EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

مہجری ادب کی روایت اور معاصر مہجری ادب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پیمبروں سے زمینیں وفا نہیں کرتیں
ہم ایسے کون خدا تھے کہ اپنے گھر رہتے

ادب میں ایسی تمام تخلیقات جو بھلے ہی شعر میں ہوں کہ نثر میں، تخلیق کار کی ”ہجرت“ یعنی ”ایک مقام سے دوسرے مقام کی جانب نقل مکانی“ کے عہد میں اس کی اپنے سے محبت اور اس کی یادوں پر مبنی ذاتی تجربات، مشاہدات و احساسات کا احاطہ کرتی ہوں تو انہیں عرف عام میں ”مہجری ادب“ کہا جاتا ہے۔

اگر ”ہجرت“ کا تذکرہ ہو گا تو بات کی ابتداء سب پہلے حضرت آدم سے ہی ہو گی یعنی جنت (بلندی) سے زمین (پستی) کی جانب ان کی آمد کو ہجرت ہی کے پس منظر میں برتا جائے گا۔ مذہبی اصطلاح استعمال کی جائے تو پیغمبرﷺ کی چودہ سو برس قبل مکہ سے مدینہ کی جانب نقل مکانی، ہجرت ہی کے ضمن میں لی جائے گی۔ ہندو دیو مالائی ادب میں رام چندر جی کا اپنی شریک حیات سیتا اور بھائی لکشمن کے ہمراہ چودہ سالہ بن باس کو بھی اسی تناظر میں لیا جاتا ہے۔

ہجرت ضرور کسی نہ کسی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔ یہ انقلاب ادبی یا لسانی سطح پر ہو یا پھر مذہبی یا دنیاوی نوعیت کا اس کے پس منظر میں ہجرت کے محرکات کہیں نہ کہیں ضرور کارفرما ہوتے ہیں۔ اردو ادب میں چار ہجرتیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں جن کے نتیجے میں اردو زبان و ادب میں ترویج و ترقی کے ساتھ ساتھ نئے موضوعات بھی شامل ہوئے اور اردو لسانی اور فکری سطح پر ترقی کے مدارج طے کرتی گئی۔

پہلی ہجرت اورنگ زیب عالم گیر کی فتح دکن کے نتیجے میں ہوئی ، جب دکنی شعراء دہلی کے قرب و جوار میں پہنچے ، ان میں ولی کے دیوان کو ایک بڑے مہاجر کا درجہ حاصل ہے جو محمد شاہی عہد میں دہلی پہنچا اور دہلی میں لسانی اور فکری سطح پر بڑی تبدیلی رونما ہوئی۔ پہلے پہل تو شعراء نے فقط چٹخارۂ زبان کے لیے اردو میں طبع آزمائی کی، ایہام کو برتا پھر آہستہ آہستہ اس نے پر آشوب دور میں ایک نمایاں مقام حاصل کر لیا اور اس عہد کی فکر کو اپنے اندر سمیٹ لیا۔

یوں اردو زبان دکن کے پرامن ماحول سے نکل کر دہلی کے آشوب میں داخل ہو چکی تھی۔ دہلی میں صحیح معنوں میں اردو شاعری ولی کے دیوان کی پیروی میں شروع ہوئی اور فکری و موضوعاتی تبدیلی کے ساتھ عظیم شاعری وجود میں آئی اور میر و سودا جیسے کلاسک شعراء نے اس کو بام عروج عطا کیا۔

دوسری ہجرت احمد شاہ ابدالی اور نادر شاہ درانی کے جنگی جنوں کی بدولت ہوئی اور لکھنؤ میں شعر و شاعری کا چرچا ہوا جس کی سرپرستی شجاع الدولہ، آصف الدولہ اور واجد علی شاہ نے کی۔ دہلی کے پریشان حال اہل ہنر کو لکھنؤ کی فارغ البالی نے پناہ دی جس سے لکھنوی دبستان کی بنیاد پڑی۔ اس ہجرت میں فکری سے زیادہ لسانی حوالے سے ترقی ہوئی ، ناسخ نے زبان کی تحریک سے اردو کو جدت اور نئی اصلاح زندگی بخشی۔

اردو ادب میں تیسری ہجرت کا سبب 1857ء کی جنگ آزادی بنی۔ جس میں دہلی پر انگریزوں کا تسلط مستحکم ہوا اور دہلی پر عتاب کی وجہ سے شعراء کو دہلی سے نکلنا پڑا۔ دہلی کے انگریزوں سے خوف زدہ اور لکھنؤ کے سہمے ہوئے عوام نے کسی پر امن مقام کی تلاش شروع کی تو ایسے میں لاہور سے بہتر کوئی اور مقام ایسا نہیں تھا جہاں وہ آزادانہ اپنے فکر و فن کا مظاہرہ کر سکیں تو اساتذہ علم و ادب نے لاہور کا رخ کیا جن میں مولانا محمد حسین آزاد، مولانا حالی اور ارشد گورگانی کے علاوہ بہت سے اساتذہ فن شامل تھے۔ان کے لاہور آنے سے لاہور کی علمی و ادبی اہمیت میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ بعد ازاں انہی لوگوں نے لاہور میں انجمن پنجاب کی بنیاد رکھی جس سے اردو شاعری کی فکری اور فنی جہت میں مثبت تبدیلیاں رونما ہوئیں۔

چوتھی ہجرت 1947 میں تقسیم کی صورت میں سامنے آئی ، تقسیم ہند کے نتیجے میں ہونے والی یہ ہجرت اتنے بڑے پیمانے پر ہوئی کہ چشم فلک نے اس سے پہلے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو بے گھر ہوتے نہیں دیکھا اور یہ صرف جسمانی ہجرت نہ تھی کہ ایک جگہ سے اٹھے اور دوسری جگہ جا کر بیٹھ گئے۔

اس ہجرت نے برصغیر کے عوام کو ذہنی اور نفسیاتی طور پر متاثر کیا، معاشی، تہذیبی اور مذہبی حوالے سے تو فرق پڑنا ہی تھا مگر ذہنی اور نفسیاتی طور پر بھی یہ لوگ مفلوج ہو کر رہ گئے۔ اس ہجرت سے صرف ہجرت کرنے والے ہی متاثر نہیں ہوئے بلکہ وہ لوگ بھی متاثر ہوئے جنھوں نے ہجرت نہیں کی اور اس ہجرت میں ان کو ظاہری طور پر تو کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں اٹھانا پڑا مگر یہ لوگ بھی نفسیاتی حوالے سے بہت متاثر ہوئے جس کا فکری اظہار ان حالات میں تخلیق ہونے والے ادب میں جابجا ملتا ہے

اردو کے مہجری ادب میں نثری تخلیقات کے حوالے سے قرۃ العین حیدر اور انتظار حسین کے نام کافی مشہور ہیں۔ ان کی تخلیقات کا محور برصغیر کی تقسیم کے المیے اور اس کے نتیجے میں ہند و پاک، ہر دو جانب سے لاکھوں افراد کی نقل مکانی اور اس کے تناظر میں جنم لینے والی کہانیاں رہی ہیں۔ ان دونوں ہی ادیبوں کے افسانوں اور ناولوں میں ہجرت کے سبب پیش آنے والی المیہ صورتحال اور ذہنی طور پر وطن کی تہذیبی و ثقافتی یادوں سے وابستگی جیسے موضوعات کی منفرد انداز میں پیشکش ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

جبکہ تقسیم ہند کے دوران ہجرت کرنے والے مہاجر شعراء جن میں بڑے اہم نام حفیظ جالندھری، جوش ملیح آبادی، جگن ناتھ آزاد، حبیب جالب، جون ایلیا، صبا اکبر آبادی، تابش دہلوی، حفیظ ہوشیار پوری، انجم رومانی، منیر نیازی، ضیا جالندھری، عارف عبدالمتین، ادا جعفری، ناصر کاظمی، جمیل الدین عالی، شہزاد احمد، حمایت علی شاعر، ابن انشاء، سرشار صدیقی، سلیم احمد، رسا چغتائی، مصطفیٰ زیدی، محسن بھوپالی، مظفر وارثی، اطہر نفیس، کشور ناہید، افتخار عارف اور فہمیدہ ریاض وغیرہ شامل ہیں۔ ان شعراء کے ہاں مہجری ادب کے رنگ اپنے اپنے انداز میں ملتے ہیں۔

مصطفیٰ زیدی نے ان حالات کا اظہار یوں کیا:

درد دل بھی غم دوراں کے برابر سے اٹھا
آگ صحرا میں لگی اور دھواں گھر سے اٹھا

ان کے علاوہ مختلف وجوہات کی بناء پر بیرون ملک ہجرت کرنے والے شعراء جن میں احمد مشتاق، باصر سلطان کاظمی، لطیف کلیم، اشفاق حسین، حسن جاوید، ڈاکٹر یوسف قمر، ساقی فاروقی، عاصی کشمیری، جمیل الرحمان، منصور آفاق، نسیم سید، عرفان عزیز، محمد ممتاز راشد، تسنیم عابدی، نذیر قمر، میثم علی آغا اور سائرہ بتول ایسے شعراء ہیں۔ جنھوں نے بیروں ملک جا کر اپنے وطن سے اپنی سر زمین سے پیار محبت اور وہاں مہاجرین کو درپیش مسائل اور ذات کی تنہائیوں کو موضوع بنایا۔ بیرون ملک مقیم مہاجر شعراء نے ہجرت کے تجربات کو اپنی تخلیقی قوت اور فنی مہارت سے مختلف موضوعات کا احاطہ کرتے ہوئے پیش کیا ہے۔

بعض مسائل، مشکلات، دکھ، درد اور کرب کی کیفیتوں اور جذبوں کا اظہار سب شعرا کے ہاں مشترک نظر آتا ہے۔ مثلاً وقت کی کمی کا احساس سب کے ہاں یکساں موجود ہے۔ تارکین وطن چونکہ زیادہ تر حصول رزق کے لیے پردیسی بنے اور پردیس میں شب و روز اپنے کاموں میں مصروف ہیں۔ اپنی مصروفیت کے باعث وہ اپنے عزیز و اقارب، دوست احباب سے رابطہ نہیں رکھ پاتے لیکن انہیں اس بات کا احساس شدت سے رہتا ہے کہ ان کے پاس وقت نہیں کہ وہ اپنے پیاروں سے بات چیت کر سکیں۔ اس کا اظہار بیرون ملک غزل گو شعراء نے بھرپور انداز میں کیا ہے۔

باصر سلطان کاظمی ایک ایسے شاعر ہیں جو اپنی شاعری میں یہ نظریہ پیش کرتے ہیں کہ انسان ہجرت کے نتیجے میں مادی یا جسمانی طور پر متاثر ہوتا ہے لیکن اس کا تخلیقی عمل متاثر نہیں ہوتا بلکہ ہجرت سے اس کے تجربے اور مشاہدے میں وسعت اور پختگی آتی ہے۔

ان ہی شعراء میں سے ایک نام میثم علی آغا کا ہے ، ان کا تعلق سیالکوٹ کی تحصیل پسرور کے نواحی گاؤں سے ہے ، اب تک ان کے پانچ شعری مجموعے چھپ چکے ہیں

پکھی واس پنجابی۔ 2005

میں تجھ کو یاد آؤں گا 2006
ابھی موسم سسکتے ہیں 2007
ارتجال 2016
گلاب زادی 2019
اس کے علاوہ چار شعری انتخاب بھی چھپ چکے ہیں
برشگال 2015
چاک 2015
الہام 2016
اسم 2016

اردو نظم پر مشتمل مجموعۂ کلام ’گلاب زادی‘ انگلش اور اٹالین میں ٹرانسلیٹ ہو چکا ہے ان دنوں یہ جلاوطنی کے سبب اٹلی میں مقیم ہے۔

میثم علی آغا کی شاعری کا ایک کلیدی استعارہ سفر ہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو ہمیشہ ایک مسافر کے روپ میں دیکھا ہے۔ وہ سفر خارج میں بھی ہے اور باطن میں بھی۔ ان سفروں کے مقامات میں دوزخ، جنت، سرسبز و شاداب زمینیں اور اجڑے دیار سبھی شامل ہیں۔ وہ ان دیکھی راہوں کا مسافر ہے جو نئے جہانوں کی دریافت کا حوصلہ رکھتا ہے۔ اسے شعور ہے کہ اس سفر کی کوئی منزل نہیں ، اس لیے اس کے سنگی ساتھی بھی کچھ منزلوں تک ساتھ دیں گے اور بچھڑ جائیں گے۔ مگر اس کی قسمت کسی منزل پر کمر کھولنا نہیں۔ جس کا اظہار ان کے کلام میں جابجا ملتا ہے:

کہا تھا ناں
کہ ہم اک بار نکلے تو کبھی واپس نہ آئیں گے
ہمیں نیلے جزیروں کے سفر پر بھیجنے والو
ہمارے لوٹ آنے کی کوئی اب آس مت رکھو
مزاروں پر دیے مٙنت کے رکھو اور نہ میٹھی روٹیاں بانٹو
ہمارے لوٹ آنے کی کوئی صورت نہیں باقی
تمہیں جو یورپی نقشے پہ گہرے پانیوں کے نیلگوں ٹھہراؤ دکھتے ہیں
یہی گہرا گئے ہم کو
یہی پردیس کے نیلے سمندر کھا گئے ہم کو

انسان کا اپنی جنم بھومی اور تہذیب و ثقافت سے پیار فطری عمل ہے مگر جب دھرتی نامہرباں ہو جائے اور پاؤں جلنے لگیں اور اپنی دھرتی کو اگر کسی سبب سے چھوڑنا پڑ جائے تو تخلیقی آدمی ایک نئی جنت تعمیر کرنے کا عزم لے کر نئے سفر پر روانہ ہوتا ہے۔ بس پرانی یادوں کی ایک کسک رہ جاتی ہے مگر اسے معلوم ہوتا ہے کہ واپسی کا راستہ مسدود ہو چکا ہے:

ہماری مٹی اداسں ہاتھوں نے گوندھی ہو گی
سو ہم ادھورے ہیں اور مکمل بنے ہوئے ہیں

میثم علی آغا کا اپنی زمین کے ساتھ اس قدر گہرا رشتہ ہے کہ اس زمین کے توسط سے ان کی پرندوں ، درختوں، پہاڑوں ، آبشاروں، ندیوں ، دریاؤں، باغوں اور ہر اس شے سے قربت ہے جس کے بدن سے انہیں اپنی مٹی کی خوشبو آتی ہے۔ ان کی تمام شاعری اس خوشبو کی بازیافت کا نام ہے۔ اسی خوشبو کے سبب ان کی زندگی کے رویے ہجر و وصال کے موسموں سے آشنا ہوئے۔ ان ہی موسموں کے سبب ان کے ہاں اداسیوں ، یادوں، رتجگوں ، سرسوں کے پھولوں، ستاروں ، بسنتوں، چاند ، بارشوں، پت جھڑوں ، پرندوں اور درختوں کے استعاروں کے رنگ نمایاں ہوئے ہیں:

عجب اداسی ہماری روحوں میں بس گئی ہے
ہم ایک دوجے کو پا کے بھی پرسکوں نہیں ہیں
بھری بہار میں بھی ہم پہ برگ و بار نہیں
اب ایسے بانجھ درختوں کا کیا کرے کوئی

پاکستانی تارکین وطن شعراء کے ہاں جہاں اپنی تہذیب کی عکاسی ملتی ہے وہیں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت بھی ان کی شاعری میں ملتی ہے۔ مشرقی اور مغربی تہذیب و ثقافت میں بہت بعد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان سے جانے والے تارکین وطن جب اس معاشرے میں جاتے ہیں تو انہیں اپنے معاشرے کی بہت یاد آتی ہے۔ اور یہی معاشرت کا بعد ان کی تنہائی کا سبب بنتا ہے۔

مغربی معاشرے میں اجتماعی زندگی کا تصور نہیں،  ہر شخص اپنی انفرادی زندگی میں خوش ہے ۔ دوسرے لوگوں سے میل ملاپ ان کی زندگی کا حصہ نہیں ہے ، صرف کام کی حد تک ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں ، مگر برصغیر پاک و ہند سے گئے ہوئے مہاجرین کے لیے یہ سب سے بڑا المیہ ہے کہ وہ اجتماعی زندگی سے انفرادی زندگی میں چلے جائیں اور انہیں کوئی ایسا آشنا نہ ملے جس سے وہ دل کی بات کہہ سکیں۔ اکثر اس تنہائی میں انہیں گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے اور انہیں بڑی بڑی عمارتوں میں سینکڑوں فلیٹوں میں بھی تنہائی کا احساس ہوتا ہے۔ جس کا اظہار ان شعراء نے اپنی غزل میں کیا اور وہ اس تنہائی میں وطن کو یاد کرتے ہیں۔

کوئی تو ہو جو یہ خامشی کی زبان سمجھے
ہمارے نوحے چھلکتے آنسو نگل گئے ہیں
کیا دکھ ہے کہ جو ساتھ بتانے کی تھی یارا
وہ عمر بھی ہم دور پڑے کاٹ رہے ہیں

میثم علی آغا نے اپنے کلام میں تخلیقی بازیافت اور خود آگاہی کی خوشبو سے ماضی ، حال اور مستقبل کی تہذیبی اور ثقافتی مہکاروں کو یکجا کیا۔ ان کی شاعری یادوں اور خوابوں کا بیان ہے۔ ان کی شاعری کے موسم ان کے اپنے اندر کے موسموں پر مشتمل ہیں۔ یہ ایسے موسم ہیں جن کا تعلق روح اور دل سے ہے۔

دل پر تمہارے ہجر کی اک اک شکن لئے
میں چل رہا ہوں عمر کی ساری تھکن لئے
اتنی روئی ہیں تیرے ہجر میں زندہ آنکھیں
اب کسی لاش پہ گریہ نہیں ہونے والا
۔
مجھ سے پوچھو میں نے جھیلا ہے محبت کا عذاب
جس کی خواہش کی تھی میں اس کی مہک سے دور ہوں

اپنے آبائی وطن کی یاد انسان کے ساتھ موت تک رہتی ہے ، وہ کہیں بھی اور کسی بھی حال میں ہو وطن کی یاد کہیں نہ کہیں اس کے نہاں خانے میں موجود رہتی ہے۔ میثم علی آغا مسلسل اور منفرد انداز سے وطن کو یاد کرتے ہیں، ان کے ہاں یہ یاد مختلف بہانوں سے سامنے آتی ہے۔

شاعر معترف ہے کہ نیا وطن خوبصورت ہے ، دلکش ہے مگر یہ دلکشی وطن کی یاد آنے سے نہیں روک سکتی۔ شاعر خود کو اس معاشرے میں ڈھال نہیں سکا ، اس نے دل سے اس معاشرے کو قبول نہیں کیا۔ اسی لیے تو وہ اس دیار غیر میں خود کو مہمان ظاہر کرتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاعر اپنے وطن واپس آنے کی خواہش رکھتا ہے مگر حالات اسے اس چیز کی اجازت نہیں دیتے:

میرے پسرور میں تجھ کو بھولا نہیں
میری مٹی!
میں یورپ کی رنگینیوں میں نہیں کھو سکا
اتنے برسوں سے ان لوگوں میں رہ کے ان سا نہیں ہو سکا
کل بھی وینس کی گلیوں میں پھرتے ہوئے تیرا تالاب ہی یاد آتا رہا
گوریاں مجھ سے اٹلی کی رنگینیوں پہ کسی نظم کی بات کرتی رہیں
اور میں تیری گلیوں میں کھویا ہوا تیری مٹی کی خوشبو سناتا رہا
تیری مہکی فضاؤں میں سرشار میں تیرے حسن و جمال سخن ساز کے گیت گاتا رہا
میں نے جب یہ کہا کہ یہ نیلا سمندر مرے شہر کے ”ڈیک“ کے سامنے یار کچھ بھی نہیں
گوریاں میری آنکھوں میں پھیلا ہوا ”ڈیک“ حیرت سے بس دیکھتی رہ گئیں
میں نے جب یہ کہا کہ مرے شہر کے گرد دیوار تھی
جس کے دروازے اب تک بھی موجود ہیں
گوریاں میرے ہاتھوں کی بھینچی ہوئی مٹھیوں کی طرف دیکھنے لگ گئیں
جس طرح ایک دم مٹھیاں کھول کر ان کو دروازے تک بھی دکھا دوں گا میں
ایک گوری نے پترارکا کی محبت بھری شاعری کے حوالے سے جب بات کی میں نے دل شاد و طاہر بتائے اسے
اس نے السیندرو منزونی کہا میں نے فاخر و عادل سنائے اسے
جانتی ہو میری مٹی پھر کیا ہوا
ان کو چپ لگ گئی
میری مٹی ترا حسن قائم رہے
تو سلامت رہے
دل فریب اور دلکش مناظر میں رہتے ہوئے
شہر مسحور میں تجھ کو بھولا نہیں
میرے پسرور میں تجھ کو بھولا نہیں

اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو میثم علی آغا کی شاعری ایک ایسے فرد کا نوحہ ہے جو ہجرت کی آگ میں مسلسل جل رہا ہے اور ہر گزرتا دن اس آگ کی شدت میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ وہ اپنے جذبات کو الفاظ کا رنگ دے کر ایک ایسے فرد کی داستان رقم کر رہے ہیں جو ہجرت کے کرب کی عملی تصویر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بیرون ممالک میں مقیم شعراء کا اپنی زبان سے محبت کا یہ منہ بولتا ثبوت ہے کہ انھوں نے غیر ممالک میں زبان غیر کے درمیان اپنی زبان کو زندہ رکھا اور اس میں ادب تخلیق کیا جس میں وہ اپنے جذبات و احساسات کو بیان کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے