مقتدرہ; طاقت کا سرچشمہ
عمران خان کا کٹھ پتلیانہ فلاپ شو چلانے کی خواہش اور ضرورت کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی خاطر ماضی کی کٹھ پتلی نواز شریف اور مصالحت کے گرو آصف زرداری کے خلاف کرپشن کا بیانیہ اپنایا گیا۔ آج یہ بیانیہ عوامی نظر میں مکمل طور پر بے اثر ہو چکا ہے کیونکہ اس کے ذریعے لوٹی گئی دولت کا ایک دھیلا بھی برآمد نہیں ہو سکا۔
اس بیانیے کے ذریعے ایک طرف سیاسی پارٹیوں کو لگام ڈالنے اور دوسری طرف عوام کو بیوقوف بنانے کا کام احسن طریقے سے سرانجام دیا گیا۔
کرپشن کہانی کا اصل شکار نواز شریف اور مریم نواز ہوئے کیونکہ والد تاعمر اور بیٹی سات سال کے لیے نا اہل قرار دے دیے گئے۔ اسی لیے یہ دونوں باقیوں کے مقابلے زیادہ غصے میں ہیں اور فی الحال ان کو اہل قرار دینے کے چانسز بھی محدود نظر آ رہے ہیں لیکن اس عمل کو بھی رد از امکان نہیں قرار دیا جاسکتا کہ وہ وقت سے پہلے پھر سلیکٹ کر لیے جائیں۔
آصف زرداری، شہباز شریف، بلاول اور حمزہ کے خلاف کوئی بڑا فیصلہ نہیں آیا کیونکہ بظاہر وہ کافی حد تک سلیکشن کے پراسس میں کامیاب ہوتے نظر آ رہے ہیں اور مستقبل میں ان کا کردار بطور سلیکٹڈ اہم رہے گا۔ کسی بھی سیاسی پارٹی اور قیادت کو آزادانہ سیاست کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہے جو کرنا ہے وہ ایک محدود دائرے میں رہ کر کرنا ہے۔
موجودہ صورت حال میں ووٹ کو عزت دو، سول سپریمیسی، جمہوریت بہترین انتقام اور اداروں کو اپنی حدود میں رہنے کے ڈھونگی بھاشن ہوا میں تحلیل ہو چکے ہیں۔ مقتدرہ حکومت اور اپوزیشن عوام کو بیوقوف بنا کر اپنے اپنے فوائد حاصل کیے جا رہے ہیں اور نقصان صرف عوام کا ہو رہا ہے۔ صرف مہنگائی اور بیروزگاری کی صورت حال ہی ناقابل بیان ہے۔
سماجی تاریخ بتاتی ہے کہ عوام واقعات سے سیکھتے ہوئے اجتماعی شعور کے حصول کی طرف سفر کرتے ہیں اور جب شعور پختہ ہوتا ہے تو وہ مروجہ سیاست، معیشت اور سماج کو مکمل تبدیل کر دیتے ہیں۔ فل وقت شاید شعور کا آ گئے کا سفر سست نظر آ رہا ہو مگر آنے والے واقعات اس کو تیز کرتے ہوئے معیاری چھلانگ کی طرف بھی لے جا سکتے ہیں جس کے ذریعے دہائیوں کا سفر طے ہو سکتا ہے۔ اور اگر اجتماعی شعور مزید پیچھے کی طرف دھکیلا جاتا ہے تو پھر بربریت ہی مقدر نظر آ رہی ہے۔


