شعور اور سندھ کا نوجوان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سندھی زبان کے مایہ ناز شاعر شیخ ایاز نے سندھ کے نوجوانوں کے لیے ہی کہا تھا کہ ”تم ہی ہو جواب صدیوں کے سوال کے“ دنیا میں جن لوگوں نے محنت کی ہے ، انہوں نے پتھروں کو بھی پگھلا کر دکھایا ہے، جو لوگ ہمالیہ جیسے اونچے ارادے رکھتے ہیں ، ان کے لیے وقت کے مسائل، زندگی کے چیلنجز مٹی کی مانند ہوتے ہیں۔ جن لوگوں نے اپنی توانائی کو مثبت اور سیدھی راہ پر گامزن رکھا ہے ، وہی لوگ اس دنیا میں کامیاب و کامران ہوئے ہیں۔

اس  میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہمت والوں کے سامنے پہاڑ بھی جھک جاتے ہیں۔ سستی، کاہلی اور مایوسی وقتی ہوتی ہے اس کو اپنے سر پر سوار کرنا ذہنی و جسمانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔

سندھ میں تعلیمی نظام اتنا زیادہ بہتر نہیں ہے، ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی سندھ کے سینکڑوں اسکول بند ہیں، لیکن ہزار مسائل و مصیبتوں کے باوجود بھی سندھ کا نوجوان اپنا لوہا آپ منوا رہا ہے، سندھ کا نوجوان باقی صوبوں کے مقابلے میں کافی متحرک، سرگرم اور باشعور  ہے، سندھ میں کسی ابھرتے مسئے اور ناجائز اقدام کے خلاف سندھ کے نوجوان بھرپور مزاحمت کرتے دکھائی دیتے ہیں، ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی سندھ کا شعور اپنی مثال آپ ہے۔

سی ایس ایس کا امتحان ہو یا سی سی ای کا، این ٹی ایس کے ٹیسٹ ہوں یا پی ٹی ایس کے، گیٹ کا ٹیسٹ ہو یا نیٹ کا، ٹیسٹ چاہے کوئی بھی ہو ، سندھ کے نوجوان نے ہر میدان میں اپنا آپ منوایا ہے، باوجود اس کے کہ ہزاروں مسائل اس کے مقدر میں لکھے جا چکے ہیں ، پر پھر بھی اپنی محنت و جستجو سے سندھ کے شعور نے مسائل و مایوسی کو شکست دے کر اپنی مثال آپ قائم کی ہے، لکھنے پڑھنے کی لگن و عشق بھی دوسرے صوبوں کے مقابلے میں سندھ کے نوجوان میں زیادہ پایا جاتا ہے۔

رواں ماہ سندھ پبلک سروس کمیشن نے سی سی ای کے نتائج کا اعلان کیا، جس میں سندھ کے غریب و محنتی نوجوان اپنی محنت کی بنیاد پر کامیابی سے ہمکنار ہوئے، کامیاب ہونے والوں میں کم و بیش وہ نوجوان تھے جو سالوں سے مستقل مزاجی سے اپنی محنت کو جاری رکھے آ رہے تھے۔

دور حاضر میں انقلاب ہتھیاروں، گولیوں اور بم گولوں سے نہیں بلکہ اپنی عقل، محنت و دانش سے ہی ممکن ہے، سی ایس ایس، سی سی ای سمیت دیگر امتحانات میں اپنا آپ منوا کر بھی سندھ کا نام روشن ہو سکتا ہے، سندھ کا نوجوان اپنے علم و دانش سے ایک نئے سندھ کی بنیاد رکھ رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ گزشتہ برس سندھ کے پسماندہ علاقے تھر اور صدیوں سے پسے ہوئے طبقے بھیل کمیونٹی سے تعلق رکھنے والا نوجوان آئی ایس ایس بی کلیئر کر کے ایئر فورس میں جی ڈی پائیلٹ سلیکٹ ہوا، یہی نہیں بلکہ سی ایس ایس کر کے اسلام آباد کے پہاڑوں میں بھی سندھ کی نمائندگی کی جا رہی ہے۔

امید ہے کہ سندھ کا نوجوان اپنے تخلیقی ذہن سے فرسودہ سوچ کو شکست دے گا، سندھ کے حوالے سے جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سندھی لوگ ترقی سے کوسوں دور ہیں ، یہ روایت اب دم توڑ رہی ہے اور اگر سندھ کے نوجوانوں کو دیگر صوبوں جیسے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ سندھ کا نام پاکستان سمیت پوری دنیا میں روشن کریں گے۔

سندھ کے شاعر روشن کلہوڑو نے کتنی خوبصورت بات کہی ہے کہ
ہمارے بھی پورے کبھی خواب ہوں گے
ہم ہی میں سے بھٹائی کے کردار ہوں گے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *