میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایشیا کے دو بڑے ایٹمی دیوؤں چین اور بھارت کے درمیان کئی دہائیوں پر مشتمل سرحدی تنازعے کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا یہ تو وقت ہی طے کرے گا۔ لیکن دسمبر 2020 کے بعد سے اب تک اوپر تلے ہونے والے کئی واقعات سے یہ تو ثابت ہو گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت اب ایک دوسرے کے جانی دشمن نہیں رہے۔ بھارت کی تو پانچوں گھی میں ہیں۔ چین کے خلاف امریکہ بھائی بن گیا اور اس بھائی چارے میں جاپان اور آسٹریلیا بھی ساتھ ہو لیے۔

اور ان دونوں کے درمیان پس گیا ”کشمیر“ جس کے دونوں اطراف یہ جوہری طاقتیں قابض ہیں۔ لہو گرمانے والے بیانات کے ساتھ انڈیا کو ناکوں چنے چبوانے کے دعوے دار اب ”فرینڈلی دشمن“ کا کردار ادا کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اور اس خیال کو تقویت کچھ سنی ان سنی، کچھ ادھوری اور کچھ ”بند کمروں“ سے آنے والی ”آف دی ریکارڈ“ خبروں سے ملتی ہے۔ خبر تو یہ بھی زبان زد عام ہوئی کہ انڈیا کے ساتھ تعلقات میں بہتری اور تجارت خطے میں ترقی کے لئے ناگزیر ہو چکی ہے وگرنہ اندیشہ لاحق ہے ہم خطے میں ”تنہا“ نہ رہ جائیں۔

موجودہ حکومت نے کرتارپور کا جادو بھی کر دکھایا، سیز فائر بھی ہو گیا۔ ٹریڈ کی بحالی کیلے پہلے تو پر تولے گئے ، بعد ازاں کچھ ”ناگہانی وجوہات“ کی بناء پر یہ فیصلہ ”ریورس“ کر دیا گیا۔ یہ الگ بات اس ”قومی راز“ سے پردہ نہ اٹھ سکا کہ کابینہ کے اجلاس میں اسد عمر، شیریں مزاری اور شاہ محمود قریشی کی کھل کر انڈیا سے تجارت کی مخالفت سیاسی حکومت کی ”دانش مندی“ تھی ، ایک ”یوٹرن“ تھا یا لاکھوں کشمیریوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا ایک ڈرامہ۔

کشمیر ایک خواب ہے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس کی تعبیر اور تکمیل کے لیے زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے حقیقت پسندانہ پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پانچ اگست 2019 کے بعد سے آج تک ہماری ”کشمیر پالیسی“ کا سر پیر ہے کہاں؟ کیا وہ جو وزیر خارجہ صاحب بیان فرما رہے ہیں یا وہ جو بند کمرے میں چیدہ چیدہ صحافیوں کے سامنے بتائی گئی۔ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد پاکستان کو جو پالیسی اختیار کرنا چاہیے تھی وہ بھی محض نعروں ، وعدوں اور قراردادوں کی نذر ہو گئی۔

ایک عدد نام نہاد کشمیر کمیٹی بھی کس قدر فعال ہے یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ کیا وجہ ہے کہ حریت قیادت اور سید علی گیلانی صاحب بذات خود پاکستان کی کشمیر پالیسی کو لے کر مطمئن اور خوش نہیں دکھائی دیتے۔ کشمیر کے مسئلے کو لے کر تمام سیاسی جماعتوں کے یکساں موقف کے باوجود کشمیر پالیسی پارلیمانی اجلاس کی چند تقریروں سے آگے نہ بڑھ سکی۔ انڈیا کیلئے بیجنگ اور اسلام آباد دونوں محاذوں پر ایک ساتھ مقابلہ کرنا یقیناً ناممکن تھا لیکن ہم سیاسی یا سفارتی مصلحتوں کی بدولت انڈیا پر مسلسل عالمی دباؤ بڑھانے اور چین کے ساتھ بھارت کی شورش سے فائدہ اٹھانے کا سنہری موقع بھی گنوا بیٹھے۔

سوال تو یہ ہے کے اس سارے گھن چکر میں پارلیمان یا قومی سلامتی کمیٹی کہاں ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ اس شہ رگ کے حصول کے لئے ”تیسرے“ اہم ترین ”فریق“ حریت رہنماؤں اور آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت کی شمولیت ہمیشہ کیوں غیر ضروری سمجھی جاتی رہی ہے؟ اتنی رواداری تو اقوم متحدہ کی قراردادوں کا بھی جزو لازم رہی ہے کہ حتمی صوابدیدی فیصلے کا اختیار بہرحال کشمیریوں کے پاس ہی رہنے دیا گیا ہے۔ لیکن افسوس صد افسوس اس کشمیری قیادت سے خوش قسمت اور قابل بھروسا تو وہ چند ”صحافی“ نکلے جن کو اس اہم ”قومی سلامتی“ کے مسئلے پر بالمشافہ ملاقات کا شرف بخشا گیا۔

بات تو یہ بھی میرے پلے نہیں پڑ رہی کہ پاکستان سے دوستی کا ہاتھ بڑھانے والے انڈین سیاسی قیادت کے با اعتماد کردار اجیت دوول کے ساتھ ہماری جانب سے بات چیت کر کون رہا ہے؟ کیا سیاسی حکومت اس سارے معاملے میں آن بورڈ ہے؟ کیا ایک قومی سوچ کے لیے تمام جماعتوں کو اعتماد میں لینے کی ضرورت نہیں؟ مجھ ناچیز کی عقل میں تو انڈیا کی پاکستان سے تعلقات میں اچانک دلچسپی بھی کھٹک رہی ہے۔ ازل سے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے جب دوستی کے ہاتھ بڑھانے لگیں تو دال میں کچھ کالا نہیں ، شاید ساری دال ہی کالی ہوتی ہے۔

میری پریشانی بس اتنی ہے کہ اس سب کے بدلے پاکستان کو کیا ملنے کی ”یقین دہانی“ کرائی گئی ہے؟ کیا اس کا مقصد انڈیا امریکہ کے افغانستان سے انخلاء کے بعد افغانستان تک آسان رسائی اور پاکستان کے ذریعے تجارتی روٹ حاصل کرنا تو نہیں؟ یا 370 کی طرز پر یہاں بھی ایسی اصلاحات کا نفاذ جس میں آزاد کشمیر کی آزاد حیثت ختم کر کے اس کو صوبے کا درجہ دینے کی فیوچر پلاننگ شامل ہے(واللہ عالم) ۔ میری ناقص رائے میں خطے کی جغرافیائی، سماجی اور معاشی ہیئت بدلنے کے فیصلے نہ تو تن تنہا لیے جا سکتے ہیں اور نہ ہی بند کمروں میں اہم قومی امور کی پالیسیاں بنائی جا سکتی ہیں۔

یقیناً مجھے موجودہ فوجی قیادت کی نیت اور خلوص دونوں پر شک نہیں لیکن بار بار ڈسنے کی خصلت رکھنے والے دشمن پر کس حد تک بھروسا کیا جا سکتا ہے؟ اس کے لئے قومی اعتماد اور بیانیے کو مقدم رکھتے ہوئے ہر سطح پر واضح پالیسی ناگزیر ہے۔ امن کی آشا کا راگ اپنی جگہ مگر یہ ”بیک ڈور“ ان دیکھے، غیر یقینی رابطے پچھتر سال کے قومی بیانیے کی چیخ چیخ کر نفی کر رہے ہیں۔

کشمیر کا معاملہ ہو یا انڈیا سے تعلقات کی بات لیکن پاکستان کی پارلیمان اور سرحد کے دونوں پار کشمیری قیادت کو اعتماد میں لیے بغیر کوئی ڈاکٹرائن کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اور اللہ نہ کرے اگر ایسا ہوا تو ہم بھارت، چین یا پاکستان کس کے ہاتھوں پہ اپنا لہو تلاش کریں گے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
شازیہ رؤف کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *