ادارہ جاتی ٹکراو کی پالیسی


پاکستان کی سیاست ہمیشہ ہنگاموں کی سیاست کا شکار رہتی ہے۔ یعنی محاذ آرائی کو بنیاد بنا کر ہم استحکام پر مبنی سیاست کو جاری رکھنے یا اسے ہر سطح پر مضبوط پالیسی بنانے کی سوچ سے گریز کرتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سیاسی، انتظامی، ریاستی، قانونی اداروں کے درمیان ہمیں بہت زیادہ اعتماد کی فضا دیکھنے کو نہیں ملتی۔ عمومی طور پر اعتماد سازی کا یہ بحران مسائل کو کم کرنے کی بجائے اس میں اور زیادہ اضافہ کرنے کا سبب بنتا ہے۔ جمہوریت کی بنیادی کامیابی افراد کے مقابلے میں ادارہ جاتی استحکام یا قانون یا اداروں کی بالادستی سے جڑی ہوتی ہے۔ جہاں ادارہ جاتی استحکام کمزور نظر آئے گا وہاں قانون یا اداروں کی حکمرانی کی بجائے افراد کی سوچ یا فکر بالادست ہوتی ہے جو سیاسی، جمہوری اور قانونی نظام کو کمزور کرنے کا سبب بنتا ہے۔

حالیہ کچھ عرصہ میں ہم اگر اپنی قو می سیاست سمیت دیگر معاملات کا سنجیدگی سے جائزہ لیں تو لگتا ہے کہ ہم بلاوجہ ایک ٹکراو کی سیاست کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ فوج، اسٹیبلیشمنٹ، سول ملٹری بیوروکریسی، عدلیہ، انتظامیہ اور سیاسی قوتوں میں مختلف نوعیت کے تنازعات، ٹکراو یا مفادات کے تناظر میں ایک دوسرے سے مختلف سوچ پائی جاتی ہے۔ عمومی طور پر مختلف فریقین میں ایک دوسرے کے بارے میں یا ان حکمت عملیوں پر مختلف سوچ کا ہونا فطری امر ہوتا ہے۔ مختلف سوچ کا ہونا کوئی انہونی بات نہیں، لیکن اگر مختلف سوچ کے درمیان ایک دوسرے پر اعتماد اور مشاورت سے باہمی فیصلوں کا ماحول موجود ہو تو معاملات کو بڑی خوش اسلوبی سے نمٹا جاسکتا ہے۔ کیونکہ اعتماد سازی کا فقدان بلاوجہ پہلے سے موجود معاملات کو اور زیادہ خراب کرتا ہے۔

الزام تراشیاں، تعصب، شک کی نگاہ سے دیکھنا، مخالفانہ سوچ و فکر، کردار کشی سمیت منفی بنیادوں پر ایک دوسرے کے بارے میں سوچ رکھنا یا اپنے عملی اقدامات پر اس کا اظہار کرنا ہمارا بڑا چیلنج ہے۔ اصولی طور پر جب ہم آئین اور قانون کے مقابلے میں اپنی ذاتی خواہشات کو بنیاد بنا کر آگے بڑھیں گے یا اپنی سوچ اور فکر کو سب پر زبردستی یا طاقت کے زور پر مسلط کرنے کی کوشش کریں گے تو یہ انداز آگے بڑھنے سے ہم کو روکے گا۔ اسی طرح یہ سوچ کہ بس ہمارا ادارہ ہی بالادست ہے اور ہمیں ہی ہر سطح پر بالادستی ملنی چاہیے وہ درست عمل نہیں۔ طاقت کے مراکز میں باہمی تعاون، ایک دوسرے کے معاملات کو سمجھنا یا ایک دوسرے کے لیے راستہ دینے کی حکمت عملی ہی اداروں کے درمیان اعتماد سازی کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

اصولی طور پر تو اگر سب ادارے اپنے اپنے قانونی اور آئینی یا سیاسی دائرہ کار میں رہ کر کام کریں تو اس سے اداروں کے درمیان ٹکراو کا پیدا ہونا کم ہو سکتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم سب اپنے اپنے دائرہ کار سے باہر نکل کر کھیلنے کے عادی ہو گئے ہیں۔ پچھلے دنوں چند واقعات کو اگر ہم دیکھیں جس میں اول جسٹس فائز عیسی او ران کی اہلیہ کا سپریم کورٹ میں جاری مقدمہ او راس کا فیصلہ، سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کے وزیر اعظم سمیت حکومتی وزرا پر سنگین الزامات، آرمی چیف اور اینکرز کی ملاقات، لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے فوج کے بارے میں ایک عدالتی ریمارکس پر جو کچھ بیان بازی، سوشل میڈیا پر الزامات سے بھری گفتگو، سیاست دانوں کے درمیان تنقیدی گفتگو میں تضحیک کا پہلو، عدالتوں میں جاری مقدمات پر ججز کے ریمارکس، ہونے والے اہم واقعات پر ایک دوسرے اداروں کے خلاف بیان بازی یا ان کو ذمہ دار قرار دینا جیسے امور سے ہمارے مجموعی سیاسی ماحول میں تلخیاں بڑھی ہیں۔ یہ ایک ہمارا مجموعی مزاج بن گیا ہے کہ ہم دوسرے اداروں کے امور پر کھل کر تنقید کرتے ہیں اور ان کو تسلیم کرنے سے بھی انکاری ہو جاتے ہیں لیکن خود یہ تنقید کرتے ہوئے اپنے ہی ادارے کی داخلی کمزوریوں اور خامیوں کو قبول کرنے سے انکاری ہو جاتے ہیں۔

جب ہم قانونی معاملات میں سیاست کو ترجیح دیتے ہیں تو قانونی پہلووں کا سیاسی بیانیہ زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ کیونکہ ہم قانونی پہلووں سے خود کو بچا کر سیاسی چھتری کا سہارا لیتے ہیں تاکہ قانونی معاملات کو سیاسی رنگ دے کر اپنے مفادات کو زیادہ سے زیادہ تحفظ دیں۔ یہ طرز عمل بنیادی طور پر اداروں کی بالادستی یا قانون کی حکمرانی کی جنگ کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ بعض دفعہ تو یہ احساس غالب ہوتا ہے کہ ہم خود جان بوجھ کر اپنے ہی ریاستی، حکومتی یا قانونی اداروں کی تذلیل کا کھیل شعوری یا لاشعوری طور پر کھیلتے ہیں۔

یعنی ہمارے یہاں اداروں پر تنقید کرنا ایک بات بلکہ اس تنقید کے نام پر جو ہم اداروں کی تضحیک کر کے خود کو سب سے بالاتر بنا کر پیش کرتے ہیں وہ خود بگاڑ پیدا کرتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب بھی ہم اداروں پر ان سے جڑے معاملات پر تنقید کرتے ہیں تو اس میں جذباتیت کا پہلو زیادہ نمایاں ہوتا ہے جب کہ اگر شواہد کی جانب دیکھیں تو اس کا بڑا فقدان دیکھنے کو ملتا ہے۔ تنقید اور تضحیک کے درمیان جو بنیادی نوعیت کا فرق ہوتا ہے اس کو بھی سمجھنے سے قاصر ہیں۔

یہ جو ہم مختلف نوعیت کے سیاسی، قانونی تضادات یا ٹکراو یا جوابدہی سے جڑے معاملات کو بلاوجہ کی سیاسی، جمہوری اور قانونی جنگ بنا کر پیش کرتے ہیں اس سے بھی خرابیاں جنم لیتی ہیں۔ جو بھی قانون کے شکنجے میں آئے اسے ہم سیاسی ہیرو کے طور پر پیش کریں تو پھر اداروں کا عملی طور پر کمزور ہونا نظر آتا ہے۔ ادارہ جاتی سطح پر کوئی فرد بھی قانون یا آئین سے بالاتر نہیں ہوتا اور سب کو آئین اور قانون کے تابع ہونا ہوتا ہے۔

کسی بھی فرد کو مادر پدر سطح کی آزادی نہیں دی جا سکتی۔ سب ہی لوگ اپنے اپنے اداروں کی سطح پر جوابدہ ہیں اور اور ان کو ہر معاملے میں جوابدہ ہونا چاہیے۔ یہ جو ہم بلاوجہ افراد کو بنیاد بنا کر مسیحا کو تلاش کرتے ہیں اور اس مسیحا کو بطور ہیرو بنا کر پیش کرنا یا اسے نجات دہندہ سمجھنا خود مسائل کو جنم دینے کا سبب بنتا ہے۔ کسی بھی ادارہ جاتی سطح پر طاقت سے طاقت ور فرد کو بھی آئین، قانون اور جوابدہی سے آزادی نہیں ہونی چاہیے یہ جو خود کو قانون سے بالا تر ہونا یا جوابدہ نہ ہونے کی روش زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔

جو بھی طاقت ور طبقہ ہوگا او رجس کی زیادہ اثر رسوخ ریاستی یا حکومتی ایوانوں تک ہوگا وہ معاملات کو قانون کے مطابق حل کرنے کی بجائے اپنی خواہش کی بنیاد پر حل چاہتا ہے جہاں سے بگاڑ کی بنیادی ابتدا عملی طور پر شروع ہوتی ہے۔ یہ بات کافی حد تک ٹھیک ہے کہ ہمیں طبقاتی طرز کے نظام کی نفی کرنی ہے۔ امیر، غریب یا کمزور اور طاقت ور کے درمیان دو مختلف طرز کے نظام کی موجودگی کو ختم کرنا خود ہماری ریاستی ترجیحات کا بڑا چیلنج ہے۔

اداروں پر تنقید کرنا یہاں ایک فیشن بھی بن گیا ہے۔ کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو قبول کرنے کی بجائے اداروں پر الزام تراشی کی بنیاد پر خود کو بچا سکتے ہیں درست حکمت عملی نہیں۔ کبھی کبھی یہ احساس نمایاں ہوتا ہے کہ ہماری سوچ اداروں کی مضبوطی یا ان کے بارے میں مثبت سوچ کو اجاگر کرنا نہیں۔ بلکہ ہم ریٹنگ کی ایسی سیاست کا شکار ہو گئے ہیں کہ ہمیں اداروں کی سطح پر مثبت پہلووں کے مقابلے میں عملاً ایک بڑا بحران پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اس بحران کو دکھا کر جہاں ہم اپنی تصویر کو بدنما بنا کر پیش کرتے ہیں وہیں یہ ہی داخلی و خارجی محاذ پر ہماری یہ تصویر ہمارے بیانیہ کو کمزور اور مشکوک بنا کر پیش کرتا ہے، جس کی ہر سطح پر نفی ہونی چاہیے۔

Facebook Comments HS