خدا! اپنے گھر کی محافظوں کو شر عجم سے بچا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


سنا ہے کہ حرم اور گنبد خضریٰ کے سائے میں عورتیں عورتوں کے تحفظ اور مدد کو آئی ہیں۔ ساتھ میں یہ بھی سنا ہے کہ یہ عورتیں وہاں بھی بے حیائی اور گندگی پھیلا رہی ہیں۔ یہ بھی سنا ہے کہ قیامت کی نشانی بھی ہے۔

نفرت کی بدنما صورت یہ ہو سکتی ہے کہ انسان کے ظاہری اور مادی وجود سے گھن محسوس کی جائے، اس کو تکلیف میں مبتلا کیا جائے یا نفرت کے برملا اظہار کو سب و شتم کی شکل دی جائے۔ مادی وجود یعنی جسم کی نسبت سے الفاظ اور طرز کلام بول چال کا حصہ ہوں جن سے عداوت اور بے زاری اس حد تک جھلکنا شروع ہو کہ نفرت اور گرل الفاظ سے نکل کر تشدد کی شکل اختیار کر لے۔ جب عورت کی کہیں موجودگی کو قرب قیامت قرار دیا جائے تو صاف دکھتا ہے کہ عورتوں کے متعلق مخاصمت کتنی گہری ہے۔

قیامت کائنات کی انتہائی تباہی کا عمل جس کو عورت کے وجود سے منسلک کرنا ایسا ہی ہے جیسے اس جھوٹ کو سچ کہا جائے کہ خدا کو عورت ناپسند ہے جو حقیقت میں تاریخی و معاشرتی پدرسری نظام کے ضابطوں کو بے نقاب کرتا ہے جس کا خدا سے نہیں بلکہ بے انصاف نظام سے گہرا تعلق ہے۔

عورت کے وجود نے سرزنش، سازش، تکلیف، دشنام سہا۔ حقارت، خفت، ادھورا پن، انسانی تنزلی اس کے حصہ میں رہی، تکریم کی شکل میں تحقیر، عزت کے روپ میں ذلت کی بیماری دیکھی، خوشی کی تقلید میں دکھ سینچے۔ اس کے ہونے کو سہو اور بدن کو ایسی خوفناک تقصیر ثابت کیا کہ خود عورت اپنے ہونے پر شرمندہ رہی جب ہی عورت کے جسم سے نفرت اور حقارت جا بجا رویوں میں جھلکتی ہے۔

ایسی باتیں کتبے پر درج کی جاتی ہیں نہ کتابوں سے پڑھ کر عقل میں منقل ہوتی ہیں، نہ ہی کسی کی جلائی ہوئی سازش کا شعلہ ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جو ہمارے اطراف اور روبرو ہمہ وقت تجربات کے روپ میں منڈلاتی رہتی ہے۔ ہمیں ہمارے ہونے پر رونا بھی آتا ہے، اور کمتری کا احساس رویوں سے دکھتا ہے۔ نفرت، مذمت، ملامت کرنے والے خواہ کس قدر وجود زن کی مدحت اور چاہ کریں، عزت نہیں کرتے۔ بے زاری اور کینہ کو کیسے ہی اچھے نام اور دلائل دے کر مقبولیت کیوں نہ حاصل ہو، اس کا پنہاں مقصد روزمرہ کے امور سے عیاں ہوتے وقت نہیں لیتا۔ عورت کا جسم ایسا نازیبا بنا کر پیش کیا ہے کہ خود عورت پشیماں ہوتی ہے، اس کی بدترین کڑی یہ ہے کہ عورت ہی عورت کے وجود کو خالصتاً عورت کے بدن کی نفرت میں گندگی اور غلاظت قرار دے۔

عورت کا وجود اس قدر حقیر تصور ہو کہ معتبر سمجھے جانے والے مقامات پر اس کا ہونا ہی غیر معتبر کہلایا جائے حقارت کا انتہائی درجہ ہے۔ جب حرم شریف اور مسجد نبوی ﷺ میں خواتین پولیس اہلکاروں کو اس لئے تعینات کیا گیا کہ خواتین عقیدت مندوں کو سہل اور مقامی عورتوں کو باعزت روزگار کے مواقع مہیا کیے جاسکیں وہیں پر اس پیش قدمی پر تنقید اور مخالفت کی آخری حد بھی پھلانگ لی گئی۔ نفرت اور توہین کے ایسے لفظی حربے قیامت کی بارش کی طرح برسائے کہ شرم سے جہنم بجھ جائے، جنت کو لجاجت محسوس ہونے لگے۔

توہین آمیز ردعمل کا آنا روایتی زن بیزاروں کی حسد اور اکتاہٹ کا اصلی ثبوت ہے جو حرم کی مقدس دیواروں کے مابین بھی ایمان ”والوں“ کو نفرت کو سے نہ بچا سکا۔

یہ عورت سے اس درجے آخر کی نفرت کرتے ہیں کہ وردی میں ان کو مذہبی مقامات پر کھڑا دیکھنے کے روادار نہیں ہوسکتے۔ یہ نفرت پولیس کی خاص وردی سے ہے نا لباس کی شکل سے، بے توقیری کا تموج ابھرا ہے تو عورت کے وجود کے عناد میں جس کو صدیوں سے مرد کے گناہوں کے عوض مذمت اور سرزنش کی دھول چٹائی گئی ہے۔

قیامت خیز کینہ ہے جو حرم جیسی مقدس جگہ پر کھڑی عورتوں کو گندگی تک کہنے سے باز نہیں آیا۔ مسجد نبوی ﷺ میں تعینات خاتون اہلکاروں کو بے شرم کہتے ہوئے ایک لحظے کے لئے بھی خوف خدا محسوس نہیں ہوا کہ کہیں خدا کی لاٹھی کی چوٹ میں نہ آجائیں۔ گنبد خضریٰ کے سائے میں فرض نبھاتی لڑکیوں کے وجود غلاظت سے تشبیہ دیتے انسانوں کو یہ گمان نہیں گزرا کے اونچی اناؤں سے کہیں ان کے اعمال نہ ضائع ہو جائیں۔

حرم میں حفاظت کرتی عورتوں کے بدن ناپاک، بے حیا اور غلیظ کہلائے گئے تو وہ غم اپنی نیند سو گیا کہ سڑک پر اپنا حق اور انصاف مانگنے والی عورت کو یہاں کبھی عزت نہیں دی جاتی، جو حرم اور مدینے کی ایمان والیوں کو گالی دے سکتے ہیں وہ کس درجہ احترام اور قدس پر فائز ہوں گے؟

عام اور آسان عقل میں یہ بات بیٹھتی ہے کہ سڑک پر اپنے حق کے لئے ریاست سے مطالبہ کرنے والی سماج مقابل عورت کو یہ متشدد سماج بے حیا اور گندی عورت کہہ سکتا ہے، مگر حرم میں فرض ادا کرتی، عقیدت مند عورتوں کی رہنمائی کرتی عورت کو کس نظریے اور نظر سے گندگی اور بے حیائی کہا جاسکتا ہے؟ خدا نے کہیں بھی عورت کے پیٹ میں کسی نطفے کو دین کی جاگیر کی دستاویزات نہیں تھمائی تھیں ہاں ان کو ایسی بھیانک اور آخرت تباہ کرتی وبا لاحق ہے جو سمجھتے ہیں کہ عورت کے وجود سے بربادی آتی ہے، جبکہ بربادی ان کے لفظوں میں بے لحاظ انا کی ہی مہمان ہے۔

عورت جو صدیوں سے گندی اور ناپاک ہے، جس کا مقدس عبادت گاہوں میں فرض ادا کرنا معیوب اور توہین ہے، مگر ان کا وجود اس کی رانوں کے وسط سے اسی کے خون میں لت پت ہوتے جنم لیتا ہے۔ حرم میں کھڑی عورتوں کے فقط زندہ وجود تکلیف اور بے حیائی کا باعث بنے ہیں جس سے امت کے مردوں کی مغالطہ آمیز غیرت بیدار ہو گئی کہ ان کا لباس ان کی خواہش کا نہیں۔

مقامی مردان حق نے عرب پیرہن کو قومی اور ثقافتی لباس کا شرف بخشا ہے مگر عرب اپنے لباس پر اکتفا کیے ہوئے ہیں۔ ایک صاحب نے سماجی رابطے کے منچ پر اپنی بیش قیمت رائے کا اظہار کچھ یوں کیا کہ حرم میں تعینات خواتین اہلکاروں کی وردی میں دوپٹے کی کمی ہے۔ اگر حرم میں بھی زائرین کی نگاہیں فرض ادا کرتی عورت کے سینے پر جانی ہیں تو ان زائرین کو ان کے اوطان واپس بلا لینا چاہیے۔ یہ نکتہ غلط العام ہے کہ جلباب دین اسلام میں خواتین پیروکاروں کا یونیفارم ہے جو ان پر لازم ہے۔ جبکہ وہاں کے محافظ مرد اسلام دشمن مغرب کا لباس ضرور پہن سکتے ہیں۔

حجاب کیے اور سینوں کو موٹی وردی سے ڈھانپے خواتین کے جسموں کی نظروں سے اچھی چھان بین کرنے کے بعد خواتین کو عرب اسرائیل تعلقات کا تحفہ قرار دیا گیا، صرف اس لئے کہ وہ عورتیں ہیں؟ جو کہ مسلمان عورتوں کی گستاخانہ حد تک تذلیل ہے۔

زن بیزاری اس نہج تک شر بن کر رگوں میں دوڑتی ہے کہ ایک صاحب نے مکہ اور مدینہ میں عورتوں کے ہونے کو ہی عذاب الہی قرار دیا۔ وہ اسلام جس کی اول پیروکار ایک مکی عورت تھی، اس دین کے خود ساختہ ہندی شریر کے پیروکاروں کے قریب عورت کا ہونا قہر خدا ہے۔ محرم نامحرم کی تکرار کرنے والوں کے قریب مرد پولیس اہلکاروں کا خواتین زائرین کے لئے مددگار ہونا اس لئے بہتر ٹھہرا کہ حرم جیسی پاک جگہ میں عورت کا فرض ادا کرنا ایک گندگی ہے جو پھیلائی گئی ہے۔ تخریب کار سوچ کے نزدیک عورت عورت کا تحفظ کرنے کے بھی لائق نہیں ہو سکتی جبکہ احد کی لڑائی میں ام عمارہ نے چاہے کس قدر شجاعت کا مظاہرہ ہی کیوں نہ کیا ہو۔

سچ تو یہ ہے کہ عورت کا کہیں فقط موجود ہونا ہی بے ایمانی اور دین کی مخالفت تصور کیا جاتا ہے، جیسے گناہ ہو۔ ہماری شعوری نشوونما ہی اس طرح سے کی گئی کہ عورت بھی عورت کے ہونے کو بد دیانتی سمجھتی ہے۔ عورت کے شعور میں یہ بات منجمد ہے کہ اس کا ہونا مجرمانہ ہو سکتا ہے۔ کسی عورت کا دوسری عورت کو پلید کہنا اس لئے کہ وہ عورت ہے سماج میں موجود بھیانک زد و کوب کو واشگاف الفاظ میں بیان کرتی ہے۔

عورت صرف اس لئے ممنوع ہونی چاہیے کہ اس کے بدن میں تولیدی اعضاء ہیں یا ایک خاص وقت تک اس کا جسم مخصوص ساخت اختیار کرتا ہے؟ جو کائنات میں موجود دیگر جانداروں کی طرح اپنے بچوں کو فطرتی غذا مہیا کرنے کا باعث ہے، جس کی اسی نظام، روایت اور ضابطے نے عورت کا بد نما داغ بنا کر سرزنش کی ہے اور اپنے لطف کے لئے تیار کیا ہے۔ جہاں یہ لطیف اعضاء والی ناپسند آئے، مقابل ہو وہاں اس کی ممانعت، جہاں یہ سر جھکائے خود کو مفتوحہ مال سمجھے وہاں یہ گلاب کی پنکھڑی کہلائی۔

عورت کا وجود عورت کی نظر میں ہی غیر مناسب رہا ہے، ۔ اس کے جسم کی نظام اور روایت نے مذمت ہی کی۔ جیسے کوئی بد دعا ہو، دھتکار ہو، حقیر، بد خلق، لعین فطرت ہو، ناگوار، گناہ، جرم ہو جس کو قدس سے دور رکھنا ہی مقدس ہے۔

اس بھید کو سچ کی شکل دے کر تسلیم کر لیں کہ نفرت مغرب سے نہیں، آل سعود سے یا مشرق وسطیٰ امن اقدامات سے نہیں، عورت کے زندہ وجود سے ہے یہ عرب و عجم کی تفریق سے بالاتر ہے، جو آپ کے شریر میں شر بن کر دوڑتا ہے جو مکہ اور مدینہ کی حرم اور گنبد خضریٰ کی پاسدار خواتین کی رانوں اور سینوں تک جا پہنچا، جس بد نے ان کو دشنام اور سنگین بے عزتی سے تحفظ نہ دیا۔ یقیں ہوتا ہے کہ سپاہ یزید نے کیسے آشیانہ رسول ﷺ کی خواتین کے حجاب نوچے ہوں گے جو احترام اور عقیدت سے بے پرواہ خالصتاً پدرسری کی جبلت میں شامل تب بھی تھا اور آج بھی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *