پنجاب حکومت راولپنڈی رنگ روڈ کی منظوری اور منسوخی پر ابہام دور کرے
راولپنڈی رنگ روڈ کے تیزرفتار کام میں تعطل سے مایوسی اور بے یقینی پھیل رہی ہے۔ بالخصوص کاروباری طبقہ کو شدید دھچکا لگا ہے جو اندرون شہر سے کاروبار کو رنگ روڈ پر شفٹ کرنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ دوسری طرف رنگ روڈ متاثرین ہیں۔ جن کی زمین و جائیداد منصوبہ کی زد میں آ چکی ہیں مگر معاوضہ جات نہیں ملے ہیں۔ ان میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے کہ زمین و جائیداد بھی گئی اور معاوضہ بھی نہیں ملا ہے۔ اب یہ منصوبہ کھٹائی میں پڑا ہے۔
دوبارہ کب شروع ہوگا۔ کتنی تاخیر سے پھر شروع ہوتا ہے۔ کیا ہوگا۔ کوئی خبر نہیں ہے۔ متاثرین جو منصوبہ کے اسٹیک ہولڈر ہیں۔ انتظامیہ کسی بھی معاملے میں اعتماد میں لیتی ہے اور نہ پوچھنے پر بھی کچھ بتاتی ہے۔ مکمل اندھیرے میں رکھا جاتا ہے۔ وزیر اعظم نے جس حدبندی اور نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو فائدہ پہنچائے جانے کا نوٹس لیا اور تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس میں متاثرین کی نمائندگی ضروری تھی۔ مگر انتظامیہ متاثرین سے تعاون کرنے پر بالکل تیار نہیں ہے۔ گزشتہ دنوں متاثرین کے وفد نے کمشنر راولپنڈی سے ملاقات کر کے منصوبے پر اپ ڈیٹ اور دیگر امور پر بات کی مگر کمشنر نے ٹال مٹول سے کام لیا۔ متاثرین کو کمشنر کے رویے سے شدید مایوسی ہوئی ہے۔
متاثرین سمیت رنگ روڈ منصوبہ کے ساتھ مختلف جہتوں میں کام کرنے والے شش و پنج میں ہیں کہ منصوبے کو کس قدر اونچائی پر لے جا کر اچانک سے گرایا گیا ہے۔ اگر کوئی معاملہ ہے۔ جیسا کہ بتایا جا رہا ہے۔ اس پر کوئی پریس کانفرنس، کوئی پریس ریلیز جاری نہیں کی گئی ہے۔ انکوائری کمیٹی کا کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔ وزیراعظم، وزیراعلیٰ، کمشنر، چیئرمین آر ڈی اے یا کسی فوکل پرسن کا کوئی پالیسی بیان نہیں ہے۔ محض اک خبر ہے اور اس کے بعد خاموشی ہے۔
راولپنڈی رنگ منصوبہ عوامی نوعیت اور انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ میگا پراجیکٹ ہے۔ جس پر سابق کمشنر کیپٹن (ر) محمد محمود نے فاسٹ ٹریک پالیسی کے تحت کام کیا تھا۔ روزانہ کی بنیاد پر اپ ڈیٹ دی جاتی تھی۔ میڈیا پر منصوبہ کی اہمیت اور افادیت سے آگاہ کیا جاتا رہا ہے۔ متاثرین سے مذاکرات سمیت دیگر اسٹیک ہولڈر سے بات چیت کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ رنگ روڈ کوارڈینیشن کمیٹی اور رنگ روڈ متاثرین ایکشن کمیٹی سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر کے ساتھ رابطے میں تھیں۔ علاوہ ازیں منصوبہ کے حوالے سے بے شمار سرگرمیاں جاری تھی کہ اچانک سب کچھ ٹھپ کر دیا گیا ہے۔
عوامی نوعیت کے منصوبوں پر حکومت کا طرز عمل سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایسا کیوں کیا گیا ہے۔ باخبر ذرائع بتاتے ہیں کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ رنگ روڈ کی حدبندی یا نجی سوسائٹیوں کا معاملہ ہوتا تو کام جاری رکھتے ہوئے بھی تحقیقات کرائی جا سکتیں تھیں اور ایکشن لیا جاسکتا تھا۔ سب کچھ بند کرنے کی ضرورت بالکل نہیں تھی۔ اگر دال میں کچھ کالا نہ ہوتا تو ہر بات پبلک کی جاتی مگر ایسا نہیں کیا گیا ہے۔
خاموش اور پراسرار کارروائی سے لگتا ہے کہ منصوبہ پر حکومت من پسند لوگوں کا کنٹرول چاہتی ہے۔ راولپنڈی کے ایم پی ایز اور ایم این ایز سمیت بعض وزرا ابھی ناخوش تھے کہ ان کا کوئی عمل دخل ہی نہیں ہے۔ سب کچھ ایک کمشنر کے ہاتھ دے دیا گیا ہے۔ ادھر رنگ روڈ کوارڈینیشن کمیٹی اور عوامی سطح پر کہا جا رہا ہے کہ رنگ روڈ منصوبہ کسی کی صوابدید نہیں ہے۔ کسی کو ڈاکا زنی کی اجازت نہیں دیں گے۔ منصوبے کو متنازعہ بنانا سازش ہے۔
حکمران عوامی مفاد کے اس بڑے منصوبے کو متنازعہ بنانے سے باز رہے اور بلاتعطل کام جاری رکھا جائے۔ رنگ روڈ کمیٹی کے چیئرمین راجہ اعجاز کا کہنا ہے کہ منصوبہ پر ڈاکا زنی کی گئی تو مزاحمت کی جائے گی۔ ہم منصوبہ میں فریق ہیں۔ ہماری زمینوں اور جائیدادوں پر منصوبہ بن رہا ہے۔ اعتماد میں لئے بغیر فیصلے قبول نہیں کریں گے۔ حکمران عقل و دانش سے کام لیں۔
یہ امر بہت ضروری ہے کہ انتظامیہ منصوبہ کے فریقین، اسٹیک ہولڈر کو اعتماد میں لے اور بڈنگ منسوخی سمیت انکوائری کے محرکات کو پبلک کیا جائے تاکہ عوام میں پائے جانے والے ابہام اور شک و شبہات ختم ہو سکیں اور مزید غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں۔ پنجاب حکومت اور مقامی انتظامیہ ابہام دور کرے۔


