دہلی میں کورونا نے اتنی تباہی کیوں مچائی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کل ایک دوست سے ہندوستان میں جاری کورونا کی دوسری لہر کی تباہ کاریوں پر بات ہو رہی تھی تو میں نے اس سے کہا کہ، اس ساری صورتحال پر میرا دل بہت اداس ہے، خاص طور پر دلی کے ایسے اجڑنے نے تو بہت ہی رنجیدہ کر دیا ہے۔ تو اس نے کہا کہ اس وبا نے تو پوری دنیا کو ہی اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اور کتنے ہی لوگوں کو اس کی وجہ سے جان سے جانا پڑ رہا ہے تو پھر دلی کے حال پر ہی زیادہ اداسی کیوں؟ میں نے کہا کہ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہاں سے کچھ دور ہی وہ علاقہ ہے جہاں میرے آبا و اجداد رہتے رہے۔ اس لیے شاید دلی کے ساتھ ایک خاص لگاؤ سا ہے۔

دوسرا وہاں میری ایک بہت اچھی دوست رہتی ہے۔ بہت عرصہ سے میری بڑی خواہش تھی کہ وہاں سے کوئی دوست بن جائے جس کے توسط سے میں وہاں سے جڑ جاؤں۔ تو پچھلے برس میری یہ خواہش ایشوتی جے پرکاش جیسی پیاری دوست کی صورت میں پوری ہوئی۔ ایشوتی، دلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے ساؤتھ ایشین سٹڈیز میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ ان سے سیاست، سماج، تاریخ، ادب اور حالات حاضرہ پر متعدد بار سیر حاصل گفتگو ہوتی رہی۔ بلکہ کئی بار تو یہ گفتگو گھنٹوں پر بھی محیط ہوجاتی تھی اور وقت کے گزرنے کا احساس بھی نہیں ہوتا تھا۔ مگر کچھ عرصہ سے ایشوتی سے میرا کوئی رابطہ نہیں ہو پایا تھا، اس کی ایک وجہ اس کا اپنی پڑھائی میں مصروف ہونا تھا۔

لیکن جب کورونا کی اس دوسری لہر نے دلی کو اپنی لپیٹ میں لیا تو مجھے سب سے پہلے ایشوتی کا خیال آیا۔ میں نے اس سے رابطہ کرنے کی بھرپور کوشش کی مگر مجھے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ پریشانی کے اس عالم میں اس کے لئے پیغامات چھوڑ دیے تھے۔ دوست نے مجھے تسلی دی کہ وہ ٹھیک ہوگی اور جلد ہی اس کا جواب آ جائے گا۔ میں نے اس کی بات پر ہاں تو کہہ دیا لیکن دل میں ایک عجیب اور انجانا سا خوف تھا جس کی وجہ آئے روز دلی سے آنے والی خوف ناک خبریں تھیں۔ پر وہ کہتے ہیں ناں کہ کبھی کبھی کسی کی کہی ہوئی بات فوراً پوری ہوجاتی ہے اور ایسا ہی کچھ ایشوتی کے معاملے میں ہوا۔

آج صبح ہی اس نے میرے پیغامات دیکھے اور اس سے میری بات ہو گئی۔ اس نے سب سے پہلے تو میرا شکریہ ادا کیا اور پھر بتایا کہ وہ تو ٹھیک ہے مگر اس کے آس پاس قیامت سے کم مناظر نہیں ہیں۔ اس نے اپنی پوری زندگی میں ایسی تباہی نہیں دیکھی۔ اس کی فیملی اور حلقہ احباب میں روز اتنے لوگوں کی اموات ہو رہی ہیں کہ جس کی وجہ سے وہ اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ کیونکہ اس کی ہمت ہی جواب دے گئی ہے۔ ایشوتی نے بتایا کہ وہ دلی کے جس علاقے میں رہتی ہے وہاں پر تین شمشان گھاٹ ہیں ان میں جگہ کم پڑنے سے مزید نئے شمشان گھاٹ بنانے پڑے ہیں۔ وہاں پر ہر وقت جاری آخری رسومات کی وجہ سے فضاء میں ایک عجیب سی مہک رچ بس گئی ہے۔

یہی حال قبرستانوں کا ہے۔ وہاں پر بھی میتیں دفنانے کے لئے جگہ کم پڑ گئی ہے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ یہ سب اچانک کیسے ہوا؟ تو اس نے بتایا کہ ہم تو بہت سکون میں تھے کہ کیسز کم ہو رہے ہیں، ویکسین کے آ جانے سے بھی ہمیں یہی لگ رہا تھا کہ آنے والے وقت میں صورتحال مزید بہتر ہو جائے گی۔ مگر حکومت کی نا اہلی اور عوام کی لاپرواہی کی وجہ سے ایسے لگا کہ جیسے ایک آفت اس شہر پر ٹوٹ پڑی ہے۔ کیونکہ مودی سرکار نے ویکسین پر تو بھرپور توجہ دی لیکن آکسیجن کی فراہمی پر کوئی توجہ نہ دے سکی۔ آکسیجن بنانے کے لئے جتنے کارخانے لگانے کی منظوری دی گئی تھی وہ لگائے ہی نہیں گئے۔ خاص طور پر دلی میں تو اس پر بالکل عمل درآمد نہ ہوا۔

یہی وجہ ہے جب ہسپتالوں میں آکسیجن کی کمی ہوئی تو لوگوں کے پیارے ان کے سامنے دم توڑتے رہے۔ دوسرا حکومت کے بار بار کہنے کے باوجود بھی عوام نے حفاظتی تدابیر کو بالکل بھی نہیں اپنایا۔ اور یہاں تک کہ اب بھی اس خوف ناک صورت حال میں بھی کئی لوگ احتیاط سے کام نہیں لے رہے ہیں۔ پھر ان حالات میں حکومت کا کنبھ میلے کی اجازت دینا بہت غلط فیصلہ تھا کیونکہ 10 مارچ سے 11 اپریل کے درمیان ایک اندازے کے مطابق 24 لاکھ لوگوں نے اس میلے میں حصہ لیا۔ اور جب وہ اپنے اپنے علاقوں میں واپس گئے تو کورونا کے کیسز میں اضافے کا باعث بن گئے۔ یہی وجہ ہے کہ اب کورونا بڑے شہروں سے چھوٹے شہروں میں بھی پھیل رہا ہے۔

ایشوتی کے مطابق آکسیجن کی فراہمی کے حوالے سے تو اب صورتحال کافی بہتر ہو گئی ہے لیکن پھر بھی اموات میں کمی نہیں آ رہی۔ جو بھی اعداد و شمار محکمہ صحت کی طرف سے جاری کیے جا رہے ہیں۔ اموات کی تعداد ان سے زیادہ ہے کیونکہ وہ صرف ہسپتالوں سے ہی سارا ڈیٹا حاصل کر رہے ہیں مگر جن لوگوں کی گھروں میں اموات ہو رہی ہیں وہ اس میں شامل نہیں ہیں اور وہ بھی کم تعداد میں نہیں ہیں۔ ایشوتی کو بالی وڈ کے کچھ اداکاروں اور امیر لوگوں پر بھی غصہ تھا جو اس مشکل صورتحال میں اپنے ملک سے باہر چلے گئے اور وہاں پر لطف اندوز ہوتے ہوئے پائے گئے۔

اس کے ساتھ اس نے ملک میں جاری انڈین پریمیئر لیگ کے منتظمین پر بھی کڑی تنقید کی کہ کس طرح ایک طرف روزانہ ہزاروں لوگ موت کے منہ میں جا رہے اور وہ اس کے باوجود پیسے کی وجہ سے کرکٹ کا ٹورنامنٹ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسے تو غالباً کھلاڑیوں میں کورونا کے کیسز کے باعث ابھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ایشوتی نے یہ بھی بتایا کہ اس ساری مشکل صورتحال میں کچھ اچھی چیزیں بھی نظر آئی ہیں۔ مثلاً دلی میں امیر اور غریب کا فرق ختم ہو گیا ہے۔ اور وہاں کے وہ بڑے بڑے پرائیویٹ ہسپتال جو عام طور پر علاج کے لئے لاکھوں روپے لیتے تھے اور جہاں عام آدمی جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا وہاں اب امیر لوگوں کے ساتھ ان عام لوگوں کا بھی علاج ہو رہا ہے۔

اسی طرح اس نے بتایا کہ وبا کی اس بدترین لہر نے ذات، پات، مذہب کی اہمیت کو بھی کافی حد تک کم کر دیا ہے۔ دلی میں کہیں پر ہندوؤں کی آخری رسمیں مسلمانوں نے ادا کی ہیں۔ اور کہیں پر مسلمانوں کو ہندوؤں نے دفنایا ہے۔ یہی حال بیمار لوگوں کو ہسپتالوں میں منتقل کرنے کا ہے۔ ابھی بس جان بچانے کی فکر کی جا رہی ہے۔ یہ نہیں دیکھا جا رہا کہ وہ برہمن ہے، دلت ہے، عیسائی ہے یا مسلمان۔ ایشوتی نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس وبا کے بعد بھی کاش لوگوں کا آپس میں رویہ ایسے صرف انسانیت کی بنیاد پر ہی ہو۔ میں نے اسے کہا کہ اگر ایسا تو ہو جائے تو واقعی کتنا اچھا ہو۔

ایشوتی نے مجھے کہا کہ کورونا کی اس وبا سے بچنے کا بس ایک ہی طریقہ ہے کہ احتیاط کی جائے اس لیے ہمیں مکمل احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہیے ورنہ لوگوں کی لا پرواہی اور حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے جس قیامت صغریٰ سے وہ گزر رہے، خدا نہ کرے اس کا سامنا ہمیں بھی کرنا پڑے۔ میں نے کہا کہ اس معاملے میں تو ہم بھی ان جیسے ہی ہیں، یہاں پر بھی حکومت نا اہل ہے اور عوام لاپروا اور شعور سے عاری تو بس یہ امید ہی جا سکتی ہے کہ ایسا کچھ یہاں پر نہ ہو۔ اس کے ساتھ میں نے اپنی دوست سے یہ کہتے ہوئی اجازت چاہی، کہ وہ بالکل بھی پریشان نہ ہو، میں اور میرے جیسے کئی پاکستانی، مشکل کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ ہیں اور مولا سے دعاگو بھی ہیں کہ پورے ہندوستان اور خاص طور پر پیارے دلی کی خیر ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *