ہمیں اپنی اقلیتوں کی قوت برداشت پر فخر ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے بہت احسانات ہیں ہماری اقلیتوں پر۔ ہم تو بڑے دل کے لوگ ہیں جتاتے نہیں ہے لیکن ہمارے احسانات بہرحال سامتے آ ہی جاتے ہیں۔ سب سے پہلے تو ہم انہیں کہتے ہی اقلیتیں ہیں تاکہ ان کا ایک الگ سٹیٹس قائم رہے۔ ویسے کیا ہی اچھا ہو کہ انہیں گلے میں ایک گولڈن کلر کا سٹار بھی ڈالنے کا کہہ دیا جائے۔ لیکن چلو ابھی تک یہ نہیں ہو سکا۔ ہو سکتا ہے کہ ٹی ایل پی کچھ اور کوشش کرے تو حکومت اور سیاسی پارٹیاں تو ان سے زیادہ سرگرم ہونے کی دعوے دار پہلے بھی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گی۔ اور عوام تو ہے ہی ٹی ایل پی کے ساتھ۔

ہمیں چونکہ اپنی اقلیتوں سے پیار ہے ، اس لیے ہم نہیں چاہتے کہ ان پر بڑی بڑی ذمہ داریاں ڈالی جائیں۔ کچھ صدر وزیراعظم جیسے عہدے تو ہم نے آئین ہی میں لکھ دیے ہیں کہ ان کا بوجھ اقلیتوں پر نہ ڈالا جائے۔ باقی جو آئین میں نہیں لکھے ، ان کے لیے بھی یقینی بناتے ہیں کہ اتنی بھاری ذمہ داریوں سے اقلیتوں کو دور ہی رکھا جائے۔ کتنا عجیب لگے گا کہ ہماری فوج کا سربراہ کوئی کپل دیو نامی بندہ ہو۔ وہ تو نام سے ہی انڈین لگتا ہے تو انڈیا کے ساتھ دشمنی کیا خاک نبھائے گا۔ اس لیے ایسا تو ہم کبھی ہونے نہیں دیں گے۔

انڈین تو پاگل ہیں ، اپنے سیکولر ازم کے چکر کبھی ذاکر حسین، محمد ہدایت اللہ، فخرالدین علی احمد اور عبدالکلام کو صدر بنا دیتے ہیں اور کبھی اظہرالدین کو کرکٹ ٹیم کا کپتان بنا دیتے ہیں۔ ہماری ٹیم میں یوسف یوحنا کھیلتے تھے تو کتنا عجیب لگتا تھا۔ وہ تو شکر ہے کہ ہم نے انہیں محمد یوسف بنا کر جنت کا حق دار بنا دیا۔

صرف انتظامی عہدے ہی نہیں ہم اقلیتوں کو گھریلو پریشانیوں سے بھی دور رکھنا چاہتے ہیں۔ خیر سگالی کے اسی جذبے کے تحت ہم غریب ہندو اور مسیحی خاندانوں کی لڑکیوں کی شادیوں کا بوجھ بھی ان کی کم عمری ہی میں ان کے والدین کے کندھوں سے اتار دیتے ہیں۔ ہمارے تو کئی مولوی اور پیر صاحبان ہمہ وقت ایسے نکاح پڑھانے کے لیے تیار رہتے ہیں اور ہماری پولیس اور کورٹ بھی اپنا کردار ادا کرتی ہیں اور یوں ایک غریب اقلیتی والدین کے کندھوں سے ان کی بیٹی کا بوجھ ہمیشہ کے لئے اتر جاتا ہے۔ ایسے والدین کو آپ نے عدالتوں کے باہر خوشی کے آنسو بہاتے دیکھا تو ہو گا۔

اقلیتوں کے ساتھ اچھے برتاؤ میں ہمارا کوئی ثانی نہیں تھا۔ یہ تو مودی صاحب نے آ کر ہمارے ساتھ ریس لگا لی ہے اور وہ بھی بہت اچھا پرفارم کر رہے ہیں۔ ہمارے نقش قدم پر چل پڑے ہیں۔ وہ بھی ہماری ہی طرح دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کرتے ہوئے ہمارے والی منزل پا لیں گے۔ انڈین اقلیتیں پاکستانی اقلیتوں کے ساتھ حسد نہیں کریں گی۔

