اسلام آباد بھی صحافیوں کے لیے اب محفوظ نہیں رہا: فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں صحافیوں پر حملوں اور آزادی اظہار کے حوالے سے تنظیم فریڈم نیٹ ورک نے اپنی سالانہ رپورٹ جاری کردی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں میڈیا اور صحافیوں کو ہراساں کیے جانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے پاکستان میں صحافت کے لیے خطرناک ترین جگہ بلوچستان یا قبائلی علاقے نہیں بلکہ ملک کا دارالحکومت اسلام آباد ہے۔

فریڈم نیٹ ورک پاکستان کی رپورٹ کے مطابق مئی 2020 سے اپریل 2021 تک ایک سال میں میڈیا اور صحافیوں پر حملوں اور آزادیٔ اظہار کی خلاف ورزیوں کے کم از کم 148 کیسز ہوئے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 40 فی صد زیادہ ہیں۔

ان 148 کیسز میں رپورٹ کے مطابق چھ صحافیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا جب کہ سات صحافیوں پر قاتلانہ حملے ہوئے، پانچ کو اغوا، 25 کو گرفتار اور 27 کے خلاف مقدمات بنائے گئے۔

خیال رہے کہ ایک تازہ واقعے میں چند روز قبل سینئر صحافی ابصار عالم پر بھی قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا جس میں پیٹ میں گولی لگنے کے باوجود وہ محفوظ رہے تھے۔ اس سے قبل سینئر صحافی مطیع اللہ جان کو بھی گزشہ سال نامعلوم افراد نے اسلام آباد سے ہی مبینہ طور پر اغوا کر کے چند گھنٹوں بعد چھوڑ دیا تھا۔

فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقباک خٹک کہتے ہیں کہ یہ رپورٹ ان کے بقول اپنے وعدے وفا کرنے کے معاملے میں حکومت اور ریاستِ پاکستان کی مجموعی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔

اقبال خٹک کا کہنا تھا کہ حکومت شہریوں کی آزادیٔ اظہار رائے کا حق محفوظ نہیں کر سکی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قانون صحافیوں کے تحفظ کے لیے ہونا چاہیے اسے ان پر قدغنیں لگانے اور گرفتاریوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

رواں سال جاری کردہ یہ رپورٹ آزادیٔ صحافت کے علم بردار آئی اے رحمان سے منسوب کی گئی ہے جو گزشتہ ماہ لاہور میں انتقال کر گئے تھے۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صحافیوں کے خلاف ملک بھر میں پیش آنے والے 148 کیسز میں سے 51 کیسز اسلام آباد میں پیش آئے۔

سینئر اینکر اور صحافی حامد میر کہتے ہیں کہ حکومت نے صحافیوں کے تحفظ کا بل روک رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے دو وزیر شبلی فراز اور شیریں مزاری نے صحافیوں کے تحفظ کے لیے بل ڈرافٹ کیا اور جب یہ بل وزارتِ قانون کے پاس پہنچا تو وہاں اسے روک لیا گیا ہے ۔ بقول ان کے وہ اسے پارلیمنٹ میں بھجوانے سے انکار کر رہے ہیں۔

‘صحافیوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی حکومت کی ترجیح ہے’

وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کہتے ہیں کہ صحافیوں کی بہتری کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں اور ان کے مالی تحفظ کا خیال بھی رکھا جا رہا ہے۔

اُن کے بقول صحافیوں کی تنخواہوں کے لیے تمام میڈیا مالکان سے رابطہ کر رہے ہیں۔ آئندہ کچھ عرصے میں صحافیوں کے لیے ہاؤسنگ سکیمز بھی لائی جا رہی ہیں۔

ورلڈ فریڈیم انڈیکس کے مطابق اس وقت دنیا کے 180 ممالک میں پاکستان کا 145 واں نمبر ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کے دوران اس رینکنگ میں پاکستان کی مزید چھ پوائنٹس تنزلی ہوئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1896 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *