پرائیویٹ اساتذہ کا معاشی قتل عام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بدقسمتی سے ہم ایک ایسے سماج کا حصہ ہیں جہاں پر منصوبہ بندی نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور سماجی ڈھانچے کو مستقل بنیادوں پر قائم کرنے کی بجائے عارضی اور ڈنگ ٹپاو پالیسی کے تناظر میں چلانے پر ترجیح دی جاتی ہے، کڑے وقت میں کچھ قومیں نکھر جاتی ہیں اور کچھ بکھر جاتی ہیں وہی تہذیب یافتہ قومیں کہلاتی ہیں۔ یہ قومیں آزمائش کے دور کو بطور امتحان قبول کرتی ہیں اور اس مشکل وقت میں سے نکلنے کے لیے اپنی جی جان لگا دیتی ہیں۔

آپ کرونا پینڈیمک کو دیکھ لیجیے بہت سے ترقی یافتہ ممالک نے اس وبا کو کنٹرول کرنے میں کافی حد تک کامیابی حاصل کرلی ہے جبکہ دوسری طرف انڈیا اور پاکستان کو دیکھ لیجیے کہ کیسے اپنے لاپرواہی والے رویہ کی وجہ سے اس مہلک وبا کا شکار بن رہے ہیں، مذہبی رسومات کے حوالہ سے دونوں ممالک کی عوام ایک ہی صفحہ پر ہیں اور وہ کسی صورت میں بھی اپنی مذہبی رسومات ترک نہیں کر سکتے چاہے اس کے نتائج جیسے بھی برآمد ہوں اسی ہٹ دھرمی کی بدولت آج دونوں ممالک اس مہلک وبا کو یوں بھگت رہے ہیں۔

وطن عزیز پاکستان میں لاک ڈاؤن کی صورتحال میں بہت سے طبقات متاثر ہوتے ہیں ان میں سرفہرست دیہاڑی دار مزدور اور دوسرے نمبر پر پرائیویٹ اساتذہ کرام جو بے روزگار ہونے کی وجہ سے اپنے گھر کے سسٹم کو چلانے کے لیے پرائیویٹ تعلیمی اداروں اور خاص طور پر کوچنگ سینٹرز میں پڑھاتے ہیں لیکن ہر بار لاک ڈاؤن کی وجہ سے معاشرے کا یہ پڑھا لکھا طبقہ بہت متاثر ہوتا ہے، گورنمنٹ ملازم کی طرح ان کا تنخواہ کی صورت میں کوئی لگا بندھا سروائیونگ سسٹم نہیں ہوتا۔

پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے بند ہو جانے کی صورت میں یہ طبقہ ایک طرح سے بے روزگار ہوجاتا ہے۔ اپنی مدد آپ کے تحت معاشرتی ڈھانچے کے ساتھ قدم بہ قدم سروائیول کے لیے کوشاں یہ طبقہ لاک ڈاؤن کے دنوں میں ایک طرح سے معذور ہوجاتا ہے۔ معاشی کسمپرسی کے ہاتھوں مجبور ہو کر یہ طبقہ چھپ چھپا کر کسی دو کمرے کے مکان میں SOPsکے تحت بچوں کو پڑھانے کی کوشش کرتا ہے تو حکومت کی تنخواہ دار چھاپا بردار ٹیم آن پہنچتی ہے اور بے رحمانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے جرمانہ کرنے کے علاوہ اس کرائے کی اکیڈمی کو سیل کر دیتے ہیں، کڑوے حقائق کو جانے بغیر کے وہ ٹیچر بند اکیڈمی کا کرایہ کیسے ادا کرے گا اور جب ڈیڑھ دو ماہ کے بعد اکیڈمی دوبارہ کھلے گی تو وہ بے چارہ ٹیچر کرایہ کیسے ادا کرے گا؟

انہیں کیا معلوم کہ اسے دوبارہ سے اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کے لیے کتنا لمبا عرصہ درکار ہوگا؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان پرائیویٹ اساتذہ کی ضروریات نہیں ہوتیں؟ کیا ان کے بچے اور فیملی کے دیگر افراد نہیں ہوتے؟ کیا ان کو باوقار طریقے سے جینے کا حق نہیں ہے؟ کبھی سوچا کہ ایسے اساتذہ جو شوگر، بلڈپریشر جیسے موذی مرض کا شکار ہوں وہ ان دنوں میں اپنی ریگولر میڈیسن کا بندوبست کیسے کرتے ہوں گے؟ یہ باتیں انسانی بنیادوں پر سوچنے کی متقاضی ہیں ایک ہی جھٹکے میں پورے سسٹم کو بندھ کرنے سے مسائل بڑھتے ہیں کم نہیں ہوتے۔

ہماری حکومت کے پاس تو ہوم ورک کرنے کے لیے کافی وقت تھا مگر سارا وقت سیاست کی نذر کر دیا گیا۔ وبا سے مرنے کو حادثہ کہا جاتا ہے مگر بھوک سے مرنے کو کون سی اصطلاح سے نوازیں گے؟ ریاست پاکستان سے ایک مؤدبانہ گزارش ہے کہ ذرا غور سے سمجھنے کی کوشش کیجیے کہ سرکاری ادارے بند ہونے سے سرکاری ملازمین کو متواتر تنخواہ ملتی رہے گی مگر اپنی جنگ خود لڑنے والا ایک پرائیویٹ ٹیچر نجی ادارے بند ہونے کی وجہ سے کیسے سروائیو کر پائے گا؟

یہ ریاست کے کاندھوں پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ باقی رہی بازاروں کی صورتحال، عبادت گاہوں میں رش اور مذہبی رسومات پر بہت زیادہ ہجوم، کیا یہ ہمہ قسم کا ہجوم کرونا کو پھیلانے کا سبب نہیں بنتے؟ حالانکہ کہ تعلیمی اداروں میں SOPs پر زیادہ بہتر طریقے عملدرآمد ہوتا ہے نسبتاً دوسرے ہمہ قسم کے ہجوم سے۔ جیسے آپ نے دوسرے نظاموں کو چلانے کے لیے کچھ ایس او پیز بنائے ہیں تو خدا را پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے لیے ایس او پیز بنا کر ان اساتذہ کے جینے کا بھی سامان کر دیجیے۔ جب حکومتی ٹیم ان چھوٹے موٹے تعلیمی اداروں پر اچانک چھاپا مار کر اساتذہ کی تذلیل کرتی ہے اور ان کو دھمکی دے کر ادارہ بند کرنے کی کوشش کرتی ہے تو اس وقت اس ٹیچر پر کیا گزرتی ہے اس کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔ خدارا اس طبقے کا بھرم برقرار رہنے دیجیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *