مانی، حرا اورعرفان حسن

ہم عام پاکستانی تو اہل و عیال بشمول اہلیہ کو سر پر دوپٹہ ٹھیک کرنے اور ڈریس کوڈ کے بارے میں ہدایات جاری کرتے ہی رہتے ہیں۔ اور یہ بیبیاں بھی بڑی سعادت مندی سے ہمیں اس قسم کے مواقع بار بار فراہم کرتی رہتی ہیں, لیکن ہمیں اس وقت حیرت ہوئی جب مشہور اداکار، میزبان و پروڈیوسر سلمان ثاقب شیخ المعروف مانی نے یہ سنسنی خیز اعتراف کیا کہ وہ اپنی اہلیہ حرا مانی کو بولڈ لباس پہننے سے منع کرتے رہتے ہیں۔

سچی بات تو یہی ہے اپنے اہل و عیال کے بولڈ لباس پر ہر مسلمان مومن بھائی کو ہی اعتراض ہوتا ہے۔ جب کہ دیگر خواتین کے بارے میں لوگ عام طور پر کچھ اتنے زیادہ حساس نہیں ہوتے۔ کوئی ”ایری غیری“ جتنا بولڈ لباس پہنتی ہو ”نتھو خیرے“ بھی اسے اتنی ہی بے باکی و باریک بینی سے دیکھتے ہیں:

آئین جواں مرداں ”حق جوئی و بیباکی“
جب کہ بخشتے تو وہ برقعے والیوں کو بھی نہیں :
جو ”برقعوں“ میں خود کو چھپائے ہوئے ہیں
قیامت وہی تو اٹھائے ہوئے ہیں

مانی جی نے اس قسم کا اعتراف ایک ٹی وی شو ”دی کپل شو“ میں کیا ہے۔ جو کہ ایک نجی ٹیلی وژن چینل سے نشر ہوا۔ خیال رہے یہ اپنا دیسی کپل شو تھا نہ کہ بدیسی ”دی کپل شرما شو“ جو کہ پڑوسی ملک کا مقبول و مشہور شو تھا۔ اس پروگرام کی ایک خوبی اس میں مشہور کرکٹر و پاکستان دوست سیاست دان نوجوت سنگھ سدھو کی شمولیت بھی تھی کہ جو اس میں شاعرانہ چٹکلے یا پھر چٹکلانہ اشعار پیش کرتے رہتے تھے۔

ہمارا خیال ہے کہ مذکورہ پاکستانی شو کہ جس میں حرا اور مانی شریک ہوئے اس کا نام کپل شو نہ صرف اس کی میزبان جوڑی کے باعث رکھا گیا ہے بلکہ شاید شو کرنے والے شعوری یا لاشعوری طور پر کپل شرما کے شو سے متاثر بھی رہے ہوں گے۔

مانی، اس شو میں اپنی اہلیہ حرا کے ساتھ شریک ہوئے۔ دونوں کا شمار پاکستانی شوبز انڈسٹری کی مشہور اور رومانی جوڑیوں میں ہوتا ہے اور دونوں نے متعدد ڈرامے اور شوز ایک ساتھ کیے ہیں۔

دونوں کو ساتھ ساتھ دیکھ کر ہمیں نہ جانے کیوں ”شہاب ثاقب“ یاد آنے لگتا ہے؟

گفتگو کے اس پروگرام میں جہاں دونوں نے اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ جدوجہد کے بارے میں بات کی وہیں سلمان نے حرا کی موجودگی میں اپنی بیوی کی ڈھیر ساری تعریفوں کے ساتھ ساتھ اس قسم کا اعتراض نما اعتراف بھی کیا۔ حرا مانی ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصہ سے ناظرین کے دلوں پر راج کر رہی ہیں۔ وہ اداکاری کے علاوہ میزبانی اور پروڈکشن بھی کر چکی ہیں۔ ڈرامہ ’دو بول‘ نے ان کی شہرت کو بام عروج پر پہنچایا۔

ان کی شہرت کا ایک اور سبب اور تازہ ترین سبب ان کی گلوکاری ہے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ”رونا اور گانا تو سب کو آتا ہے“ یہ اور بات کہ بہت سے گانے والوں کو سن کر انشا جی کے بقول بہت سے لوگوں کو رونا آنے لگتا ہے۔ البتہ جہاں تک حرا کی بات کریں تو وہ جس طرح روتی کمال ہیں ، اسی طرح انہوں گایا بھی کمال ہے۔

مانی حرا کو بولڈ لباس پہننے سے منع کیوں کرتے ہیں ، ان کے مطابق اس کے اسباب ان کا پاکستانی ہونا (پاکستانیوں کے روشن خیالی اختیار کرنے سے قبل اس قسم کے معاملات میں کئی دہائیوں تک اسلام اور مشرقیت کی دہائی بھی دی جایا کرتی تھی) اور سماجی روایات ہیں جبکہ انہیں ایسی لڑکیاں یا خواتین بالکل پسند نہیں جو پہلے کچھ اور ہوتی ہیں اور پھر کسی موقع پر وہ بالکل مختلف طرح کا لباس پہن کر کچھ اور لگتی ہیں۔

گفتگو میں ”کچھ اور“ کی وضاحت انہوں نے نہیں کی البتہ ہمارا خیال ہے کہ وہ شاید یہ کہنا چاہتے ہوں گے کہ بعض خواتین بسا اوقات ایسے لباس میں نظر آتی ہیں کہ عام خیال کے مطابق ”بہن جی“ لگتی ہیں اور اچانک کسی تقریب میں کچھ ایسا پہن لیتی ہیں کہ ان کا روپ رنگ دیکھ کر دیکھنے والا پکار اٹھتا ہے کہ:

مانا کہ رنگ رنگ ترا پیرہن بھی ہے
پر اس میں کچھ کرشمہ عکس بدن بھی ہے

یا پھر بعض خواتین عام طور پر تو اس انداز اور لباس میں نظر آتی ہیں کہ دل چاہتا ہے کہ آدمی زندگی کے تمام دن ان کے ساتھ گزار دے اور کبھی اس قسم کے لباس میں کہ صرف رات!

مانی اور حرا مانی میاں بیوی ہیں اور اسلام نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے۔ سو بہت سے بیّن اسباب سمیت میاں کا بیوی کے لباس کے بارے بات کرنا تو بنتا ہے۔ اگرچہ میاں بیوی کا لباس بنتا تو نہیں لیکن بعض اوقات میاں بیگم کا لباس دیکھ کر (جلتا) بھنتا ضرور ہے، کبھی اس کی خوردہ قیمت اسے زخم خوردہ کر دیتی ہے اور کبھی کبھی اپنی بے کسی اور کبھی لباس کی بے بسی پر کہ:

صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں

دنیا میں ہر قسم کے خواتین موجود ہیں۔ ایک وہ جو بانقاب اور سرتاپا موزوں اور دستانوں میں چھپی ہوتی ہیں۔ ان کے بیچ میں باحجاب، با عبایہ، سآنچل وغیرہ اور آخر میں ایسی خواتین بھی ہیں جو کہ اسم بامسمیٰ ”عورت“ ہوتی ہیں کہ لباس کے تکلف سے ہی ”عاری“ ۔ ”عاریہ سبھیتا“ کی نمائندہ۔

ان کی ایک انتہا زاہدائیں و راہبائیں ہیں جو کہ سرتاپا مستور ہوتی ہیں اور دوسری انتہا فاحشائیں ہیں جو کہ کم از کم لباس کے معاملے میں اتنی قناعت پسند و کفایت شعار ہوتی ہی ہیں کہ لباس مادر میں بھی خوش رہ لیتی ہیں۔ درمیان میں بہ لحاظ لباس کئی دیگر اقسام کی خواتین بھی آ جاتی ہیں۔ اور ان کے بیچ میں ہی کہیں اداکارائیں بھی ہیں۔ اور جیسا کہ ہم نے عرض کیا ہے کہ اداکاری کارنمائش ہے۔ اور بعض اداکارائیں حسین اور نمایاں رہنے کی خاطر کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں۔ البتہ ہم نہیں سمجھتے کی حرا مانی بھی ان میں شامل و شمار کی جا سکتی ہیں۔ بے شک بقول مانی وہ کبھی کبھی بولڈ لباس پہن بھی لیتی ہوں گی لیکن ہمارے خیال میں ابھی وہ بطور اداکارہ اس حد تک نہیں پہنچی جس حد تک ماضی و حال کی کئی اداکاراؤں کی مثال دی جا سکتی ہے۔

اور ہمیں ”مانی“ کی اعتراف + اعتراض پر حیرت کیوں ہوئی اس کا واضح سبب یہ ہے کہ موصوف بذات خود اداکار، پروڈیوسر اور میزبان ہیں اور ان کی اہلیہ حرا مانی اداکارہ ہیں اور اداکاری کار نمائش (شو بز) ہے اور نمائش کی بات ہو تو پھر عموماً نہ صرف عام عورت لیکن حسین ترین عورت بھی حسین اور نمایاں تر ہونے کے لیے تمام وسائل آرائش حسن و جمال اور ذرائع خوبی و کمال اختیار کرنے اور اختیار کرنا چاہتی ہے۔ اور لباس تو ایسی چیز ہے کہ اسے متذکرہ بالا تمام وسائل و ذرائع میں بنیادی قرار دے سکتے ہیں۔ اور اداکاراؤں کی بات کریں تو وہ ان معاملات میں سب سے آگے ہوتی ہیں۔

ایرانی شاعر جامی کا حسینوں کے بارے خیال ہے کہ:
پری رو تاب مستوری ندارد
چو در بندی از روزن برآرد

ہماری ”خام فارسی/خامہ فرسائی“ کے مطابق ان سطور کا مطلب کچھ اس طرح سے ہے کہ، ”حسیناؤں میں مستوری کی تاب نہیں ہوتی یعنی کہ وہ چھپنے کی بجائے چھب دکھانے کے لیے بے قرار رہتی ہیں اور اگر دروازہ بند بھی ہو تو وہ کسی درز یا پھر کھڑکی حتیٰ کہ روشن دان تک سے جھانکتی پھرتی ہیں۔“ ہاں اس سے پہلے وہ اس بات کا اہتمام ضرور کر لیتی ہیں کہ ان کا ملبوس اور میک اپ کچھ ایسا ہو کہ:

”دیکھو مجھے جو دیدۂ عشرت نگاہ ہو“

تاکہ ناظرین کو بھی کچھ روشنی دان کر سکیں، انہیں بھی کچھ عرفان حسن ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words