قصہ ایک ناڑے کا!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رمضان المبارک کا تیسرا عشرہ شروع ہو رہا۔ اللہ کے فضل و کرم سے دو عشرے بخیر و عافیت گزر چکے ہیں۔ گزشتہ عشرہ مولانا طارق جمیل کے برینڈ ایم ٹی جے کے ”مبینہ ناڑے کی قیمت“ کی نظر رہا کیونکہ فیس بک، ٹویٹر، واٹس آپ حتٰی کہ ہمارے روایتی میڈیا پر بھی اس ناڑے کے چرچے زبان زد عام رہے۔ مدعا یہ تھا کہ کچھ شر پسند عناصر نے سوشل میڈیا پر ایک ناڑا بمعہ تصویر وائرل کر دیا کہ یہ ناڑا ایم ٹی جے پر مبلغ ساڑھے پانچ سو روپے میں دستیاب ہے۔

اس پر کچھ ”دیسی اور لنڈے کے لبرلز“ نے مولانا کے برینڈ کی خوب کھل اڑائی جس کے جواب میں مولانا کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد نے مولانا اور ان کے ناڑے کا بھرپور انداز میں دفاع کیا کہ آئینی طور پر مولانا کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ اپنا کاروبار کر سکتے ہیں اور من چاہی قیمت پر ناڑا فروخت کر سکتے ہیں۔ بعد ازاں مولانا کے برینڈ کی ٹیم کی جانب سے یہ تردید شائع کی گئی کہ جناب ہمارا برینڈ اس طرح کا کوئی ناڑا فروخت نہیں کرتا لہذا ہمارے خلاف یہ جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈا نہ کیا جائے۔ اس تردید کے بعد تا حال مولانا کے حامیوں میں جشن کا سماں ہے وہ سوشل میڈیا پر بھرپور انداز میں ان ”دیسی اور لنڈے کے لبرلز“ کو جھوٹا اور بغیر تحقیق کئیے افواہوں کو پھیلانے والا قرار دے رہے ہیں جو کہ درست بھی ہے کہ کیونکہ انہوں نے محض افواہوں کی بنیاد پر مولانا کے کاروبار کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔

لیکن دوسری طرف اگر لبرلز نے افواہوں کی بنیاد پر پروپیگنڈا کیا تو تردید آنے سے پہلے تک مولانا کے حامیوں نے بھی بغیر تحقیق کیے صرف اس وجہ سے ناجائز منافع خوری کا بھرپور انداز میں دفاع کیا کیونکہ اس ناجائز منافع خوری کا تعلق مولانا کے برینڈ کے ساتھ تھا۔ ان میں سے بعض صارفین کے دلائل ایسی زبان میں پیش کیے گئے تھے کہ ان کا یہاں ذکر ایڈیٹر کی قینچی کا شکار ہو سکتا ہے۔ تا ہم ان میں سے چیدہ چیدہ اور نسبتاً مہذب دلائل کچھ اس طرح سے ہیں۔

بھئی برینڈ کی چیز اتنے میں ہی آتی ہے اگر آپ کی خریدنے کی اوقات نہیں تو ریڑھی سے خرید لو
مولانا کا برینڈ ہے وہ اپنی پروڈکٹ جتنے میں چاہیں فروخت کریں۔ تمہیں کیا تکلیف ہے؟

جب ماریہ بی کا ہزار والا سوٹ پانچ ہزار میں بیچا جا سکتا ہے تو مولانا پندرہ روپے والا ناڑا ساڑھے پانچ سو میں کیوں نہیں بیچ سکتے؟

ساری زندگی لنڈے کی چیزیں پہنے والے لنڈے کے لبرلز کو کیا پتہ کہ برینڈ کسے کہتے ہیں۔

مولوی چندہ لے تو لبرلز تب بھی تنقید کرتے ہیں اور اگر اپنا جائز کاروبار کرے تو انہیں تب بھی تکلیف ہوتی ہے۔ یہ آخر چاہتے کیا ہیں؟

ایک صاحب نے تو تمام حدیں پار کرتے ہوئے مولانا کو موجودہ دور کا رابن ہڈ قرار دے دیا کہ وہ اپنے کاروبار کے ذریعے امیروں کی جیبوں سے پیسے نکال کر غریبوں میں بانٹ رہے ہیں تو اس میں غلط کیا ہے؟

اس تناظر میں یہ بات واضح ہے کہ ہماری اکثریت شخصیت پرستی میں اتنی گر چکی ہے کہ اسے اس قدر ہیبت ناک لوٹ کھسوٹ، معاشی استحصال اور حرام خوری میں بھی حکمت اور دانائی نظر آتی ہے۔ ہم اپنی سیاسی یا مذہبی وابستگی کی وجہ سے ظلم، زیادتی اور حق تلفی کو غلط سمجھنے کی بجائے کمال مہارت اور ڈھٹائی کے ساتھ اس کا دفاع کرتے ہیں اور اگر یہ وابستگی مذہبی بنیادوں پر ہو تو ہم یہ کار خیر اپنا مذہبی فریضہ سمجھ کر سر انجام دیتے ہیں۔ مزید یہ کہ اگر کوئی شخص اس زیادتی کے خلاف بات کرے تو اسے ہم پلک جھپکنے میں دائرہ اسلام سے خارج کر دیتے ہیں۔

موجودہ صورت حال میں بھی مولانا کے حامیوں کی طرف سے بھی اسی طرح کا طرز عمل اپنایا جا رہے کہ بجائے اس کے کہ آپ ناجائز منافع خوری کی مذمت کریں آپ نے الٹا اس نکتہ کو موضوع بحث بنانے والوں کو ہی ملحد، دیسی لبرلز اور مولانا سے بغض رکھنے والے قرار دے دیا۔ بحث کا اصل مقصد کسی ذات یا اس کے کاروبار کو تعصب کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنانا نہیں تھا بلکہ اس کاروبار کی آڑ میں ناجائز منافع خوری اور مذکورہ شخصیت کے قول و فعل میں تضاد کو عیاں کرنا تھا جسے بہت آسانی سے مشاہدے اور عقلی بنیادوں پر پرکھا جا سکتا ہے۔ ناجائز منافع خوری ماریہ بی کرے، جے ڈاٹ کرے، ایم ٹی جے کرے یا کوئی جھا بڑی والا کرے وہ غلط اور نا قابل برداشت ہے۔ اسی لئے ریاست کے ہر شہری کا یہ فرض ہے کہ وہ اس پر آواز اٹھائے۔

نیز۔ ناجائز منافع خوری پر تنقید مولانا یا اسلام پر تنقید نہیں ہے۔ لہذا مولانا کے ناڑے کو مضبوطی سے تھامنے کی بجائے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامیں اور حق بات کہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *