گیا ہے۔ سنت، سادھو، یوگی، درویش، عالم، فلسفی، شاعر، نجومی، رمال، گرز بردار، شمشیر زن، یساول، نقیب، حاجب، خواجہ سرا، منصب دار، راجگان خوانین، نوابین، کیسے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں۔
یہ ہاتھی سیدھا دربار میں گھس کر بادشاہ کی طرف آ رہا ہے کہیں بادشاہ کو روند ہی نہ ڈالے؟
ارے نہیں، یہ بھی بادشاہ سے محبت کرتا ہے، اس کا نام ”فتح جنگ“ ہے۔ جب بادشاہ تخت پر بیٹھتا ہے پھر یہ ہاتھی داہنے پیر پر جھک کر سونڈ پیشانی پر رکھ کر سلام کرے گا۔
یہ دیکھا کیسے اس نے سلام کیا ہے۔ ذرا بادشاہ کے ہاتھ میں تسبیح دیکھو، خالص آب دار موتی کی بنی ہوئی ہے۔
خوشبو محسوس کر رہے ہو؟ یہ طاق میں رکھی جڑاؤ انگیٹھیوں میں عود اور عنبر سلگ رہا ہے۔ روشنی دیکھو کس قدر ہے، یہ طلائی شمع دانوں میں کافوری شمعیں روشن ہیں۔
ابھی کچھ کنیزیں سات جواہروں، سات دھاتوں، سات اناجوں کے طباق خوان اور کشتیاں لے کر آئیں گی۔ کچھ اٹھا کر کھا نہ لینا بس صرف دیکھنا ہے، یہ بادشاہ کا صدقہ ہے۔ اور سنو، کنیزوں کی طرف بھی نہ آنکھ اٹھا کر دیکھنا۔ بادشاہ کی خاص ہیں۔ ورنہ فتح جنگ کے پیروں تلے روندے جاؤ گے۔ بس ایک کنیز کو دیکھ لو سمجھو سارا حسن دیکھ لیا۔
کس کو؟
وہ جو ننگی کمر پر صراحی رکھے، بادشاہ کے سامنے کورنش کے لیے خم ہوئی پڑی، دوشاخوں کی طرح سنہری پنڈلیوں والی، کچے سونے کے برہنہ بازوؤں پر جوشن سجائے ہوئے، وہ گہری ناف پر جگنو باندھے ہوئے، شباب کی آگ میں دہکتی کاجل بھری سیاہ لمبی نیلم آنکھیں، مشک کے ابرو، یاقوت ہونٹوں میں موتی لیے ہوئے، لانبی مہین انگلیوں میں سبز پھول، سیاہ ریشم کے گیسو والی۔ بس ہمارا دیکھنا یہاں تک ہی ہے۔ یہ جام صرف بادشاہ کے لیے چھلکے گا۔ یہ پیالہ اسی کے لیے بھر کر پیش کیا جائے گا۔ اس کے بدن کے پیچ و خم سے باہر نکل آؤ۔
آؤ ہم بھی بادشاہ کے لیے پورے دربار کے ساتھ مل کر باآواز بلند پنڈت راج جگناتھ کا قصیدہ پڑھیں۔
دلی کا شہنشاہ، دنیا کا شہنشاہ
جتنے بادشاہ ہیں،
سب اس کے باج گزار ہیں
دلی کا شہنشاہ
کسی بھی شخص کو
کوئی بھی انعام دینے کی
قدرت رکھتا ہے۔
دلی کا شہنشاہ، دنیا کا شہنشاہ
یہ ہم دربار کی رونقوں میں گم ہو گئے، میرا مقصد آپ کو ساتھ لانے کا صرف یہ تھا کہ اس بادشاہ کے دو بیٹوں سے آپ کو ملوانا تھا۔ ایک اورنگزیب دوسرا دارا شکوہ۔ لیکن وہ دونوں اس وقت یہاں نہیں ہیں۔ اب ہم ان دونوں بھائیوں سے قاضی عبدالستار کے شہرہ آفاق ناول ”دارا شکوہ“ میں ملیں گے۔ کیوں کہ دونوں بھائی اس وقت آپس میں جنگ میں مصروف ہیں۔
” لیکن یہ آپس میں لڑ کیوں رہے ہیں؟ ان کو پتہ بھی ہے ان میں سے ایک قتل ہو جائے گا۔“
ایسے سوال بادشاہوں کے دربار میں نہیں پوچھے جاتے، آؤ واپس چلیں۔ اس بات کا کسی سے ذکر نہ کرنا، فتح جنگ ہمیں روند ڈالے گا۔
ہاں اپنے سوال کا جواب چاہیے، وہ میری جو تحریر پڑھنا چھوڑی تھی اس کی آخری سطر پڑھ لو۔ جواب مل جائے گا۔
” یہ دونوں بھائی اسی ہاتھی دانت کے تخت کے لیے لڑ رہے ہیں۔ جس پر بیٹھ کر فرعون نے خدائی دعویٰ کیا تھا۔“