ہماری ستر سال کی محنت ہے کہ آج ہمارا نام یورپین پارلیمنٹ میں گونجا۔ یہ ہماری اخلاقی فتح ہے کہ یورپی پارلیمنٹ کے چھ ممبران نے ہمارے حق میں ووٹ بھی دیا۔ بے راہروی کا شکار 678 ممبران نے محض کسی سازش کی وجہ سے ہمارے خلاف بھی ووٹ دیا۔ لیکن ہمیں ان کی فکر نہیں ہے۔ ہم یورپین پارلیمنٹ کی اس سازش کا بھرپور جواب دیں۔ ہم نے فوراً پاکستانی این جی اوز کے خلاف تحقیقات شروع کروا دی ہیں اور سخت ایکشن لیں گے ان لوگوں کے خلاف جو اقلیتوں کے ساتھ ہمارے رویے پر مثبت رپورٹنگ نہیں کرتے۔

صرف یہی نہیں یہ این جی اوز تو ہماری مثبت رپورٹنگ کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ جیسے کچھ ہی عرصہ پہلے ہماری عورتیں مغربی ممالک کی شہریت لینے کے لیے ریپ کرواتی تھیں تو جنرل مشرف بھانپ گئے تھے اور ان عورتوں کا بھانڈا پھوڑ دیا تھا ، اسی طرح اب یہ اقلیتوں کے لوگ بھی باہر کی شہریت لینے کے لیے دس بارہ سال جیل جاتے ہیں۔ ڈیتھ رو پر رہتے ہیں تاکہ باہر کے ملک کی شہریت مل جائے۔ ہم نے سب بھانپ لیا ہے۔

ہم سب سازشیوں کو یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہم اپنی اقلیتوں کی اچھی تربیت اپنے طریقے سے کر رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف ان کا فائدہ ہوتا ہے بلکہ ہمارے عقیدے کی عزت کو بھی چار چاند لگ جاتے ہیں۔ مثال کے طور جب ہم کسی مسیحی خاتون نرس کو ہسپتال میں فرش پر گراتے ہیں، اور اسے تھپڑ لگاتے ہیں تو وہ کتنے شوق سے ہمارے حق میں نعرے لگاتی ہے۔ ہمیں پتا ہے کہ ان کے دل میں بھی ہماری اور ہمارے عقیدے کی عزت بہت بڑھ جاتی ہے اور اس سے ہم دونوں کو بہت فائدہ ہوتا ہے۔

پاکستان میں بھی کچھ لوگ ہیں جو اقلیتوں کے ساتھ ہمارے سلوک پر خواہ مخواہ فساد کھڑا کر دیتے ہیں۔ ایسا ہی ایک فساد پاکستان کے چیف جسٹس تصدق جیلانی صاحب نے کھڑا کیا تھا۔ وہ 2014 میں آٹھ چیزوں کی ایک لسٹ بنا گئے کہ انہیں کرنا لازمی ہے۔ وہ بضد تھے کہ اس سے اقلیتوں کے حالات بدل جائیں گے۔ لیکن اصل میں وہ غلط تھے ایسے کام کرنے سے تو اقلیتیں بگڑ کر آپے سے باہر ہو جائیں گی اور ظاہر ہے کہ یہ اچھی بات نہیں ہے۔ وہ تو شکر ہے کہ وہ چیزیں ہم نے ہونے ہی نہیں دیں ورنہ اقلیتیں اب تک قابو سے باہر ہو جاتیں اور پاکستان میں مسلمانوں کی زندگیاں اجیرن ہو جاتیں۔ اور یہ فوراً ہی ہو جانا تھا کیونکہ ہم بے چارے مسلمان پاکستان کی آبادی کا صرف ستانوے فیصد سے تھوڑا سا ہی زیادہ ہیں۔

جسٹس تصدق جیلانی کے سپریم کورٹ کے فیصلے میں دیے گئے نکات پر تسلی بخش کام نہ ہونے پر کچھ لوگ واویلا مچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان میں ہیومن رائیٹس کمیشن آف پاکستان اور سنٹر فار سوشل جسٹس سرفہرست ہیں۔ یہ سنٹر فار سوشل جسٹس والے ہر دوسرے چوتھے سال سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر کوئی پروگریس نہ ہونے پر ایک تحقیقی رپورٹ نکال کر خود ہی شرمندہ ہوتے ہیں کیونکہ ہم تو ان کی سازش کا شکار ہونے والے نہیں ہیں۔

ابھی چند روز قبل بھی انہوں نے تیسری رپورٹ لانچ کی اور حقائق سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ حکومت سنجیدگی نہیں دکھا رہی۔ لیکن میں انہیں یہ بتا رہا ہوں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر کوئی کام اس لیے نہیں کیا کیونکہ کوئی کام کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ ہمیں اپنی اقلیتوں پر فخر ہے خاص طور پر ان کی قوت برداشت پر۔ ہم اپنا رویہ بدل کر ان کی قوت برداشت کو کم نہیں کرنا چاہتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 266 posts and counting.See all posts by salim-malik

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *