کرونا کی دہشت میں زندگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2020 جنوری کے وسط میں چین کے صوبے ووہان ( جس کا نام پہلی مرتبہ سنا ) سے ایک بیماری کی خبریں آنی شروع ہوئیں اور ساتھ میں وہاں کے گوشت کی دکانوں کی وڈیو سوشل میڈیا پر آنی شروع ہوئیں۔ ان میں ہر طرح کے حشرات، سانپ، بچھو، چمگادڑ، کتے، بلی، بندر اور بھانت بھانت کے جانوروں کا گوشت نظر آیا جو چینی خرید رہے تھے۔ عام تاثر یہ تھا کہ یہ چمگادڑ کی بیماری ہے جنہوں نے سانپوں کو کاٹ کر ان میں جراثیم منتقل کیے اور سانپ کا گوشت کھا کر چینیوں میں بیماری منتقل ہوئی یہ ایک مہلک وائرس ہے اور اس کا نام کرونا ہے۔

چینیوں کے متعلق یہ کہاوت عام ہے کہ سوائے چارپائی کے کوئی چوپایہ یا رینگنے والا جانور ان کی دسترس سے محفوظ نہیں ہے۔

اس بیماری کے متاثرین اور اس کے تدارک کی خبریں ملتی رہیں خبریں کیا سوشل میڈیا خصوصاً واٹس ایپ پر ویڈیو کی بھر مار سے اندازہ ہوتا رہا کہ چینی عوام اس وبا سے بچنے کی بھر پور کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے حفاظتی اقدامات کچھ عجیب سے لگتے تھے۔ لیکن ہمیں کیا چینی جانیں اور چینیوں کی وبا، ہم تو اس سے بچے ہوئے ہیں۔ چین ہم سے بہت دور ہے، اس لیے چین ہی چین ہے اور عام تاثر یہ تھا کہ یہ وبا وہیں ختم ہو جائے گی۔

فروری کے اوائل میں ٹورنٹو واپسی پر ایمیگریشن نے یہ سوال کیا کہ پچھلے
دنوں چین کا سفر تو نہیں کیا اور ہمارے انکار پر مزید کچھ نہیں پوچھا۔

ہماری زندگی کے معمولات جاری تھے۔ ہر جانب چہل پہل، گہما گہمی اور رونقیں، دنیا کا کاروبار زوروں پر تھا۔ میں نے امریکہ جانے کی اور وہاں سے سپین جانے کی بکنگ کروائی ہوئی تھی اور اپنی تیاریوں میں مصروف تھی۔

دیگر ممالک سے اس بیماری کی اکا دکا مریضوں کی خبریں آ رہی تھیں سخت انفلوئنزا کی قسم کے اس مرض کا کوئی مدافعتی ٹیکا نہیں ہے۔ عجیب امر یہ کہ چین کے دیگر شہروں میں یہ مرض نہیں پھیلا اور چین نے اسے ووہان میں قابو کر لیا تھا۔

چین کے ساتھ جنوبی کوریا سے بھی اس بیماری کی خبریں آنے لگیں۔ اس کے بعد تفریحی بحری جہازوں پر اس وبا کے پھوٹنے کی اطلاعات آئیں۔ کینیڈا اور امریکہ کے کافی باشندے ان Cruise ships میں اس بیماری سے متاثر ہوئے۔ ان بیماروں کو لانے کا مسئلہ تھا اور کینڈئین حکومت نے اپنے باشندوں کی کروز پر جانے کی پابندی لگادی۔ چین کے بعد اچانک ایران سے اس بیماری کے پھیلنے کی خبریں آئیں۔ ایران سے آئے ہوئے اکثر لوگ اس سے متاثر تھے۔ ان کو قرنطینہ میں رکھا گیا یا تاکید کی گئی۔ کہ وہ دو ہفتے تک الگ تھلگ رہیں گے۔

اور کس کے گھر جائے گا طوفان بلا میرے بعد ۔

اٹلی، سپین، برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، پاکستان، بھارت کئی ممالک میں اس وبا کے پھیلنے کی اطلاعات اور تشویش آنے لگی۔

سپین کا دورہ سوالیہ نشان بنتا جا رہا تھا اور ہماری منتظم اس کو منسوخ کرنے کے پس و پیش میں تھیں کہ امریکہ نے یورپ کے لئے پروازوں پر پابندی لگا دی۔ لیکن یہ وبا امریکہ، کینیڈا سمیت دنیا کے دو سو ممالک میں جڑیں گاڑ چکی تھی۔ ڈبلیو ایچ او عالمی صحت کے نگران ادارے نے اسے ایک عالمی وبا قرار دیا۔

اس وقت کے اعداد و شمار دل کو دہلانے والے ہیں۔ اٹلی، سپین اور امریکہ میں اموات کی شرح چین سے کہیں آگے جا چکی ہے جبکہ چین اس سے نجات کی خوشیاں منا رہا ہے۔

اس وقت اس دہشت کے ماحول میں دیگر کئی نظریے گردش میں ہیں جن کو سازشی نظریات کہا جاتا ہے۔ پہلے تو نظریے کو تقویت دی گئی

بلکہ سائنسی شواہد کے ساتھ متعدد ویڈیو واٹس ایپ پر منظر عام پر آئیں کہ اس وائرس کو تخلیق کرنے کا کارنامہ امریکہ کا ہے

تھا لیکن اب یہ کہا جاتا ہے کہ یہ سب چین کا کیا کرا یا ہے اور اس کا مقصد امریکہ اور یورپ کی معیشت کو دھچکا پہنچانا اور اپنی حیثیت منوانا تھا۔

بہر کیف حقیقت جو بھی ہو اس وقت یہ تمام ممالک، امریکہ کی سپر پاؤر، نیو ورلڈ آرڈر، تمام سائنس ٹیکنا لوجی تمام میڈیکل سائنس اس نادیدہ خورد بینی مردہ یا زندہ جرثومے کے سامنے بے بس ہو چکے ہیں۔ محض اللہ تعالٰی کی ذات ہی اس وبا کا خاتمہ کرنے پر قادر ہے اور اس ذات سے ہم گڑ گڑا کر اس وبا سے نجات کی دعائیں کر رہے ہیں۔

اس وقت دنیا بھر میں تین لاکھ سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں، صرف امریکہ میں ہلاکتوں کی تعداد 51 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ لاکھوں افراد اس مرض میں مبتلا ہیں جبکہ ایک بڑی تعداد شفا یاب بھی ہو چکی ہے۔ کینیڈین وزیر اعظم کی اہلیہ صوفی کی شفا یابی ایسی تھی جیسے کہ اپنی کوئی عزیزہ شفا یاب ہوئی ہوں اس تاریک سرنگ کے آخری سرے پر روشنی کی کرن نظر آئی۔ اب برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن انتہائی نگہداشت میں چلے گئے۔

دیگر تمام شہریوں کی مانند میں اپنے گھر میں محصور ہوں، الحمدللہ کہ اللہ نے ذہنی اور جسمانی قوت بحال رکھی ہے۔ امید پر دنیا قائم ہے، ویران، خاموش سڑکیں، خالی بسیں اور ٹرینیں دکھائی دیتے ہیں۔ تمام اعلی پائے کے معالج اس بات پر متفق ہیں کہ انسانوں کا میل جول محدود کر دیا جائے۔ اس وقت یہاں کینیڈا میں یہ قانون وضع کیا گیا ہے کہ دو افراد کے مابین کم از کم دو میٹر یا چھ فٹ کا فاصلہ ہونا چاہیے اس صورت میں یہ مہلک وائرس ایک دوسرے کو نہیں لگ سکتا۔

گراسری سٹور میں باہر اسی طرح فاصلے پر کھڑا کر کے تین، چار افراد کو اندر جانے دیا جاتا ہے۔ کیش کاؤنٹر پر شیشے یا فائبر گلاس کی ایک دیوار نے کیشیئر کو ڈھانپ رکھا ہے یا گاہکوں سے بچایا ہے وہ کیش کو ہاتھ نہیں لگاتے، Stay Home، Stay safe دنیا بھر کا مقبول نعرہ بن چکا ہے تمام طبی عملہ اس لاعلاج وبا کو اسی طرح قابو کرنے کی یا ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کہ انسانوں کا میل جول محدود تریں ہو جائے۔ خوف کا یہ عالم ہے کہ انسان کو اپنے سائے سے بھی خوف آتا ہے۔ اللہ کا بے حد شکر ہے کہ ٹیلی ویژن، فون اور انٹرنیٹ کی سہولت میسر ہے اور اپنوں سے رابطے بحال ہیں۔

حکومت اور طبی اہلکاروں کے مطابق زیادہ سے زیادہ ہفتے میں ایک مرتبہ اشیائے خورد و نوش ( گروسری) ، ادویات یا شدید ضرورت کے تحت ڈاکٹر کے ہاں جا سکتے ہیں اور یہ ہدایات صحت مند افراد کے لئے ہیں۔ بیماروں، حتیٰ کہ بیرون ملک آنے والوں کے لئے دو ہفتے قرنطینہ کی سخت پابندی ہے۔

شکر ہے کہ اس قسم کے کریڈٹ کارڈ موجود ہیں جو مشین کے اوپر سے ہی اپنا کام دکھا جاتے ہیں۔ آج تو باہر سے ہر قسم کے تھیلوں پر پابندی تھی۔ اس سے پہلے پلاسٹک کے تھیلے پانچ سینٹ کے ملتے تھے تاکہ پلاسٹک کا استعمال کم ہو لیکن اس ہنگامی صورتحال میں یہ تشویش پس منظر میں چلی گئی۔

اس ان دیکھے وائرس ( جس سے اللہ تعالٰی ہم سب کی حفاظت فرمائے اور اس کو نیست و نابود کردے ) کے بچاؤ کے لئے اپنی حساب سے پوری تیاری کر کے روانگی ہوئی۔ ایک دوست کے مشورے پر گھڑی، بریسلٹ اور انگوٹھیاں بھی اتار کر رکھ دیں۔ کیونکہ ایک تجزیے کے مطابق یہ دھات پر 72 گھنٹے تک رہتا ہے۔ اب اس وائرس کی کیمیائی حیثیت جو بھی ہو زندہ ہے یا مردہ لیکن پوری دنیا اور انسانیت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک جن کو اپنی سائنس، ٹیکنالوجی اور علم و طاقت پر اس قدر غرور تھا اب اللہ کے اس نادیدہ لشکر کے سامنے بالکل بے بس ہیں۔ امریکہ میں جانی نقصان کی شرح پوری دنیا سے زیادہ ہے یعنی 55 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔

کینیڈا میں تمام تر پابندیوں کے باوجود 40 ہزار اس وبا سے متاثر ہوچکے ہیں۔ ہلاکتیں تقریباً دو ہزار تک جا چکی ہیں۔ الحمدللہ کہ امریکہ اور یورپی ممالک کے بر عکس یہاں پر صورتحال قدرے بہتر ہے

اپنے مختلف قسم کے ماسک میں سے ایک ماسک پہنا تو اس میں سانس لیتے ہوئے عینک بار بار دھندلا جاتی۔ پرس میں ایک پرانا تحفتا ملا ہوا ہینڈ سینی ٹائزر کی بوتل ہے لیکن disposable ( تلف پذیر) دستانے بھی پہن لئے تو پھر ایک نسبتاً باریک جرسی کے کپڑے سے الاسٹک لگا کر خود ایک نقاب سا بنا لیا جو قدرے آرام دہ ہے۔ باہر سے واپسی پر دروازے کے پاس رکھی ہوئی lysol اور اب clorex کے نم دار پونچھنے والے کاغذ wet wipes سے نیپکن نکال کر اس سے اپنے ہاتھ، دروازے کا ہینڈل اور جوتے کے تلوے صاف کرتی ہوں۔ بعد میں جیکٹ وغیرہ اتار کر صابن سے 20 سیکنڈ تک ہاتھ دھونے کا عمل شروع ہوتا ہے۔ باہر سے ڈاک لانے کے بعد بھی اس کو صاف کر کے ایک طرف ڈال دیتی ہوں۔ بعض اوقات تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر طرف کرونا ہی کرونا ہے۔ لیکن اس کیفیت سے اپنے آپ کو نکالنا پڑتا ہے۔

ساری احتیاطی تدابیر اپنی جگہ لیکن میرے رب نے اپنے بے پناہ فضل وکرم سے مجھے، میرے بال بچوں، بھائی بہن اور تمام عزیز و اقارب کو اس بلا سے اس وبا سے محفوظ رکھا ہے۔ میرے رب کی قدرت ہی اس بلا کا خاتمہ کرے گی چاہے وہ انسانی عقل اور کوشش سے ہو یا ماحولیاتی تبدیلی سے ہو انشا اللہ۔

رمضان المبارک کا پہلا دن ہے لیکن ہم یہ رمضان اپنے گھروں میں گزاریں گے۔ مساجد سے آنلائن پروگرام ہو رہے ہیں۔ ان ممالک میں رمضان میں مساجد سے تعلق بہت بڑھ جاتا ہے۔ افطار پارٹیاں، نماز عشاء اور تراویح کی چہل پہل میں خواتین اور بچوں کو اپنا اسلامی ماحول میسر آتا ہے۔ تمام مخیر ادارے رمضان میں اپنی چندہ جمع کر نیکی لئے تقاریب منعقد کرتی ہیں لیکن اس رمضان میں اس قسم کا کوئی اجتماع نا ممکن ہے۔

اس وبا کو پنجے گاڑے ایک برس سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ چین میں اب مکمل خاموشی اور سکون ہے اس وائرس نے جہاں اپنی شکل بدل ڈالی ہے وہاں انسانی دماغوں نے اس کا توڑ یعنی ویکسین دریافت کر لی ہے جو جنوری 2021 سے لگنی شروع ہو گئی ہے کئی قسم کے ویکسین منظر عام پر آچکے ہیں ان میں فائزر کا ویکسین سر فہرست ہے۔ اسرائیل اپنے ملک کو کرونا سے پاک کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔ دوسرے نمبر پر امریکہ ہے جس نے اپنی آبادی کو لاکھوں کی تعداد میں ویکسین لگا دی ہے اب سولہ سال کی عمر کے بچوں کو بھی ویکسین لگ رہی ہے۔ جہاں دنیا کے بیشتر ممالک ویکسین زیادہ سے زیادہ تعداد میں لگا رہے ہیں۔ وہاں یہ وبا بے قابو ہو کر انسانی جانوں کو تلف کرتی جا رہی ہے۔ اس وقت سب سے بڑا ہدف بھارت ہے جہاں روزانہ لاکھوں افراد لقمہ اجل بن رہے ہیں، شمشان گھاٹ مردوں سے بھرے ہوئے ہیں اور ہر جگہ دعائیں ہو رہی ہیں۔

اللہ تعالی کے ان خفیہ اور نادیدہ لشکر کے سامنے انسانی طاقت، سائنس، ٹیکنالوجی اور تمام قوتیں بے بس ہو چکی ہیں۔

اب یہ وائرس جو بھی ہے جہاں سے آیا ہے اس نے پوری انسانیت کو بے پناہ خوف اور دہشت میں مبتلا کیا ہوا ہے۔ کروڑوں افراد صفحہ ہستی سے رخصت ہوچکے۔ ان کے پیاروں پر جو گزر رہی ہے اللہ ہی جانتا ہے۔ خالق کائنات رب کریم ہی انسانیت کو اس وبا سے نجات دے اور اس وبا کو نیست و نابود کردے۔ آمین ثم آمین

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *