EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

بے چاری ملنڈا گیٹس کا گھر ٹوٹ گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہائے بے چاری ملنڈا گیٹس کا گھر کتنی آسانی سے ٹوٹ گیا۔ اس کے ظالم شوہر بل گیٹس نے صرف ایک ٹویٹ کی اور ستائیس سال کی شادی ختم۔

ایسا نہیں ہوا۔ یہ ٹویٹ غصے میں نہیں لکھا گیا۔ یہ طلاق طلاق طلاق والا معاملہ نہیں۔ یہ فیصلہ انہوں نے بہت سوچ بچار اور بحث مباحثہ کے بعد کیا ہو گا۔ اور طلاق ابھی بھی ہوئی نہیں۔ ابھی صرف یہ فیصلہ ہوا ہے کہ وہ مزید اکٹھے نہیں رہنا چاہتے اور شادی کے رشتے کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اگر دھیان سے دیکھا جائے یہ پرامن طلاق کا فیصلہ مغربی معاشرے میں پائی جانے والی کچھ اہم خوبیوں کی وجہ سے ہوا ہے۔

ایک اہم خصوصیت تو مغربی معاشرے کی یہ ہے کہ اس نے عورت کو بھی انسان سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ اس بنیادی تبدیلی سے آگے کئی باتوں نے جنم لیا ہے۔

ایک اہم فرق تو یہ پڑا کہ عورت چونکہ ایک انسان ہے اس لیے آپ اسے بچے پیدا کرنے کی مشین کے طور پر استعمال نہیں کر سکتے ہیں۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ فیملی سائز چھوٹا ہو گیا۔ عورت کو بچے پیدا کرنے کے علاوہ بھی کام کرنے کے مواقع مل گئے۔ بچوں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے والدین کے پاس فی بچہ وسائل اور ٹائم زیادہ میسر آ گیا اور بچوں کی پرورش پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہونے لگی۔ زندگی میں فرصت، آسودگی اور خوشی کے امکانات بڑھ گئے۔ ہمارے ہاں انسانوں کے رش نے ایسا نہیں ہونے دیا۔

عورت کو انسان کا درجہ ملنے سے بیٹی کی پرورش میں بھی کیریئر کو اہمیت دی جانے لگی۔ اب وہاں بیٹی کی پرورش میں کیریئر بھی ایک اہم مقصد ہے۔ جب کہ ہمارے ہاں تو ابھی بھی سارا زور اس بات پر ہے کہ وہ بڑے ہو کر اچھی بیوی بنے۔ اور اگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئی تو مطلب اس کی زندگی ختم۔

وہاں پر بیٹی کو جہیز نہیں ملتا، بلکہ اسے تعلیم ملتی ہے اور جائیداد میں اس کا حصہ ملتا ہے۔ اس لیے عورت کو اگر طلاق لینی پڑتی ہے تو وہ بھائی یا باپ کے سہارے کے بغیر بھی رہ سکتی ہے۔ اس کو اپنی زندگی گزارنے کے لیے اپنی بھابی کی زندگی برباد کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

اس معاشرے میں یہ جان لیا گیا کہ انسانوں کے درمیان کشش اور محبت گناہ نہیں بلکہ ایک فطری جذبہ ہے۔ اور یہ بھی کہ محبت رنگ، نسل، مذہب اور جنس جیسے سوال نہیں پوچھتی۔ یہ بھی سمجھ لیا گیا کہ محبت جیسے دو انسانوں کے درمیان پیدا ہوتی ہے ویسے ہی ساری زندگی قائم بھی رہ سکتی ہے یا ختم بھی ہو سکتی ہے۔ اس پر کسی کو اختیار نہیں ہے۔ اس لیے جیسے محبت ہونے پر اکٹھا ہو جانا اچھا عمل ہے اور اسے شادی کہتے ہیں۔ بالکل اسی طرح محبت ختم ہونے پر الگ ہو جانا بھی اچھا عمل ہے اور اسے ہی طلاق کہتے ہیں۔ ہمارے ہاں بات بالکل مختلف ہے۔ ہم محبت جیسے جذبے کو خاطر میں ہی نہیں لاتے۔ شادی یا طلاق کا انحصار دو لوگوں کے ذاتی جذبات یا تعلقات پر کم ہی ہوتا ہے۔

طلاق عورت کے چہرے پر ایک بدنما داغ نہیں ہے۔ عورت کی زندگی طلاق پر ختم نہیں ہو جاتی چاہے وہ جس عمر میں بھی ہو اور جتنے بھی بچے پیدا کر چکی ہو۔ طلاق کی بنیاد پر اسے کوئی اچھا یا برا نہیں کہتا۔ طلاق کے بعد بھی وہ اپنی نئی زندگی شروع کر سکتی ہے اور پہلے جیسی یا اس سے بھی بہتر زندگی کے امکانات روشن ہوتے ہیں۔ مغربی معاشرے کی اس خصوصیت نے ان گھروں کے ٹوٹنے کی شرح یقیناً بڑھا دی ہے جو اپنے باسیوں کے لیے جنت کی بجائے جہنم بن جاتے ہیں۔

ایک اور فرق مغرب اور ہمارے معاشرے میں یہ ہے کہ وہاں لوگ اپی مرضی کی زندگی گزار کر خوش رہتے ہیں۔ والدین، رشتہ دار اور پڑوسی بھی آپ کی مدد اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ آپ اپنی مرضی کی زندگی گزاریں۔ ویسے خوش رہیں جیسے آپ چاہتے ہیں۔ ہمارے ہاں ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے (بلکہ والدین بھی) ایسے خوش رہیں جیسے ہم چاہتے ہیں نہ کہ جیسے وہ چاہتے ہیں۔ وہاں دوسروں کی ذاتی زندگی میں دخل دینا نامناسب سمجھا جاتا ہے اس لیے انہیں یہ نہیں سوچنا پڑتا کہ ”لوگ کیا کہیں گے“ ۔

مغرب میں لوگوں کو اپنی عزت نفس کا بھی بہت خیال ہوتا ہے۔ وہ نہ تو کسی کی عزت نفس پر حملہ کرتے ہیں اور نہ اپنی عزت نفس پر حملہ برداشت کرتے ہیں۔ یہاں غربت اور بے بسی کی وجہ سے بہت بھاری آبادی ہر وقت اپنی عزت نفس پر حملے برداشت کرتی ہے۔ مثلاً یہاں اپنے باس کی جانب سے پلائی گئی ڈانٹ کو برداشت کرنا بہت عام ہے۔ نوکری کی خاطر ہم اپنے بے عزتی برداشت کرتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ اس طرح عورت بھی اپنے شوہر یا سسرال کے باقی لوگوں کی جانب سے کی گئی بے عزتی اور ڈانٹ کو برداشت کرتی ہے اور اپنے ”گھر“ کو ٹوٹنے سے بچاتی ہے۔ مغرب میں آپ جاب پر بھی اپنی بے عزتی برداشت نہیں کرتے۔ اگر باس نے آپ کو ڈانٹا یا آپ کی عزت نفس پر حملہ کیا ہے تو آپ اس نوکری کو لات مار کر چلے جائیں گے۔ یہاں اس بات کے امکانات بہت کم ہیں۔ یہی صورت حال شادی کی ہے، بے عزتی کے باوجود توڑنی ناممکن ہے۔

یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ طلاق کوئی پرابلم نہیں بلکہ ایک گمبھیر مسئلے کا حل ہے۔ جب دو لوگ ایک ساتھ رہتے ہوئے اچھا محسوس کرنے کی بجائے برا اور مشکل محسوس کر رہے ہوں۔ ایک دوسرے کی باتیں اچھی نہ لگ رہی ہوں۔ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے یا بات کرنے میں مزا آنے کی بجائے کوفت ہو رہی ہو تو آپ کو اس عذاب کو جاری رکھنے کی ضرورت نہیں ہونا چاہیے۔ طلاق ایک اچھی آپشن ہے۔ یہ آپ کو اس عذاب سے چھٹکارا دلاتی ہے۔

مجھے یقین ہے کہ آپ ملنڈا کا گھر ٹوٹنے پر اتنے پریشان نہیں ہیں۔ ہمارے کلچر میں بھی یہ تبدیلی آئے گی جب لوگ محض محبت کی وجہ سے اکٹھے ہو سکیں گے اور محبت ختم ہونے کے احساس پر پرامن طریقے سے الگ بھی ہو سکیں گے۔ اس تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ بننے والوں کو تاریخ اچھے الفاظ میں یاد نہیں کرے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 277 posts and counting.See all posts by salim-malik

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے