پاکستان نیوی میں گزارے سنہرے دن: ٹریننگ سینٹر میں دوسرا دن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دوسرے دن کے متعلق روٹینز کا علم پہلے ہی روز ہو چکا تھا۔ صبح پانچ بجے اٹھنے کی سیٹی بجی تو آنکھ کھلی اور بستر سے نکلے اور بستر کو ترتیب سے تہ کر کے رکھ دیا۔ لاکر سے ٹوتھ برش لیا اور اس پر ٹوتھ پیسٹ لگائی اور منہ میں رکھ لیا۔ شیونگ کریم لی اور ٹھوڑی پر تھوڑی لگائی اور شیونگ برش ساتھ لیا۔ تولیہ اپنے ستر والے حصے پر لپیٹ کر واش روم کی طرف چل دیا۔ تولیے کے سوا کوئی کپڑا ساتھ نہ لیا کیونکہ واش رومز میں رش ہوتا ہے، اس لیے اگر دیر ہو تو شور مچتا ہے کہ جلدی باہر نکلو۔

اس لئے تولیہ ہی واش روم میں جانے کے لئے ساتھ لینا بہترین چوائس تھی۔ انڈر ٹرینیز کے نہانے کے لئے صرف تین منٹ مختص تھے۔ اس لئے دو دو لڑکے بھی اکٹھے نہا لیتے تھے۔ چلتے چلتے ٹوتھ برش کرتا گیا اور واش روم میں پہنچنے تک برش ہو چکا تھا۔ بیسن پر کلی کر کے منہ صاف کیا اور حجام آ کر کھڑے ہو چکے تھے اور شیو کرانے کے لئے لائنیں لگنی شروع ہو گئی۔

میں نے اپنا شیونگ برش گیلا کیا اور جو شیونگ کریم ٹھوڑی پر لگائی ہوئی تھی ، اس کی جھاگ بنانی شروع کر دی اور حجام سے شیو کرانے کے لئے لائن میں کھڑا ہو گیا۔ باری آنے تک جھاگ بن چکی تھی شیو بنوائی اور فریش ہونے کے بعد غسل کے لئے واش روم کے باہر لائن میں لگ گیا۔ باری آنے پر غسل کیا اور بیرک میں واپس آ گیا۔ شلوار قمیض پہنی اور مسجد کا رخ کیا کہ نماز پڑھوں۔

کچھ لڑکے صبح کی پی ٹی پر جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ میں مسجد چلا گیا اور نماز پڑھی۔ پی این ایس ہمالیہ میں ٹریننگ کے دوران میں نے صرف ایک دن صبح کی پی ٹی میں شرکت کی اور اس دن جو واقعہ ہوا بہت ہی مزیدار دلچسپ تھا ، بعد میں بیان کروں گا۔ میں ہمیشہ ہی صبح کی پی ٹی سے چھپتا رہا۔ نہیں جاتا تھا گراؤنڈ میں۔ پی این ایس ہمالیہ میں چھپنے کے لئے بہت سی جگہیں تھیں۔ استادوں کو سارا علم تھا لیکن وہ بھی کبھی کبھی بے بس ہو جاتے تھے۔

پی ٹی سے جب لڑکے واپس آئے تو نہانے وغیرہ سے فارغ ہو کر ہم سب ایک میس والے ناشتہ کرنے چلے گئے۔ ناشتہ میں روزانہ چنے کی دال، ڈبل روٹی اور چائے۔ ناشتہ کر کے واپس آئے تو استاد صاحب آئے اور ہمیں نیول شلوار قمیض میں ہی پریڈ گراؤنڈ لے گئے۔ آٹھ بجے قومی جھنڈا لہرایا جاتا تھا اور اس کے بعد پریڈ۔ یہ روزانہ کی روٹین تھی۔ پریڈ کے بعد ہم واپس بیرک میں آ گئے کیوں کہ کہ ہمارے ابھی فارم پر ہونے کا کام ابھی رہتا تھا۔

ایک ایک لڑکے کے لئے فارم چھ چھ کاپیوں پر مشتمل تھے جن کو ہاتھ سے پر کرنا ہوتا تھا۔ ہم بیرک میں بیٹھ کر اپنے ڈویژن چیف صاحب کا انتظار کرنے لگے۔ کچھ دیر بعد وہ بھی آ گئے اور فارم پر کرنے کا سلسلہ شروع ہوا جو دوپہر ایک بجے تک جاری رہا۔ دوسرے دن میرے فارم پر ہونے کا کام تو مکمل ہو گیا۔ یونٹ میں جس طرح صبح آٹھ بجے سب اکٹھے ہوتے ، اسی طرح ڈیڑھ بجے دوبارہ اکٹھے ہوتے تھے۔ جو کہ چھٹی کا ٹائم تھا اور چھٹی کے وقت کے لئے ”سکئیر“ کی ٹرم استعمال ہوتی تھی۔ چھٹی کے وقت ڈیلی آرڈر پڑھ کر سنایا جاتا تھا۔ جس میں اس وقت ڈیڑھ بجے سے لے کر اگلے دن صبح آٹھ بجے تک کے تمام احکامات ہوتے تھے۔ کس ڈیوٹی پر کون ہو گا ، کیا کرے گا وغیرہ وغیرہ۔ ڈسپرس کے متبادل اردو کا لفظ ”چلے جا“ استعمال ہوتا تھا۔

انگریزی کی ٹرمز جو میں نے اپنے والد صاحب کے ساتھ ان کی یونٹ میں سنیں تھیں ، وہ ساری اردو زبان میں منتقل کر دی گئی تھیں۔ اردو اور فارسی دونوں زبانوں سے الفاظ منتخب کیے گئے تھے۔ جو ہم استعمال کر رہے تھے۔ فالو آن ( فالن ) یعنی فارمیشن میں کھڑے ہو جائیں۔ اٹینشن ( ہوشیار ) ، سٹینڈ ایزی ( آسان باش ) ، کوئیک مارچ (جلدی چل ) ، ڈبل مارچ ( دوڑے چل ) ، دائیں کے لئے داہنے کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ بائیں کے لئے بائیں ہی استعمال ہوتا ہے۔ لیفٹ، رائٹ کے لئے ( چپ، راس ) یہ فارسی زبان کے الفاظ ہیں۔ بائی دی نمبر کوئیک مارچ ( نمبر سے قدم مار ) اس کا مطلب کھڑے کھڑے پریڈ کرنا۔ بائی دی نمبر ڈبل مارچ ( نمبر سے دوڑے چل ) یعنی کھڑے کھڑے دوڑنا۔ سلو مارچ ( آہستہ چلنا ) یہ گارڈ کے معائنہ کے لئے یا مخصوص مواقع پر پریڈ کی ایک قسم ہوتی ہے۔

چیف صاحب اور ان کا اسٹاف سکئیر کے لئے گراؤنڈ میں چلا گیا اور ہم اپنی کلاس کا انتظار کرنے لگے جو یونیفارم پہن چکی تھی اور گراؤنڈ میں تھی۔ کلاس کے لڑکے پونے دو بجے واپس آئے اور دوپہر کے کھانے کے لئے پلیٹ مگ اٹھایا اور میس کی طرف چل پڑے۔ کھانا کھایا اور بیرک میں واپس آ گئے۔ جو لڑکے یونیفارم میں گراؤنڈ سے ٹریننگ کر کے واپس آئے تھے ، کھانے کے بعد یونیفارم تبدیل کر کے آرام کے لئے اپنے بستروں پر چلے گئے۔ جبکہ کچھ لڑکے ٹولیاں بنا کر بیٹھ گئے اور باتیں شروع کر دیں۔ خالد ڈویژن میں میرا دوسرا بننے والا دوست تنویر احمد ہے جس کا تعلق شاہ کوٹ سے ہے جو فیصل آباد کے قریب ہے۔ تنویر احمد مجھ سے پہلے پہنچا تھا ہمالیہ میں اور ایک ڈیوٹی واچ کا انڈر ٹرینی واچ کمانڈر چن لیا گیا تھا۔

یہاں میں ڈیوٹی واچ سسٹم کے بارے بتا دوں۔ ریڈ واچ، وائٹ واچ، بلیو واچ، یہ تین نام ہیں ڈیوٹی واچ سسٹم کے۔ یہ ڈیوٹی واچ سکئیر کے بعد ایکٹیو ہوتیں تھیں اور ہر ایک کے لئے ایک دن مخصوص ہوتا تھا۔ ایک دن ریڈ واچ سکئیر کے بعد کے تمام معاملات کی ذمہ دار ہوتی اس دن پوری یونٹ میں ریڈ واچ ہر جگہ ڈیوٹی پرموجود ہوتی۔ اگلے دن وائٹ واچ پوری ڈیوٹی پر موجود ہوتی ہے۔ اس سے اگلے دن بلیو واچ ڈیوٹی پر موجود ہوتی۔ تمام عملہ ان تین ڈیوٹی واچز میں تقسیم ہوتا ہے۔

جس کی واچ ہوتی وہ ڈیوٹی پر جانے کے لئے اسٹینڈ بائی ہوتے ، باقی چھٹی انجوائے کرتے۔ اس طرح ڈیوٹی واچز کا سائیکل چلتا ہے۔ کچھ اسٹاف کی ڈیوٹی واچز ایکسکیوز ہوتیں تھیں اس کی وجوہات ہوتیں ہیں۔ جو بعد میں بیان کروں گا۔ سپورٹس ٹائم میں درزی سے اپنی پتلونیں اور نیکریں لے کر آیا جو گزشتہ روز کمر کے سائز کے مطابق کرنے کے لئے دیں تھیں۔ سپورٹس ٹائم کو بیرک میں ہی گزارا نئے دوستوں کے ساتھ گپ شپ کرتے ہوئے۔ مزید نئے دوستوں کے ساتھ تعارف ہوا۔ دوسرے دن ایک چٹھی خیر و خیریت کی لکھ کر اپنے والد صاحب کو بھیج دی۔ شام کا کھانا کھانے کے بعد دوستوں سے طویل گپ شپ کا سلسلہ جاری رہا۔

( جاری ہے )


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments