سوشل میڈیا کمپنیاں سیاستدانوں پر پابندی نہیں لگا سکیں گی، فلوریڈا کا نیا قانون

کوڈی گُڈوین - بی بی سی نیوز، سان فرانسسکو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ٹرمپ

Getty Images

امریکی ریاست فلوریڈا میں ایک ایسا متنازع قانون منظور کر لیا گیا ہے جس کے تحت سوشل میڈیا کمپنیز کی جانب سے کسی سیاست دان پر پابندی لگانے کے عمل کو روکا جا سکے گا۔

ریاستی مقننہ کے دونوں ایوانوں کی جانب سے منظوری کے بعد اب اس بل پر ٹرمپ کے اتحادی گورنر رون ڈی سینٹیس نے دستخط کرنے ہیں۔

اس قانون کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اکاؤنٹس کو معطل کر سکتے ہیں مگر صرف 14 دن تک، اور اس قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں اُن پر ڈھائی لاکھ ڈالر یومیہ تک کا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

انٹرنیٹ پر آزادی اظہار کے فروغ کے لیے کوشاں تنظیم نیٹ چوائس نے گذشتہ ماہ اس قانون کے خلاف بیان دیا تھا۔

جنوری میں امریکی پارلیمان کی عمارت کیپیٹل ہل پر حملے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ پر ٹوئٹر نے پابندی عائد کر دی تھی جبکہ فیس بک اور یوٹیوب نے بھی اُن کے اکاؤنٹس معطل کر دیے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

ٹوئٹر نے ٹرمپ کا اکاؤنٹ مستقل طور پر بند کر دیا

ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان: ’ٹوئٹر کے خلاف‘ بڑی کارروائی ہونے والی ہے‘

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بہو کو فیس بک سے وارننگ کیوں ملی؟

فیس بک نے ٹرمپ الیکشن مہم کے ’نفرت آمیز نازی نشان‘ والے اشتہار کو ہٹا دیا

عہدہ چھوڑنے کے بعد سے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا زیادہ تر وقت فلوریڈا میں گزارا ہے اور اُن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ گورنر رون ڈی سینٹیس اور فلوریڈا کے اعلیٰ رپبلکن عہدیداروں کے قریب ہیں۔

مگر ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قانون کے غیر ارادی نتائج بھی ہو سکتے ہیں۔

گذشتہ ماہ نیٹ چوائس کے چیف ایگزیکٹیو سٹیو ڈیل بیانکو نے اس بل کے خلاف بیان دیتے ہوئے کہا تھا: ‘تصور کریں کہ اگر حکومت کسی چرچ پر لازم کر دے کہ وہ اپنے سوشل میڈیا پیج پر صارفین کی جانب سے اسقاطِ حمل کے حق میں تبصرہ کرنے کی اجازت دے یا اس حوالے سے تیسرے فریق کے اشتہارات شائع کرے۔’

‘جس طرح یہ بات پہلی آئینی ترمیم (آزادی اظہار کے حق) کے خلاف ہوگی، اسی طرح (یہ قانون بھی) کیونکہ اس سے سوشل میڈیا کمپنیاں بھی اپنے پلیٹ فارم پر ایسا مواد رہنے دینے پر مجبور ہوں گی جس کی وہ دوسری صورت میں اجازت نہ دیتیں۔

یہ بل ریاستی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں جمعرات کو منظور ہو چکا ہے مگر ٹیکنالوجی کمپنیاں ممکنہ طور پر اسے عدالت میں پہلی آئینی ترمیم کے خلاف قرار دیتے ہوئے چیلنج کریں گی۔

فروری میں گورنر ڈی سینٹیس نے کہا تھا کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں ‘اب بگ باس کی طرح معلوم ہونے لگی ہیں۔’

اس بل میں ایک شرط ایسی ہے جو ‘تھیم پارک یا تفریحی کمپلیکس چلانے والی کمپنی’ کو استثنیٰ دیتی ہے، چنانچہ ڈزنی اس بل کی شرائط سے مستثنیٰ ہے۔

ڈزنی ورلڈ تھیم پارک فلوریڈا میں قائم ہے۔

این بی سی میامی کے مطابق کچھ قانون سازوں نے اس بل کو ‘منافقانہ’ قرار دیا۔

فلوریڈا کے ایوانِ نمائندگان کے ایک ڈیموکریٹ رکن اینڈیو لرنیڈ نے کہا ‘اگر فیس بک کوئی تھیم پارک خرید لے تو کیا اس سے ہم فیس بک پر ہونے والی چیزوں کو روکنے سے رہ جائیں گے؟’

رپبلکن نمائندہ بلیز انگوگلیا نے کہا: ‘تو اگر اُنھوں نے کوئی تھیم پارک خرید کر اسے زکرلینڈ کا نام دے دیا اور وہ فلوریڈا کے قوانین کے تحت تھیم پارک کی تعریف پر پورا اترا، تو ہاں ایسا ہی ہوگا۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18858 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp