امریکہ کی تاریخ میں جنسی استحصال کا بدترین واقعہ اور اس کے نتائج


سیریل کلر (تواتر سے قتل کرنے والا) کی اصطلاح سے تو آپ آشنا ہوں گے ہی لیکن آج ایک ایسے شخص سے بھی واقف ہوں کہ جو بظاہر ایک مہربان، مقبول اور قابل عزت ڈاکٹر کی شہرت رکھتا تھا لیکن اس شخص کا اصل چہرہ بہت کریہہ تھا۔ اس کا نام ہے لیری نصر۔ جس کی شہرت امریکہ کی جمناسٹک ٹیم کے سب سے مستند اور معتبر ڈاکٹر کی تھی۔ اس کا کام اولمپک جمناسٹک ٹیم میں حصہ لینے والی بچیوں کو جسمانی طور پہ فٹ رکھنا اور چوٹ لگنے کی صورت میں ان کے جسمانی درد کا علاج کرنا تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس نے جو ”ٹریٹمنٹ“ کے نام پہ ان کمسن بچیوں ساتھ کیا اس نے ان بچیوں کی روح کو عمر بھر کے لیے زخمی کر دیا۔

ڈاکٹر لیری نصر نے 1985 میں یونیورسٹی آف مشیگن سے گریجویٹ کرنے کے بعد امریکہ کی جمناسٹک قومی ٹیم میں بطور میڈیکل اسٹاف ملازمت اختیار کی۔ پھر 1997 میں اس نے مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کی فزیشن ٹیم کو بھی جوائن کر لیا۔ وہ یو ایس جمناسٹک ٹیم کے چار گیمز میں باقاعدگی سے جمناسٹ کی مدد کرتا رہا۔ اس کی چارمنگ شخصیت کو دیوتا کی حیثیت حاصل تھی۔ اپنے بچوں کا علاج ڈاکٹر لیری سے کروانے والے والدین اسے اپنا بہت بڑا اعزاز سمجھتے تھے۔

تین دہائیوں پہ مبنی ملازمت کے دوران لیری مسلسل معصوم کمسن بچیوں اور نوجوان طالبات کا جنسی استحصال کرتا رہا۔ یہ وہ بچیاں تھیں کہ جو اولمپک کھیلوں میں امریکہ کی نمائندگی کرتیں اور میڈل جیت کے لاتیں۔ وکٹری اسٹینڈ پہ میڈل اٹھائے، بظاہر مسکراتے چہروں اور درحقیقت مجروح روحوں کے ساتھ کھڑی نوعمر بچیوں نے کسی کو بمشکل ہی بتایا کہ لیری علاج کے بہانے ان کے ساتھ کیا کرتا رہا ہے۔ جسمانی درد میں مبتلا بچیوں کو پورا ننگا کر کے، ایک ہاتھ سے مساج کرتے ہوئے اس کے دوسرے ہاتھ کی بغیر دستانے کی انگلیاں ان حصوں تک پہنچتیں جو علاج نہیں جنسی عمل کے زمرے میں آتا۔

لیری ان بچیوں کو یقین دلاتا کہ وہ ان کا دوست اور ہمدرد ہے اور یہ سب علاج کا حصہ ہے۔ وہ ان کو قیمتی تحفے دیتا اور من پسند کھانے بھی کھلاتا۔ یہ بچیاں جو تربیتی کیمپس میں اکثر اپنے والدین سے دور ہوتی تھیں۔ وہ جانتا تھا کہ کم عمر بچیاں اس کے اس گھناؤنے کھیل کو سمجھنے اور اس کے خلاف احتجاج کرنے سے قاصر ہیں۔ اور اگر کسی نے کچھ کہا بھی تو بچیوں کی بات کا تو ان کے والدین بھی یقین نہیں کریں گے۔ کیونکہ لیری ان سے بہترین اور با اعتماد تعلقات رکھتا تاکہ اس کے جرم پہ پردہ پڑا رہے۔ لیکن آخر کب تک یہ راز رہتا۔

اس کے گھناؤنے جنسی جرم پرسے پہلی بار سابق جمناسٹ ریچل ڈین ہولینڈر نے 2016 میں پردہ اٹھایا۔ ہونے والی زیادتی کے واقعات کے سولہ سال بعد اب وہ کمسن خوفزدہ لڑکی نہیں بلکہ ایک وکیل، انسانی حقوق کی داعی اور چار بچوں کی ماں تھی۔ 2000 میں پندرہ سالہ جمناسٹ ریچل ڈاکٹر لیری کے پاس فزیکل تھرپی کے لیے ایک سال تک جاتی رہی۔ جو اپنی کلینک میں اس پر چادر ڈال کر اس کا جنسی استحصال اس کی ماں کی موجودگی میں اس کی آڑ میں کھڑے ہو کر اس طرح کرتا کہ اس کی انگلیوں کی حرکت کا پتا ہی نہیں چلتا۔

ریچل نے اس جنسی استحصال کا انکشاف پہلے اخبار ”اینڈی اسٹار“ میں آرٹیکل لکھ کر اور پھر پولیس میں کیس فائل کر کے کیا اور پھر اس کے بعد ہی لیری کے جنسی تشدد کی شکار، عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی لڑکیاں اپنے ساتھ بیتے گھناؤنے اور تکلیف دہ واقعات کے ساتھ سامنے آئیں۔ مسلسل سات دن تک ایک سو چھپن لڑکیوں نے مشی گن کی عدالت میں جج روز میری کے سامنے بیان دیے۔ لیری مجرموں کے کٹہرے میں ایک کے بعد ایک آنے والی لڑکیوں سے اپنے ان بھیانک، خفیہ جنسی جرائم کی تفصیل سنتا رہا کہ جو اب پوری دنیا کے سامنے آشکار ہو رہے تھے۔ بالآخیر سالوں کی خاموشی کو زبان ملی تھی۔

سب سے پہلے اپنی کہانی سنانے والی کیلا اسٹیفنس نے بتایا کہ لیری نے اس کا جنسی استحصال پہلی بار چھ سال کی عمر میں اس وقت کیا جب وہ کے جی میں پڑھتی تھی۔ جب کیلا نے اپنے والدین کو بتایا تو انہوں نے اس پر یقین کرنے کے بجائے الٹا لیری سے معافی منگوائی کیونکہ لیری ان کا قابل اعتماد اور مہربان دوست اور ملک کا سب سے مانا ہوا ڈاکٹر تھا۔ اس نے لیری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔

”تم نے میرے جسم کو چھ سال تک اپنی جنسی تسکین کے لیے استعمال کیا۔ جب میرے دودھ کے دانت بھی نہیں ٹوٹے تھے۔ شاید اب تمھیں سمجھ میں آ گیا ہو کہ کمسن بچیاں ہمیشہ چھوٹی نہیں رہتیں وہ بڑھ کر مضبوط عورتیں ہوجاتی ہیں اور پھر پلٹ کر تمھاری دنیا کو مسمار کر سکتی ہیں۔“

جب کیلا کے والد کو اس کی سچائی کا ثبوت ملا تو انہوں نے 2016 میں اس ندامت سے خودکشی کرلی کہ انہوں نے اپنی بیٹی کی بات کا اس وقت یقین کیوں نہیں کیا تھا۔

کیلا کے بعد یکے بعد دیگرے آنے والی لڑکیوں نے بھی بہتے آنسوؤں اور غم و غصہ کے ساتھ اپنے پہ ہونے والے جنسی استحصال کے نتائج بتائے۔ جیسیکا تھامشو نے کہا ”پی ٹی ایس ڈی کی وجہ سے مجھے مردانہ ہاتھوں سے ایک خوف پیدا ہو گیا تھا۔ اس خوف نے مجھے بدل کے رکھ دیا۔ میں کسی لڑکے کا ہاتھ نہیں چھونا چاہتی اور مرد دوستوں کے قریب نہیں جاتی۔ جنسی استحصال کے ہاتھوں میں نے اپنے بچپن کا بڑا حصہ کھو دیا۔“

2000 میں اولمپکس مقابلہ میں برونز میڈل لینے والی جینی نے بتایا کہ وہ کس طرح انوروکزیا Anorexia، بلیمیا Bulimia اور ڈپریشن میں مبتلا رہی۔ اور خودکشی کی کوشش کے نتیجہ میں ہسپتال میں داخل ہوئی۔ ”مجھے نہیں پتہ تھا کہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ میں اپنی کامیابیوں پہ کیوں فخر نہیں محسوس کرتی تھی۔ میری خود اعتمادی صفر تھی۔“

لندن اولمپکس میں اپنی جمناسٹک ٹیم کو گولڈ میڈل دلانے والی میکیلا مورونی کے مطابق وہ اس کی زندگی کی سب سے خوفناک رات تھی جب وہ ٹوکیو سے لمبی فلائیٹ لے کر اولمپکس مقابلہ کے لیے لندن پہنچی۔ لیری نے اسے جہاز میں ہی نیند کی گولی دے دی اور پھر جب آدھی رات کو اس کی آنکھ کھلی تو وہ لیری کے ساتھ اکیلے کمرے میں تھی۔ ”رات بھر وہ مجھے“ ٹریٹمنٹ ”دیتا رہا۔ مجھے لگا میں اس رات مرجاؤں گی۔ اس نے میرے اعتماد کا، میرے جسم کا استحصال کیا اور میری نفسیات پہ جو نشان چھوڑے ہیں وہ کبھی نہیں جائیں گے۔“ اس وقت اس کی عمر پندرہ سال تھی۔

عدالت میں لیری کی زیادتی کی شکار چیلسی کی ماں ڈونا مارکھم نے بتایا کہ کس طرح اس کی بیٹی نے لیری کے جنسی استحصال کی وجہ سے جمناسٹک کو تیرہ برس کی عمر میں چھوڑ دیا اور پھر منشیات میں پڑ جانے کے بعد وہ کبھی بھی پنپ نہ سکی۔ 2009 میں اپنے دکھ سے نجات پانے کے لیے اس نے خودکشی کرلی۔ اس کی عمر صرف تئیس برس تھی۔ ”میں ہر روز اسے یاد کر کے روتی ہوں۔“ اس کی ماں نے سسکیوں کے درمیان کہا۔

ان سبھوں میں سب سے کم عمر اٹھارہ سالہ میڈکلین جونز نے بتایا کہ وہ تیرہ سال سے جمناسٹ ہے۔ لیری کے ساتھ اپنے ہر اپوائنٹمنٹ سے پہلے وہ باتھ روم میں جاکر روتی اور علاج کے بعد جلد از جلد گھر جاکر نہانا چاہتی تھی۔ لیکن جتنا بھی نہاتی اسے لگتا گندگی صاف نہیں ہو رہی۔ اس نے لیری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ”تم میری ماں سے عیسائیت کی باتیں کرتے ہوئے میرے ساتھ جنسی زیادتی کر رہے ہوتے تھے۔ تم نے مجھ سے میری طاقت، میری خود وقعتی، میری جذباتی نشوونما، خوشیاں اور معصومیت کو چھین لیا۔“

آج تک کی تاریخ میں لیری کے خلاف شہادت دینے والی لڑکیوں کی تعداد پانچ سو تک پہنچ گئی ہے۔ 24 جنوری 2018 کو ججروز میری نے لیری نصر کو اس کے جرائم کی بنیاد پہ چالیس سے ایک سو پچھتر سال کی سزا سنائی۔ جنسی زیادتی کے جرم کے علاوہ اس پرچائلڈ پورنو گرافی کا جرم بھی ثابت ہوا۔ اس کے کمپیوٹر سے 37 ہزار بچوں کی تصاویر نکلیں۔ شکر ہے۔ اس دوران چلنے والی ”می ٹو“ تحریک کا جس نے خاموشی سے اپنا دکھ پالنے والوں کو آواز دی۔

آخر اس کریہہ جرم کے خلاف انصاف میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟

ایسا نہیں ہے کہ لیری کی شکایت پہلی بار ریچل نے ہی کی تھی۔ اس سے پہلے لیری کی کچھ شکایات 1998 میں ہوئیں۔ اور پھر 2014 میں شیگن اسٹیٹ یونیورسٹی کی ایک نوجوان طالبہ امینڈا تھامشاؤ نے بھی جو علاج کی غرض سے لیری کے پاس گئی تھی، اس کے رویے کی یونیورسٹی کی انتظامیہ کو شکایت کی تھی لیکن اس کو یہ کہہ کر نظرانداز کیا اور آواز بند کرا دی گئی کہ وہ جنسی زیادتی اور میڈیکل طریقہ کار کے درمیان فرق نہیں سمجھتی۔

اس سلسلے میں تحقیقاتی رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ شکایات کے خلاف عمل اس لیے بھی نہیں کیا گیا کہ جمناسٹک اور یو ایس اولمپکس کمیٹی اپنے اسپانسرز کو خوفزدہ اور اولمپکس میڈلز کے حصول کو خدشہ میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔ لہٰذا اس کو چھپانا ہی بہتر سمجھا گیا۔ اس طرح ان میڈلز کو ملک کی معصوم بچیوں کی طبعی، اور نفسیاتی صحت پہ ترجیح دی گئی۔ جو ایک شرمناک اور ناقابل معافی جرم ہے اور اس کی ذمہ داری بہت سے صاحب اختیار افراد کے سر جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان اداروں کے بورڈز کے علموں کو مستعفی ہونا پڑا۔

اس واقعہ سے چند اہم سبق سیکھے جا سکتے ہیں۔
1۔ بچوں کی باتوں کو نظر انداز نہ کیا جائے۔

2۔ جنسی مجرم کوئی بھی ہو سکتا ہے وہ بھی جو بظاہر با اعتماد، ہمدرد اور خیال رکھنے والا دوست ہو۔ اکثریت ہمارے جاننے والوں کی ہوتی ہے۔

3۔ بچوں کی جنسی زیادتی کی رپورٹنگ کا طریقہ کار بہتر ہو اور اس کی پوری تحقیقات ہو۔

4۔ بچوں کو سکھایا جائے کہ وہ فوری طور پہ بتائیں۔ خواہ وہ کتنا ہی مہربان دوست نظر آ رہا ہو اور اس وقت تک اپنی بات کہتے رہیں جب تک کوئی انہیں سنے اور مدد نہ کرے۔

5۔ پولیس کی انتظامیہ ان واقعات کے خلاف قانونی طور عمل درآمد کروائے۔

6۔ تحقیقی صحافت بہت اہم ہے۔ اس واقعہ کی تشہیر اور اس کو انجام تک پہنچانے میں انڈیانا پولیس کے اخبار اینڈی اسٹار کا کلیدی کردار رہا ہے۔

7۔ ”می ٹو“ جیسی تحریک کے کردار کو اہم سمجھا جائے۔

یاد رکھیے جرم کو چھپانا آسان ہے لیکن اس کو آشکار کرنا اور انصاف حاصل کرنا مشکل لیکن یہی انسانیت کا اصل فریضہ بھی ہے۔

Facebook Comments HS