سوچنے والی ٹوپی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل لاک ڈاؤن کی وجہ سے میں اپنے بیٹے کے ساتھ کنڈر گارٹن نئے سرے سے پڑھ رہی ہوں ( بچپن میں واقعی ایک سال جمپ ماری تھی شاید اسی کی سزا مل رہی ہے ) ۔ جہاں کبھی کبھی سارا دن خوا نگرانی کے لیے ساتھ بیٹھنا کلاس کا شور شرابا، گانے نظمیں اور باتیں سننا اور ساتھ میں اپنا کام بھی کرنا ذہنی ٹارچر سا بن جاتا ہے وہیں کبھی کبھی کوئی چھوٹی سی بات سوچ کے کئی در بھی وا کر جاتی ہے۔

کچھ دن پہلے ٹیچر نے ایک سائنس کا تجربہ کروایا، تین گلاسوں میں پانی اور تین میں رنگ گھول کے دائرے میں رکھا گیا اور پھر پیپر ٹاول کے سروں کو ایک سے دوسرے میں ڈالا گیا اب یہ دیکھنا تھا کہ رنگ کیسے پیپر ٹاول کی مدد سے ایک سے دوسرے گلاس میں سفر کرتے ہیں۔

ٹیچر نے ہر بچے سے پیشین گوئی کرنے کو کہا، کسی نے کہا کہ قوس و قزح بن جائے گی، کسی نے کہا کہ، رنگ مل جائیں گے، کسی نے کہا کہ صاف پانی میں رنگ آ جائیں گے وغیرہ وغیرہ۔

ایک بچے کی باری تو پتہ نہیں کس دھیان میں اس نے کہا کہ
It will blow the house
یعنی یہ گھر کو اڑا دے گا۔

میری بے ساختہ ہنسی چھوٹ گئی، اچھی بات یہ ہے کہ سب کے مائک بند ہوتے ہیں سوائے ٹیچر کے اور انہونے کسی بھی قسم کا تبصرے کیے بغیر بڑے تدبر سے بچے کو مخاطب کر کے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ آپ نے ابھی اپنی تھنکنگ کیپ نہیں پہنی ہوئی اس لیے آپ اپنی تھنکنگ کیپ پہنیں اور پھر جواب دیں، جب تک میں دوسرے بچوں سے پوچھتی ہوں اور پھر آپ کی طرف آؤں گی۔

اور یہ تھنکنگ کیپ یا سوچ کی ٹوپی جیسے میرے ذہن سے چپک گئی۔

خوبصورت گفتگو کرنا، موقع محل کے حساب سے احسن بات کرنا اور اچھی بات چیت سے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لینا ایک فن ہے جو کم ہی لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔

کچھ لوگوں کی صحبت سے لوگ صرف اس لیے کتراتے ہیں کہ کہیں ان کی ذہنی طور پہ تھکا دینے والی باتیں تا دیر نہ سننی پڑ جائیں یا خواہ مخوا کے سوال جواب اور گول مول گھومی پھری باتوں سے سابقہ نہ پڑ جائے۔

میں نے بہت سے پڑھے لکھے لوگوں، تجربہ کار بڑوں اور جہاں دیدہ لوگوں کو بھی موقع محل کے حساب سے بہت بے تکی بات اور فضول گفتگو کرتے دیکھا ہے

اس لیے یہ بات تو طے ہے کہ اس کا تعلق عمر سے ہر گز نہیں۔

یہاں پہ تصور آتا ہے ”تھنکنگ کیپ“ کا یعنی ہم اکثر کبھی اپنے بڑے ہونے یا بزرگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، کبھی اپنی مرتبے کے بل پہ اور کبھی اپنی تعلیم کے زعم میں اور کبھی بلا وجہ ہی اپنی سوچ کی ٹوپی پہنے بغیر یا دوسرے لفظوں میں بلا سوچے سمجھے بات کر جاتے ہیں جو اکثر نا صرف ہمارے شایان شان نہیں ہوتی بلکہ دوسروں کے سامنے ہماری شخصیت کا تاثر بھی خراب کر دیتی ہے۔

ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ پہلے تولو پھر بولو لیکن جب بولنے کی باری آتی ہے تو گویا یہ ترازو ذہن کے کسی فالتو گوشے میں پڑا مٹی کھا رہا ہوتا ہے۔

مثلاً گفتگو کے کچھ آداب ہوتے ہیں جس میں سر فہرست احترام ہے۔ جس موضوع پہ بات کی جا رہی ہے اسی کے متعلق مختصر اور جامع بات کی جائے، جہاں سوال گندم جواب چنا جیسا حساب ہو وہیں مقابل بیزاری محسوس کرنے لگتا ہے۔

ایک بہت عام سی عادت یہ بن چکی ہے کہ یہاں ایک آدمی اپنی یا اپنے کسی بچے کی کامیابی یا خوبی کا ذکر کرتا ہے کہ اگلا فوراً اپنی یا اپنے بچے کی کہانی لے کے بیٹھ جاتا ہے جو کہ کافی نا مناسب ہے۔ اس سے نا صرف بات کرنے والا نا گوار محسوس کرتا ہے بلکہ اس سے مقابلے بازی کی فضا بھی قائم ہو جاتی ہے۔

اکثر لوگ جب کسی مریض کی عیادت کے لئے جاتے ہیں تو تھنکنگ کیپ پہننا بھول جاتے ہیں تو بجائے اس کے کہ مریض کی دلجوئی کریں یا ہمت بڑھائیں اس کے سامنے اسی بیماری سے انتقال کر جانے والوں کا بڑے آرام سے ذکر کرتے ہیں جو کہ افسوسناک ہونے کے ساتھ ساتھ سخت احمقانہ بھی ہے۔

خدانخواستہ کسی کا انتقال ہو جائے تو پھر یہ سوچ اور فہم کی ٹوپی گھر رہ جاتی ہے اور لوگ اہل خانہ سے رخصت ہو جانے والے کے متعلق ایسے عجیب عجیب سوال کرتے ہیں جو کہ حیرت انگیز ہونے کے ساتھ ساتھ شدید دل آزاری کا باعث بھی ہوتا ہے۔

خواتین اکثر جب کسی غیر شادی شدہ لڑکی سے اس کا رشتہ نہ ہونے کے متعلق اور شادی شدہ سے خوش خبری کے متعلق سوال کرتی ہیں تو یقیناً ان کی تھنکنگ کیپ گم چکی ہوتی ہے۔

ایک بہت بری عادت معاشرے میں یہ سرایت کرتی جا رہی ہے کہ ہم گفتگو ایک دوسرے سے سیکھنے کے لیے نہیں کرتے بلکہ اپنی بات منوانے اور اپنی برتری ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں، جب سے سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس آئے ہیں اسی چیز نے میسیجز کا روپ ڈھال لیا ہے اور لوگ ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنی بات کی تائید میں فارورڈڈ ویڈیوز اور میسیجز کا ڈھیر لگا دیتے ہیں نتیجتاً موضوع تو کہیں پیچھے رہ جاتا ہے اور اختتام ایک دوسرے سے اختلاف، غصہ اور نفرت کی صورت نکلتا ہے۔

تھنکنگ کیپ نے گفتگو کے کیا کیا تانے بانے بن لیے۔

میری نظر یحییٰ کے پروجیکٹ پہ پڑی جہاں رنگ بڑی خوبصورتی سے سفر کرتے ہوئے ایک دوسرے میں شامل ہو رہے تھے۔ شاید سلجھی ہوئی بات کرنا اور سلیقے سے بات چیت میں شامل ہونا بھی گفتگو کو خوبصورت بنا کے سوچ کے رنگوں کو ایسے ہی ایک دوسرے میں ضم کر دیتا ہے بس تھوڑا سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟

qrf
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *