تاریخ کے فرقے اور ہمارا اثاثہ (دوسرا حصہ)
ہمارے ہاں صوبوں کی سطح پہ بھی یہ تقسیم واضح ہے ایک طرف راجہ داہر ہیرو ہیں تو دوسری طرف محمد بن قاسم۔ ایک صوبے میں صرف پنجاب کے ہیروز کی بات ہوتی ہے تو دوسرے میں پشتون، سندھی یا بلوچ کی، پنجاب کی نصابی کتب پڑھ کر غنی خان، خوشحال خان خٹک یا رحمان بابا کے بارے میں جاننا اتنا ہی مشکل ہے جتنا کے پی کی کتابوں میں بلھے شاہ، وارث شاہ یا سلطان باہو کے بارے میں۔
پاکستان نیشنلزم بھی یہاں کئی فرقوں میں الجھی ہوئی ہے۔ کہیں اس کی بنیادیں سیکولر ہونے کی باتیں ہیں تو کہیں اسلامی ہونے کی۔ ایک طرف خواجہ غلام صادق، بختیار حسین صدیقی اور اے کے بروہی نے ہمیں الجھائے رکھے تو دوسری طرف زیڈ اے سلہری کی طرف سے ایک نئی اصطلاح سامنے لائی گئی جو اپنی تصنیف و در پاکستان کے صفحہ 71 پہ لکھتے ہیں : ”پاکستانی نیشنلزم منفرد ہے اور نوعیت کے اعتبار سے علاقائی ہونے کی بجائے روحانی ہے!“ میرے ایک محسن کے بقول پولیٹیکل سائنس کے طالبعلم ”روحانی نیشنلزم“ کی اصطلاح سننے کے بعد اچنبھے میں پڑ گئے ہیں کہ اس کا مطلب نکالیں تو نکالیں کیا۔
تاریخی لحاظ سے واقعہ کربلا بھی کئی فرقوں کی مختلف تشریحات کا شکار ہے، یہ اختلاف ایک زہریلی نفرت کا سبب بن چکا ہے لیکن مولانا عتیق الرحمان سنبھلی صاحب نے اپنی تصنیف ”کربلا اور اس کا پس منظر“ میں اس واقعہ کو ان تمام فرقوں کے بیانیہ سے ہٹ کر بیان کیا ہے جو کہ کہیں نہ کہیں غالب بن کر سامنے آ جاتا ہے۔
تاریخ اس چیز کی بھی شاہد ہے کہ ایک ایسا فرقہ بھی آیا جس نے ہمیں بتایا کہ شعور کے ساتھ تحت الشعور کا بھی وجود ہے۔ لیکن ہم نے اس قسم کی باتیں بتانے والوں، سمجھانے والوں کی فضیحت کی، بہتر سننے اور سنانے والوں کو غدار قرار دیا۔ ہمارے ہاں اگر کوئی ہودبھائی، عمار یا ضیغم آیا تو ہم نے ان کی تعلیمی قابلیت کمزور ثابت کرنے کی کوشش کی یہ جانتے ہوئے بھی کہ سورج انگلی سے کہاں چھپ سکتا ہے۔ انہیں اساتذہ نے ہمیں اس شخص کی فہرست میں کھڑا کرنے کی کوشش کی کہ جو بھرے مجمع میں حضرت عمر سے سوال پوچھتا ہے لیکن عاطف توقیر تو اس حقیقت کو نظم ”غدار“ میں کہہ گئے ہیں نا کہ ”زندگی کو نئی کروٹ بخشنے والے سارے تصور، نئی جستجو کے قرینے، نئے راستے پر اٹھائے گئے سب قدم، سب سوالات غدار ہیں۔ لفظ غدار ہیں، سچ میں لپٹے ہوئے، جستجو کے نئے راستے کھولتے لفظ غدار ہیں۔“
جب ہم ان تاریخی فرقوں کے بکھیڑوں میں الجھتے رہتے ہیں تو ان تقسیم کی باتوں سے دور کھڑے ہو کر ایک طبقہ عقل و دانش اور عمیق نگاہی کا منبع بن کر ہمارے سر پہ دست شفق رکھ کر بتاتا ہے، سمجھاتا ہے کہ سائنسی، مذہبی، معاشی اور کئی اور حوالوں سے یہ داستان بہت طویل ہے، یہی لوگ ہمیں سمجھاتے ہیں کہ جب تک ہم تاریخ کو سفید اور سیاہ کا محدب عدسہ لگا کر دیکھیں گے تب تک ہمیں صرف وہ نظر آئے گا جو ہم دیکھنا چاہتے ہیں، ہر ایک کی بصیرت اور بصارت جدا جدا ہے ہر ایک کا فریم آف ریفرنس بھی الگ ہے ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا اس لیے تو کہتے ہیں کہ خدا پنج انگشت یکساں نہ کرد۔
تاریخ کے کسی ایک فرقہ میں رہ کر دوسرے کے وجود سے انکار کج بصیرتوں کا کام ہے۔ جب ہم پھر کبھی نفرتوں میں بٹ کر اپنے آپ کو کوستے ہیں کہ ہمارے ماتھے پہ سیاہ بخت کی مہر لگی ہے تو انہی ژرف نگاہ صاحبان خرد کو اپنی راہنمائی کے لیے پھر سے آگے بڑھتا دیکھتے ہیں جو ہمیں سمجھاتے ہیں کہ باغ میں رنگ برنگے پھول دیکھ کر مالی اور بلبل دونوں خوش ہوتے ہیں اس لیے ہر پھول کو اپنے رنگ پہ رعونت ہونی چاہیے اور اسے دوسرے کے رنگ کو بھی خوبصورت سمجھنا چاہیے۔
اگر ہم پھر بھی کہیں پھسل جائیں تو یہ ہمیں سمجھاتے ہیں کہ انسان ارادے، اختیار اور فکر و عمل کی آزادی لے کر پیدا ہوا ہے اس کی اس حریت کو پابند زنجیر نہیں کیا جا سکتا اگر بات کی تہہ تک پہنچنا مقصود ہے تو ہمیں ہر مقدمہ کے بنائے استدلال کو جاننا ضروری ہے اور یہی پرکھنے کا پیمانہ ہے اور علم کا منہاج اسی میں مضمر ہے۔ یہ دانش و فکر کا نمائندہ طبقہ جو کہ ہمارے لیے ہر لمحہ بہتر زندگی کے گنجل کھولتا چلا جا رہا ہوتا ہے ایک طرف زاہدہ حناء، زہرہ نگاہ، کشور ناہید، عارفہ سیدہ زہرہ، صبین محمود اور عاصمہ جہانگیر جیسی عبقری شخصیات پر مشتمل ہے تو دوسری طرف استاد محترم وجاہت مسعود، آئی اے رحمان، انور سجاد، آصف فرخی اور مجاہد کامران جیسی شخصیات ہیں جو راہنمائی کے لیے سامنے آتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ زندگی کا مقصد اس وقت پورا ہوتا دکھے گا جب یہاں رفعت شعور کی ہوگی اور سوالات معتبر ہوں گے۔
یہی ہیروز ہمارے دیس کے ڈیس کارٹے ہیں کہ جو ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ درج بالا شخصیات عقل و دانش کا منبع بن کر کسی فرقے میں بھی نہیں جڑتے، ان کی نگاہ معاشرے کے ہر کمزور فرد پہ ہوتی ہے، ان کی نگاہ محبت اور اولوالعزمی کا نمونہ بن کر ہمارے لیے بہتر سمت کا تعین کرتی ہے۔ اے کاش کہ یہ ہم جاننے کی کوشش کرتے کہ ان کی مثال اس شخص کی ہے جو غار سے باہر حقیقی دنیا دیکھتا ہے، روشنی دیکھتا ہے تو واپس آ کر بینائی سے محروم نہیں ہوتا کیونکہ اس کی آنکھ کی بینائی کا نام احساس ہوتا ہے معاشرے کے پسے ہوئے ہر فرد کے لیے زندگی کی رمق کھوجنے کا احساس۔
ہمیں معلوم ہی نہیں کہ ہم نے صرف آئی اے رحمان کے جانے سے کتنا بڑا اثاثہ کھو دیا یہ بات درج بالا سب شخصیات پہ صد فیصد صادق آتی ہے۔ اس لیے وقت کی ضرورت ہے کہ ہم ان اثاثوں کے، دانش و عظمت کے ان ناخداؤں کے، دنیا سے جانے کو سمجھیں ان کے اپنے درمیان ہونے کو وقت کی کرم نوازی سمجھیں کہ ”راز داں پھر نہ کرے گا کوئی پیدا ایسا“ ، ان کی موجودگی کو بنیاد بنا کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ صد شکر ان کے طفیل ”اہل جنوں کو نکتۂ آغاز تو ملا“ ۔


