پاکستان میں توہینِ مذہب کے قوانین کے خلاف یورپی پارلیمنٹ کی قرارداد، فرانس مخالف مظاہروں کی بھی مذمت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یورپی کمیشن اور یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس اس بات کا جائزہ لے کہ کیا پاکستان کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس عارضی طور پر ختم کیا جا سکتا ہے؟

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے یورپ کی پارلیمنٹ کی جانب سے اس قرارداد کی منظوری پر افسوس کا اظہار کیا ہے جس میں پاکستان میں توہینِ مذہب کے قوانین پر نظرِ ثانی نہ کرنے تک پاکستان کو اپنی برآمدات کے لیے حاصل ترجیحی اسٹیٹس ’جی ایس پی پلس‘ ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپ کی پارلیمان میں پاکستان کے توہینِ مذہب کے قوانین پر بحث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ پاکستان میں توہینِ مذہب کے قوانین کے سیاق و سباق اور اس سے جڑی حساسیت کو سمجھنے سے عاری ہے۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان کے بیان میں یورپی پارلیمنٹ کی قرارداد میں پاکستان کے عدالتی نظام اور قوانین پر تبصرے کو مایوس کن قرار دیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق پاکستان ایک پارلیمانی جمہوریت ہے اور یہاں سول سوسائٹی، آزاد میڈیا اور آزاد عدلیہ موجود ہیں۔ ان کے بقول پاکستان اپنے شہریوں کے انسانی حقوق کی بلاتفریق حفاظت میں پُر عزم ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔ ان کی بنیادی آزادیوں کی ضمانت آئین میں دی گئی ہے۔

بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان نے مذہبی آزادی، برداشت اور بین المذاہب ہم آہنگی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اور یہ کہ اسلاموفوبیا اور پاپولرزم کے دور میں دنیا کو مل کر زینوفوبیا، عدم برداشت اور مذہبی تشدد کے خلاف کام کرنا چاہیے۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے مابین دوطرفہ تعلقات میں کئی معاملات پر مذاکرات کے لیے طریقہٴ کار موجود ہیں جن میں جمہوریت، انصاف، طرز حکمرانی اور انسانی حقوق پر گفتگو شامل ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ تمام مشترکہ دلچسپی کے معاملات پر مثبت بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار رہے گا۔

یورپی پارلیمنٹ کی قرارداد میں کیا کہا گیا ہے؟

واضح رہے کہ یورپ کی پارلیمنٹ نے جمعرات کے روز پاکستان کے توہینِ مذہب کے قوانین کے خلاف بھاری اکثریت سے ایک قرار داد منظور کی ہے اور یورپین کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان میں مذہب کی بنیاد پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیشِ نظر اس کی بیرونِ ملک بر آمدات کے لیے حاصل ترجیحی اسٹیٹس ’جی ایس پی پلس‘ پر نظرِ ثانی کرے۔

اس قرار داد میں کہا گیا ہے کہ یورپین کمیشن اور یورپین ایکسٹرنل ایکشن سروس اس بات کا جائزہ لے کہ کیا پاکستان کا ’جی ایس پی پلس‘ اسٹیٹس عارضی طور پر ختم کیا جا سکتا ہے؟

یاد رہے کہ پاکستان کو یورپی یونین کی جانب سے جنوری 2014 سے جی ایس پی پلس اسٹیٹس حاصل ہے جس کے تحت پاکستان برآمدات میں ترجیحی ڈیوٹیز سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

گزشتہ برس یورپ کی پارلیمان کی بین الاقوامی تجارتی کمیٹی نے پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کو آئندہ دو برس کے لیے توسیع دی تھی۔

یورپی پارلیمان کی بھاری اکثریت سے منظور ہونے والی قرارداد میں پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ توہینِ مذہب کے قوانین کو، جن میں 295 بی اور سی شامل ہیں، ختم کرے۔

اس کے علاوہ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاکستان 1997 کے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ میں تبدیلی کرے تاکہ توہینِ مذہب کے ملزمان کا ٹرائل انسداد دہشت گردی عدالتوں میں نہ کیا جائے۔

قرارداد میں پاکستان میں توہینِ مذہب کے الزامات سے متاثر ہونے والے افراد کی حالت پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

قرارداد میں خصوصی طور پر شگفتہ کوثر اور شفقت ایمانویل کے کیسز کا ذکر کیا گیا۔ اس میں کہا گیا کہ ان دونوں کا کیس مسلسل التوا کا شکار ہے اور لاہور ہائی کورٹ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ جلد از جلد ان کے کیسز کا فیصلہ کرے اور بنا کسی وجہ کے کیس کو ملتوی نہ کیا جائے۔

یاد رہے کہ شگفتہ کوثر اور شفقت ایمانویل گزشتہ سات برس سے توہینِ مذہب کے الزام میں جیل میں قید ہیں اور ان کا توہینِ مذہب میں موت کی سزا کے خلاف اپیل کا کیس لاہور ہائی کورٹ میں چل رہا ہے۔

قرارداد میں الزام لگایا گیا ہے کہ پاکستان میں توہینِ مذہب کے قوانین کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ قرارداد کے مطابق اس کی وجہ سے ملک میں مذہبی عدم برداشت اور تشدد رواج پا رہا ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے توہینِ مذہب کے قوانین بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین سے متصادم ہیں۔

اس قرارداد میں پاکستان کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اقلیتوں پر مبینہ طور پر ہونے والے پر تشدد واقعات کی واضح طور پر مذمت کرے اور یقینی بنائے کہ پاکستان کے توہینِ مذہب کے قوانین اقلیتوں کے خلاف مظالم میں استعمال نہ ہوں۔

قرارداد میں پاکستان کے پارلیمانی امور کے وزیرِ مملکت علی محمد خان کے ایک مبینہ بیان کی مذمت کی گئی ہے جس میں انہوں نے توہینِ مذہب کرنے والوں کا ’سر قلم‘ کرنے کی بات کی تھی۔

یورپی پارلیمان کی قرار داد میں پاکستان میں صحافیوں، دانشوروں، سول سوسائٹی کے ارکان اور خواتین پر مبینہ طور پر بڑھتے حملوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا جن میں آن لائن حملے بھی شامل ہیں اور پاکستان کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں کی حفاظت کا بندوبست کرے اور انہیں ہراساں کرنے والوں کے خلاف قانون حرکت میں لایا جائے۔

رپورٹ میں یورپی یونین کے تمام ممالک سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ وہ شگفتہ کوثر اور شفقت ایمانویل کے کیس میں ان کی مدد کریں اور انہیں ان کے وکیل سیف الملوک سمیت ان دونوں کو بین الاقوامی حفاظت میں لانے کے لیے ایمرجنسی ویزے فراہم کیے جائیں۔

اس کے علاوہ قرارداد میں پاکستان میں ہونے والے فرانس مخالف مظاہروں کی بھی مذمت کی گئی۔

قرارداد میں پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے ذہنی طور پر بیمار افراد کی پھانسی کی سزا کو ختم کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا گیا۔

انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شیری مزاری کا رد عمل

پاکستان کی انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے اس قرار داد پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ اس قرارداد کو پیش کرنے والوں میں سے ایک فرد کا تعلق ایسی جماعت سے تھا جس کے بارے میں سوئیڈن کے وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ اس پارٹی کی بنیادیں فاشسٹ، نازی اور نسل پرستانہ ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا پاکستان کے جی ایس پی پلس کا معاملہ اب اسلاموفوبیا کی نذر ہو جائے گا۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ پاکستان میں مسائل ہیں، مگر ان کی وزارت کے تحت اس بارے میں بہت سا کام کیا گیا ہے۔

انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں یورپی یونین کی پاکستان میں سفیر آندرولا کامینارا کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ معاملات کو گفتگو اور مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان مذاکرات کی جانب بڑھ رہا ہے لیکن انتہائی مؤقف اختیار کرنے سے معاملات حل نہیں ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1944 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *