تیرا لنگر خانہ آباد رہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حکومت آئے دن عوام کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کرتی رہتی ہے لیکن عوام ناشکرے ہیں کہ پھر بھی دہائیاں دیتے پھرتے ہیں۔ عوام کی سہولت کے لیے ملک بھر میں چار ہزار آٹھ سو اکیاسی یوٹیلٹی سٹورز کھولے گئے ہیں اور ان سٹورز پر انیس ضروری اشیاء پر سبسڈی بھی دی گئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود عوام روتے کرلاتے نظر آتے ہیں۔ سچ ہے نیکی کا زمانہ ہی نہیں۔ حکومت نے انتہائی ضرورت کی انیس اشیاء پر سبسڈی دے کر نیکیوں کے دریا بہا دیے ہیں لیکن عوام حکومت کی اس نیکی کو ضائع کرنے پر تلے ہیں۔

جسے دیکھو وہ یوٹیلٹی سٹورز سے خالی ہاتھ ہی لوٹتا ہے وہ بھی حکومت کو گالیاں اور بددعائیں دیتے ہوئے۔ اس کی وجہ اگر کوئی یہ بتائے کہ یوٹیلٹی سٹورز پر چیزوں کی قلت ہے تو پھر یہ جھوٹ ہے۔ یہ حکومت پر بہتان ہو سکتا ہے یا پھر سیاسی بیان بازی۔ کیونکہ یوٹیلٹی سٹورز پر تمام اشیاء وافر مقدار میں موجود ہیں خاص کر وہ اشیاء جن پر سبسڈی دی گئی ہے۔ اگر اشیائے ضروریہ کو خریدنے سے خریدار خود ہی انکار کردے تو پھر اس کی ذمہ دار حکومت تو ہرگز نہیں۔

جب ایک چیز بازار سے انتہائی سستے داموں میں آپ کو مل رہی ہے تو آپ کا کام ہے کہ سب کام چھوڑ کر ان اشیاء کی خریداری کر لیں۔ لیکن عوام یوٹیلٹی سٹورز سے کچھ نہیں خرید رہی۔ لوگ بھرے ہوئے یوٹیلٹی سٹورز سے خالی ہاتھ لوٹ کر حکومت کو بدنام کرنے کی سازش کیوں کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ جاننے کے لیے مجھے یوٹیلٹی سٹور کا رخ کرنا پڑا۔ کہ جب عوام کے وسیع تر مفاد کے پیش نظر حکومت نے عوام کو سہولت دی ہے، تو بجائے اس سے فائدہ اٹھانے اور دعائیں دینے کے عوام حکومت کو کوس کیوں رہی ہے، یوٹیلٹی سٹور سے نکلتے ہوئے کچھ صارفین سے یہ سوال پوچھا تو پھر جناب مجھے منہ کی ہی نہیں کھانی پڑی، بلکہ منہ پر کھانی پڑی۔

اگلوں نے مجھے حکومتی نمائندہ سمجھ کر میری خوب عزت افزائی کی۔ یوں معاملہ صحافتی سے زیادہ سیاسی ہو گیا۔ خیر ان سے بچ بچا کر یوٹیلٹی سٹور میں داخل ہوئی تو اندر ایک عورت شور مچا رہی تھی کہ آٹا دو، لیکن سٹور ملازم کہہ رہا تھا کہ بی بی دیوار پہ لگی لسٹ پڑھ لیں ہمارا سر نہ کھائیں۔ میں کبھی لسٹ اور کبھی انھیں دیکھتی، پھر بھی کچھ سمجھ نہ آئی۔ میرے پوچھنے پر خاتون نے بتایا کہ میں گھر سے آٹا خریدنے آئی ہوں، لیکن یہ کہتے ہیں کہ آٹھ سو کا آٹا خریدنا ہے تو ساتھ پانچ سو کی خریداری کرو، تو ہی آٹا ملے گا۔ اب آپ ہی بتائیے کہ کیا خریدوں۔

معاملہ کچھ یوں ہے کے حکومت نے چینی، آٹا، دالیں، گھی، چائے، چاول جیسی انیس ضروری اشیاء پر سبسڈی دی ہے، لیکن ساتھ یہ شرط رکھی ہے کہ ان میں سے جو شے بھی خریدنی ہے تو اس کی مالیت کا ساٹھ فیصد سے زائد خرچ کر کے آپ کو وہ اشیاء بھی خریدنا ہوں گی جن پر سبسڈی نہیں ہے، اور شاید جس کی آپ کو ضرورت بھی نہیں ہے۔ یعنی ایک چالیس روپے والا ڈیٹول صابن خریدنے کے لیے آپ کو ساٹھ روپے کا غیر ضروری منرل واٹر خریدنا ہوگا، ورنہ چالیس کا صابن بھی نہیں ملے گا۔ اب جس کے پاس ایک تھیلا آٹے خریدنے کے پیسے ہیں یا اس کو دو کلو چینی ہی چاہیے تو ان سستی چیزوں کو خریدنے کے لیے وہ غیر ضروری اشیاء کی خریداری کے لیے رقم کہاں سے لائے۔ یہی حال گھی چینی، دالوں، چائے وغیرہ جیسی دوسری اشیاء کی خریداری پر ہے۔

جذبہ ایمانی سے سرشار ہو کر عوام کے لیے سستا رمضان بازار بھی لگائے گئے ہیں، لیکن یہاں بھی عوام کو جھانسہ دینے والی بات ہے۔ چینی موجود ہے۔ لیکن دو کلو سے زائد چینی آپ کو نہیں مل سکتی۔ اور اس کے لیے بھی ایک لمبی قطار میں لگنا پڑتا ہے، چینی حاصل کرنے کے لیے شہریوں کی لمبی قطاریں لگی ہیں۔ ایک طویل قطار میں لگنے کے بعد آپ کی باری آئے اور اتفاق سے اگر آپ اپنا شناختی کارڈ گھر بھول چکے ہیں تو پھر اسے اپنی بدقسمتی کہیے، کہ بنا شناختی کارڈ چینی نہیں ملے گی، مانو چینی نہ ہوئی جائیداد ہو گئی، جس کے خریدنے کے لیے شناختی کارڈ شرط ہے۔

اب کل پھر سے آئیے اور پھر سے لائن میں لگ جائیے۔ ایک طویل قطار میں لگنے کی وجہ سے چینی ملے نہ ملے کورونا آپ ضرور ساتھ لے کر جائیں گے۔ جب چینی اور آٹا جیسی ضروری اشیاء مہنگے داموں میسر ہوں تو پھر ان کو حاصل کرنے لیے زندگی سستی لگتی ہے۔ وبا کے دور میں قطار میں لگ کر زندگی کی قربانی دینا آسان ہے، اور ان چیزوں کا حصول مشکل۔ لیکن گھبرانا نہیں آپ نے کہ اگر عوام رمضان بازار کی لائنوں میں لگ کر دو کلو چینی اور ایک تھیلا آٹے کے حصول کی جنگ لڑیں گے۔

ایسے میں اگر لوگ وبا کا شکار ہو کر شہید ہو گے تو اس سے بڑھ کر رتبہ کیا مل سکتا ہے۔ اور جو شہید ہونے سے بچ گئے وہ بھی مت گھبرائیں کہ وہ غازی ہیں۔ اس کا حل بھی موجود ہے۔ بیماری اور مہنگائی سے مقابلہ کرنے والے اگر غربت کی آخری سطح پر چلے بھی گئے تو ان کے لیے لنگر خانوں میں قیام و طعام کی مفت سہولت موجود ہے، آپ سرکاری لنگر خانوں سے فائدہ اٹھائیے، کہ لنگر خانے کھولے ہی اس لیے گئے ہیں تاکہ آپ گھبرائیں نہیں۔

حکومت نے لنگر خانوں کو آباد رکھنے کے لیے ہی کمر توڑ مہنگائی کا مثبت اور بروقت قدم اٹھایا ہے۔ کہ لنگر خانوں کی مشہوری کا یہی واحد طریقہ ہے کہ سستے بازار لگا کر اور خورد و نوش کی ضروری اشیاء پر سبسڈی دینے کے باوجود ہر چیز عوام کی پہنچ سے دور کر دی جائے، تاکہ کچھ بھی خریدنے کی سکت عوام میں نہ رہے اور بالآخر وہ تھک ہار کر لنگر خانوں کی طرف رجوع کریں اور حکومت کو دیر تک رہنے کی دعائیں دیں اور حکومت کے لیے چلتے پھرتے اشتہار کا کام بھی کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *