چیچک کی ویکسین سے کورونا کی ویکسین تک
پچھلے ہفتے کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اعلان کیا کہ وہ کورونا کی ایکسٹرا زینیکا ویکسین لگوا رہے ہیں اور انہوں نے سب کینیڈین مردوں اور عورتوں کو مشورہ دیا کہ وہ بھی ویکسین لگوا لیں تاکہ کینیڈا کے ہسپتالوں کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹس میں کورونا کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد میں کمی آ سکے اور حکومت ’ڈاکٹر اور نرسیں مل کر کورونا وبا کی حفاظتی تدابیر کر سکیں۔ جسٹن ٹروڈو کا مشورہ سن کر میں نے بھی انٹرنیٹ پر جا کر بکنگ کروا لی اور آج ایک مسیحا نفس دختر خوش گل نرس LORAINE کے نازک ہاتھوں سے MODERNA کی ویکسین بھی لگوا لی۔
درویش جب ویکسین لگوا کر اپنی کٹیا کی طرف لوٹ رہا تھا تو سوچ رہا تھا کہ آخر مختلف بیماریوں کو کم کرنے والی اور انسانوں کی قوت مدافعت کو بڑھانے والی ویکسین کی تاریخ کیا ہے؟
انسانی تاریخ میں ایک وہ زمانہ تھا جب انسان سوچا کرتے تھے کہ ان کی بیماری کا تعلق ان کے گناہوں سے ہے۔ اس لیے جب وہ بیمار ہوتے تھے تو اپنے گناہوں کی معافیاں مانگتے تھے اور شفایابی کی دعائیں کرتے تھے۔
انسانی تاریخ میں دعا سے دوا کا سفر تین ہزار سال کا سفر ہے۔
پانچ سو قبل مسیح میں بقراط وہ پہلے طبیب تھے جنہوں نے اپنے مریضوں کو بتایا کہ ان کی بیماریوں کا ان کے گناہوں سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے مریضوں کو سمجھایا کہ بیماریوں کا تعلق حفظان صحت کے اصولوں سے ہے۔ بقراط نے مشورہ دیا کہ متوازن خوراک کھانے ، روزانہ ورزش کرنے ، زیادہ پانی پینے اور گہری نیند سونے سے انسان صحت مند رہتا ہے۔
یونان کے ایک اور دانشور THUCIDIDISنے چار سو تیس قبل مسیح میں یہ مشاہدہ کیا کہ یونان میں جب طاعون کی وبا پھیلی اور بہت سے لوگ مر گئے لیکن جو لوگ زندہ بچ گئے وہ دوبارہ بیمار نہیں ہوئے۔ تھوسیدائڈس نے اپنے مقالے میں یہ مشاہدہ لکھا کہ رو بصحت ہونے والے اب بیمار لوگوں کی تیمارداری کر رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ دوبارہ بیمار نہیں ہوں گے۔ تھوسیدائڈس کا یہ مشاہدہ اہم ہے کیونکہ وہ قوت مدافعت کا راز جان گئے تھے۔ اگرچہ ان کے پاس اسے بیان کرنے کی یہ اصطلاح نہیں تھی۔
یونانی طبیبوں نے مذہب اور طب کو جدا کیا اور سائنس کی بنیاد رکھی۔ اس بنیاد پر سائنس کی بلند و بالا عمارت تعمیر کرنے میں مسلمانوں نے نویں سے بارہویں صدی عیسوی کے سنہری دور میں گراں قدر اضافے کیے۔ مسلمان طبیبوں میں الرازی نے اپنی کتاب فی الجدری المصباح میں لکھا کہ جن بچوں کو بچپن میں چیچک اور خسرہ ہو جاتا ہے وہ ساری عمر اپنی قوت مدافعت سے ان بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ الرازی بھی بیماری اور قوت مدافعت (جسے اب ہم immunity کہتے ہیں) کے پراسرار رشتے کے راز سے واقف تھے۔
جب طب کی سائنس نے ترقی کی تو ہم نے جانا کہ انسانی بچے کی فطری قوت مدافعت مندرجہ ذیل طریقوں سے بنتی ہے:
۔ بچہ پیدا ہونے سے پہلے رحم مادر میں ماں کے خون اور آنول سے قوت مدافعت کشید کرتا ہے۔
۔ بچہ پیدا ہونے کے بعد ماں کا دودھ پینے سے قوت مدافعت بڑھاتا ہے۔
۔ بچے کو جب کوئی بیماری ہوتی ہے اور وہ اس سے صحت یاب ہوتا ہے تو اس سے بھی اس کی قوت مدافعت بڑھتی ہے۔
طب کی تحقیق میں ڈاکٹروں اور سائنس دانوں نے یہ بھی جانا کہ بچوں اور بڑوں کی قوت مدافعت ویکسین کے ٹیکے سے بھی بڑھائی جا سکتی ہے۔
پچھلی چند صدیوں میں بہت سی بیماریوں کے لیے ویکسین بن چکی ہیں۔ میں یہاں صرف چیچک کی مثال دوں گا تاکہ آپ کو ویکسین کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ ہو سکے۔
ساری دنیا میں جب چیچک کی وبا پھیلی تو ماضی کے طاعون اور حال کے کرونا کی طرح سینکڑوں ، ہزاروں اور لاکھوں انسان اپنی قیمتی جانیں گنوا بیٹھے۔
1796 میں انگلستان کے ڈاکٹر EDWARD JENNER نے اس نظریے کو ثابت کرنے کے لیے کہ جس انسان کو COW POX ہوتا ہے اسے SMALL POX نہیں ہوتا ایک مالن SARAH کے زخم سے (جسے کاؤ پاکس تھا) مادہ لیا اور ایک لڑکے JAMESکے جسم میں داخل کر دیا اور جب اس کی قوت مدافعت بڑھ گئی تو اسے سمال پاکس کا ٹیکہ لگایا اور وہ بیمار نہیں ہوا۔ ڈاکٹر ایڈورڈ جینر نے اپنی تحقیق کے نتائج 1798 میں چھپوائے۔
اس تجربے کی کامیابی کے بعد RICHARD DUNNING نے 1800 میں VACCINATION کی اصطلاح متعارف کروائی۔ چونکہ لاطینی زبان میں COW کو VACCA کہتے ہیں اور چکن پوکس کا رشتہ کاؤ پوکس سے جڑا ہوا تھا اس لیے انہوں نے گائے کے نام سے اس نئی دوا کے نام کو جوڑا۔
ڈاکٹروں کا نظریہ یہ تھا کہ اگر کسی انسان کو ویکسین لگا دی جائے تو اس کی قوت مدافعت بڑھ جاتی ہے اور پھر وہ بیماری اس پر منفی اثرات مرتب نہیں کرتی اور اس کی زندگی بچ جاتی ہے۔
جب چیچک کی ویکسین بن گئی تو 1802 میں HELENUS SCOTT نے ہندوستان کے شہر بمبئی میں بچوں کو ویکسین لگانی شروع کر دی۔ ویکسین لگانے سے سینکڑوں ، ہزاروں، لاکھوں بچوں کی جانیں بچنے لگیں کیونکہ چیچک سے اسی فیصد بچے اور پچاس فیصد جوان انسان مرتے تھے۔ ہندوستان کی کامیابی کے بعد وہ ویکسین چین اور نیپال گئی۔
اس کامیاب تجربے کے بعد ساری دنیا کے بچوں کو دو سال کی عمر سے پہلے چیچک کی ویکسین لگنے لگی۔
1885 میں سائنس دان LOUIS PASTEUR نے اپنی لیبارٹری میں ثابت کیا کہ انسان جن جرثوموں کی وجہ سے بیمار ہوتا ہے وہ بیکٹیریا کہلاتے ہیں۔ اس طرح طب میں GERM THEORYمقبول ہوئی اور انسانی صحت اور بیماری کے بہت سے راز فاش ہوئے۔ بیکٹیریا کی تھیوری نے ویکسین کی دوا سے علاج کو مزید تقویت دی۔
ڈاکٹر ، نرسیں اور سائنس دان چیچک کی ویکسین کے محاذ پر اتنے کامیاب ہوئے کہ WORLD HEALTH ORGANISATION نے 1980 میں اعلان کیا کہ ساری دنیا سے چیچک کی وبا کا خاتمہ ہو گیا ہے۔
۔ دیر آید درست آید۔
جہاں کورونا سے بچنے کے لیے ویکسین اہمیت کی حامل ہے وہیں یہ بھی اہم ہے کہ ہم بقراط کے آج سے اڑھائی ہزار سال پہلے دیے گیے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے متوازن خواراک کھائیں ، روزانہ ورزش کریں، زیادہ پانی پئیں اور گہری نیند سوئیں تاکہ ہماری قوت مدافعت بڑھے اور اگر ہم پر کورونا یا کوئی اور بیکٹیریا یا وائرس حملہ کرے تو ہمارا جسم اس کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکے۔
ایک ماہر نفسیات ہونے کے ناتے میں اس حقیقت سے بھی واقف ہوں کہ جسمانی قوت مدافعت کی طرح جسے ہم IMMUNITY کہتے ہیں ذہنی قوت مدافعت بھی اہم ہے جو نفسیات کی زبان میں RESILIENCE کہلاتی ہے۔ جن لوگوں کی جسمانی اور ذہنی قوت مدافعت اپنی معراج پر ہوتی ہے اور وہ اپنے خوشحال اور پر سکون گرین زون میں رہتے ہیں ، وہ جسمانی بیماریوں اور ذہنی مسائل میں کم گرفتار ہوتے ہیں۔ جب میرے مریض مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آپ پریشان کن کورونا وبا کے دنوں میں بھی کیسے مسکراتے رہتے ہیں تو میں ان سے ہنس کر کہتا ہوںـ
I LIVE ON MY PEACEFUL GREEN ZONE ISLAND IN THE CORONA RED ZONE SEA
جن لوگوں کی قوت مدافعت زیادہ ہوتی ہے وہ اگر بیمار ہوتے بھی ہیں تو جلد صحت مند ہو جاتے ہیں اور جب روبہ صحت ہوتے ہیں تو ان کی قوت مدافعت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ دانشور فریڈرک نطشے نے فرمایا تھا جو چیز آپ کو قتل نہیں کرتی وہ آپ کو زیادہ طاقتور بنا دیتی ہے
WHAT DOES NOT KILL YOU MAKE YOU STRONGER
انفرادی قوت مدافعت کے ساتھ ساتھ جب دنیا کی بہت سی قوموں میں بہت سے لوگ کورونا وبا سے متاثر ہونے کے بعد شفایاب ہو جائیں گے تو ایک سماجی اور معاشرتی قوت مدافعت پیدا ہو گی جو HERD IMMUNITY کہلاتی ہے اور ایسی قوت مدافعت ہم سب کے لیے نہ صرف اچھا شگون ہو گی بلکہ مستقبل کی صحت کی ضامن بھی ہو گی۔


