فیس بک و دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پہ کی جانے والی چوریاں
چوری صرف پیسے یا مال اسباب کی نہیں ہوتی۔ ہر وہ چیز جو کسی دوسرے کی ملکیت ہو اسے مالک کے حق ملکیت سے محروم کرنا چوری ہی کہلاتا ہے۔ سوشل میڈیا پہ کسی کی تحریر، کالم، تصویر یا کسی بھی اور طرح کے مواد کو اٹھا کر اصل مالک کے نام کے بغیر یا اپنے نام کے ساتھ کہیں اور لگا دینا چوری کے سوا کچھ نہیں ہے۔
آپ جب بھی کسی قسم کے تخلیقی مواد کو اس کے اصل مالک کے حق ملکیت سے محروم کریں گے تو اسے چوری کا ہی نام دیا جائے گا۔
فیس بک پہ ایسی چوری عموماً دو طرح سے کی جاتی ہے۔
پہلی قسم جو زیادہ غلیظ اور گھٹیا صورت ہے اس میں چوری کرنے والا متعلقہ مواد کو اپنے نام کے ساتھ منسوب کر کے اپنے اکاؤنٹ سے پوسٹ کر دیتا ہے۔ معلوم نہیں ایسے لوگوں کو اتنی بداخلاقی کی جرات کہاں سے ملتی ہے۔ لیکن وہ نہ صرف یہ سب بڑی دیدہ دلیری سے کر رہے ہوتے ہیں بلکہ ایسے مواد پہ ملنے والے تعریفی کلمات بھی بڑی خوشدلی سے قبول کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر کوئی ان کی چوری پکڑ لے تو بے ڈھنگے دلائل کے انبار لگا دیتے ہیں مگر اپنی غلطی کا اعتراف کرنے کی ہمت نہیں کرتے۔
دوسری قسم میں وہ لوگ ہوتے ہیں جو محتاط رویے کی وجہ سے ایسی چوری کرتے ہوئے اپنا پہلو بچا کر رکھتے ہیں۔ یہ لوگ ایسے مواد کے ساتھ اپنا نام نہیں لکھتے مگر اصل تخلیق کار کا نام بڑی صفائی سے مٹا دیتے ہیں۔ پانچ ہزار لفظوں کی تحریر کاپی کرتے ہوئے بھی انھیں بس وہ آخری تین لفظ ہی چبھتے ہیں جن میں لکھاری کا نام ہوتا ہے۔ اس لیے باقی ساری تحریر کاپی کر کے وہ لفظ مٹانا فرض عین سمجھتے ہیں۔ اس طرح ان کے احباب میں سے اکثر لوگ انھیں ہی متعلقہ مواد کا تخلیق کار سمجھتے رہتے ہیں۔ البتہ اگر کوئی ان کی چوری پکڑ لے تو فوراً دلیل دیتے ہیں کہ
”میں نے ساتھ اپنا نام تو نہیں لکھا“
یہ لوگ اصل مالک کے نام کے بغیر ایسا مواد پوسٹ کرتے ہوئے خود کو (یا ایسے لوگوں کو جو حقیقت کا علم رکھتے ہیں ) یہ تسلی دینا چاہ رہے ہوتے ہیں کہ میں نے اسے اپنے نام سے منسوب نہیں کیا ہوا لیکن اس بات کا وہ جواب بھی دینا پسند نہیں کرتے کہ اصل تخلیق کار کا نام کیوں مٹایا گیا ہے۔
کسی نام کے بغیر پوسٹ کرتے ہوئے انھیں بھی یہ خبر ہوتی ہے کہ اس پوسٹ کو اکثر لوگ ان کی قوت تخلیق کا شاخسانہ ہی سمجھیں گے۔
کیوں کہ کوئی تحریر وغیرہ پوسٹ کرتے وقت ساتھ لکھاری کا نام نہ لکھا ہو تو اسے پوسٹ کرنے والے سے ہی منسوب سمجھا جاتا ہے۔
کوئی بھی ایمان دار شخص یہ کبھی گوارا نہیں کر سکتا کہ کسی اور کی تخلیق اس کے نام سے منسوب سمجھی جائے اس لیے کوئی بھی دیانت دار بندہ ایسی حرکت کبھی نہیں کر سکتا۔ ایسی حرکت صرف وہ کرے گا جس کے اندر بددیانتی پنجے گاڑ کر بیٹھی ہوئی ہے۔
آپ چاہے جتنی مرضی دلیلیں سوچ لیں، دے لیں مگر ایسی ہر حرکت انتہائی گھٹیا اور غیر اخلاقی ہی سمجھی جائے گی۔
اس لیے ہونا ایسے چاہیے کہ آپ اپنی تحریر و تصویر وغیرہ کے نیچے چاہے اپنا نام نہ لکھیں لیکن اگر کسی اور کا کوئی شعر، تحریر، تصویر یا کوئی اور مواد اپنی وال، اپنے اکاؤنٹ پہ لگائیں تو اس کے نیچے اصل تخلیق کار کا نام ضرور لکھیں۔
لکھاری یا مواد کے اصل مالک کا نام علم میں نہ ہو تو ساتھ ”نامعلوم“ لکھ دینا چاہیے اور اگر احباب میں سے کوئی اصل مالک کے نام سے آگاہی دے تو پوسٹ کو ایڈیٹ کر کے یہ نام پوسٹ میں ضرور شامل کر دینا چاہیے۔
ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ چوری شدہ تحریر کے نیچے منقول کو ”م ن ق و ل“ کی صورت میں لکھ دیا جاتا ہے تاکہ غور کیے بغیر کسی کو سمجھ ہی نہ آئے کہ یہ منقول شدہ تحریر ہے۔
یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ لوگ پوسٹ کے ساتھ تخلیق کار کا نام لکھنے کے بجائے کمنٹ میں لکھ دیتے ہیں۔ کمنٹ پہ بہت کم لوگوں کی نظر پڑتی ہے اس لیے اکثر لوگ یہ دیکھ ہی نہیں پاتے اور پوسٹ کرنے والا ممکنہ اعتراض کا صفائی کے ساتھ پہلے سے سد باب کر لیتا ہے۔ حالانکہ وہ خود بھی جانتا ہوتا ہے کہ یہ بھی بددیانتی اور چوری ہی ہے۔
چوری کوئی بھی چھوٹی نہیں ہوتی اور وقت آنے پہ ایسی ہر چوری کا بھی یقیناً حساب دینا پڑے گا۔ اس لیے ایسی کسی حرکت کو کم وقعت سمجھنے کی غلطی تو بالکل بھی نہیں کرنی چاہیے۔
یقین رکھیں کہ کسی بھی تحریر و تصویر کے ساتھ اس کے اصل مالک کا نام لکھ دینے سے آپ کی عزت میں کوئی کمی نہیں آئے گی، آپ کی پوسٹ کے لیے جگہ کم نہیں ہو جائے گی۔ بلکہ نام لکھ دینے سے ہر سمجھدار انسان آپ کی دیانت داری کو قابل تعریف سمجھے گا اور یہی تعریف اصل تعریف ہو گی۔


