وزیر اعظم کے دعوؤں کی گونج اور وعدوں سے فرار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر ملک سے اشرافیہ کا کلچر ختم کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا ’ویژن‘ تمام لوگوں کو قانون کے سامنے مساوی طور سے جوابدہ بنانا ہے۔ تعمیراتی منصوبوں کے پروگرام کا افتتاح کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں موجودہ عدم مساوات کی ذمہ داری سابقہ حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے جو خود کو قانون کے سامنے جواب دہ نہیں سمجھتے۔ ہمارا عدالتی نظام بھی مظلوم کی داد رسی میں ناکام ہے اور ظالم کی گرفت نہیں کرپاتا۔

عمران خان نے یہ ’پر تاثیر ‘ تقریر گزشتہ روز پاکستانی سفیروں سے خطاب کے دوران اس ’اعتراف‘ کے بعد کی ہے کہ وہ گزشتہ اڑھائی برس کے دوران تارکین وطن کی شکایات پر توجہ نہیں دے سکے تھے۔ لیکن اب انہیں سہولت فراہم کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑیں گے اور جو سفارت خانہ پاکستانی تارکین وطن کی تکریم نہیں کرے گا ، وہ خود اس سے جوابدہی کریں گے۔ پاکستان کے مسائل اگر تقریروں سے حل ہوسکتے تو پاکستانی اس وقت دنیا کی سب سے خوش نصیب قوم ہوتے۔ تقریروں اوردعوؤں کے ذریعے معاملات درست کرنے کا کام تو ملک کے سبھی سیاست دان کرتے ہیں لیکن عمران خان نے اس ہنر کو ایک نیا مقام عطا کیا ہے ۔ تاہم عمران خان تقریروں میں جتنا گرجتے برستے ہیں، ان کی حکومت کی کارکردگی اتنی ہی مایوس کن ہے۔

یہی پہلو دیکھ لیا جائے کہ ملک کے غریب عوام کو موجودہ نظام عدل سے انصاف نہیں ملتا۔ یہ اعلان ملک کا وزیر اعظم کررہا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ انہیں کسی بے قصور غریب کے جیل میں بند رہنے کی تکلیف ہے یا اس بات پر پریشانی ہے کہ سال ہا سال تک عدالتوں کے چکر لگانے کے باوجود عام لوگوں کامعمولی مسئلہ بھی حل نہیں ہوپاتا۔ یا یہ کہ سول معاملات تو دور کی بات ہے فوجداری مقدمات میں بھی انصاف حاصل کرنے کوشش میں دہائیاں بیت جاتی ہیں۔ ایسے میں یا تو کسی سنگین الزام میں بے گناہ پکڑا گیا شخص فوت ہوچکا ہوتا ہے یا ضعیفی میں رہائی پاتا ہے لیکن عدالت یا اسے اس بے گناہی کی سزا دینے والا انتظامی ڈھانچہ یعنی حکومت کوئی ذمہ داری قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتی۔

وزیر اعظم سے پوچھا جائے کہ اگر وہ یہ جانتے ہیں کہ عدالتی نظام غریب کو انصاف فراہم نہیں کرتا اور ظالم کو سزا نہیں دے سکتا تو اس نظام میں اصلاح لانے کا کام کون کرے گا؟ حکمران جماعت کی بہادری کا یہ عالم ہے کہ وہ اہم ترین معاملات میں آرڈی ننس لا کر کام چلانا چاہتی ہے۔ ابھی چند روز پہلے اپوزیشن کو ٹوئٹ پیغامات کے ذریعے انتخابی اصلاحات میں تعاون کا پیغام دیا گیا ۔ اگلے ہی روز پارلیمانی امور کے مشیر بابر اعوان نے انتخابی ترمیمی بل کی تفصیلات میڈیا کو بتادیں اور ایک ہی روز بعد کابینہ نے ’اصلاحات‘ نافذ کرنے کے لئے آرڈی ننس جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ کیا وجہ ہے کہ انتخابی اصلاحات جیسے بنیادی اور اہم ترین کام کے لئے بھی حکومت اپنے فیصلے آرڈی ننس کے ذریعے نافذ کرنا چاہتی ہے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس بلا کر اس میں ان اصلاحات کی ضرورت اور میرٹ پر بات کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہے۔ پارلیمنٹ کی طاقت سے خوفزدہ کوئی وزیر اعظم کس منہ سے عوام کی حالت زار تبدیل کرنے کی بات کرسکتا ہے۔

ملک کا عدالتی نظام اگر ناقص ہے تو کیا وجہ ہے کہ تحریک انصاف کوئی اصلاحی قانونی پیکیج متعارف نہیں کروا سکی تاکہ عوام کو ریلیف ملے، بے گناہوں کو بلاوجہ مقدمات کے فیصلوں کا برسوں انتظار نہ کرنا پڑے اور ظالموں کا بھی احتساب ہوتا رہے۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ جس منہ سے عمران خان مدینہ ریاست اور وہاں متعارف کروائے گئے نظام انصاف کا ذکر کرتے ہیں، اسی منہ سے وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ ان کے سارے سیاسی مخالفین کا قلع قمع ہوجائے اور وہ تن تنہا کسی بادشاہ کی طرح ملک پر حکمرانی کریں۔ انہیں عدالتی نظام سے یہ شکایت نہیں ہے کہ زیریں عدالتیں سادہ مقدمات کے فیصلے کرنے میں کیوں طویل مدت صرف کرتی ہیں یا ملک کے عدالتی نظام میں گزشتہ ایک سو سال سے کوئی اصلاح نہیں ہوئی جس کی وجہ سے ہر کس و ناکس پریشان ہے۔ دولتمند اپنے وسائل کی بنیادپر اس نظام سے سہولت حاصل کرلیتاہے اور کمزور و ناتواں جبر کی چکی میں پستا رہتا ہے۔ اگر وزیر اعظم کو اس تلخ صورت حال کا ادراک ہوتا اور وہ حقیقی معنوں میں اسے تبدیل کرنے کی خواہش رکھتے تو وہ انتخابی اصلاحات پر اپوزیشن کے ساتھ سینگ پھنسانے کی بجائے نظام انصاف کی اصلاح کے لئے قانون سازی کرتے۔ تحریک انصاف نے اقتدار کے اڑھائی برس میں مرکز یا صوبوں میں کوئی عوام دوست قانون لانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

یہ درست ہے کہ ملک پر حکمرانی کرنے والے متعدد لیڈروں کو اس وقت عدالتی چیلنجز کا سامنا ہے اور انہیں عمران خان کی خواہش کے مطابق سزا بھی نہیں مل پارہی۔ تو اس کا مطلب ہے کہ ملک کا وزیر اعظم تقریروں میں اپنی عدالتوں پر حرف زنی شروع کردے ؟ عدالتوں کو ان کی ذمہ داری یاد کروانے سے پہلے وزیر اعظم کو یہ بتانا پڑے گا کہ انہوں نے عدالتی نظام کو مؤثر اور تیز تر بنانے کے لئے کون سے قوانین متعارف کروائے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ وزیر اعظم کو ملک کے کسی بھی شعبہ میں اپنی ناکامی کا جواب دینے کے لئے سابقہ حکمرانوں کو سزا نہ ملنے کا راگ الاپنا پڑتا ہے۔ مدینہ ریاست اور اس کا نظام عدل آج کل وزیر اعظم کا مرغوب موضوع ہے۔ اس سے پہلے وہ مدینہ جیسی فلاحی ریاست قائم کرنے کے دعوے کرتے تھے جہاں خلیفہ وقت خود کو ہر بھوکے شہری کے سامنے جوابدہ سمجھتا تھا۔ اب ان کا کہنا ہے کہ ایسی مدینہ ریاست چند برس میں نہیں بن سکتی البتہ مدینہ جیسا انصاف دنوں میں نافذ کیا جاسکتا ہے۔ اس تبدیلی قلب کی وجہ جس حد تک عمران خان جانتے ہیں ، وہ ان کی سیاست کو دیکھنے والے بھی خوب سمجھتے ہیں۔ ملک کو فلاحی ریاست بنانا تو کجا غریب آدمی کی زندگی دوبھر کرنے کے بعد اب وزیر اعظم مدینہ ریاست کے انصاف کا دھنڈورا پیٹ کر اپنی سیاسی ساکھ اور بے ہنگم نعروں کا دفاع کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارر ہے ہیں۔ لیکن کسی بھی مسئلہ کو سمجھے بغیر اس پر جذباتی انداز میں بھاشن نما تقریروں سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔

حالیہ دنوں میں دو مواقع پر وزیر اعظم کو خود اس کا تجربہ ہوچکا ہے۔ پہلے تو کسی باقاعدہ معاشی پروگرام کے بغیر حکومت سنبھالنے، پھر کوئی کسی منصوبہ بندی کی بجائے ملک میں سیاسی تصادم کا ماحول پیدا کرکے انہوں نے معاشی نمو کے امکانات کو محدود کیا۔ پھر سرکاری خیراتی منصوبوں کو ’فلاحی ریاست‘ کا طریقہ قرار دینے کی ناکام کوشش کی۔ اب حکومت میں نصف مدت گزارنے کے بعد جب ان سے انتخابی وعدوں کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ مدینہ ریاست دو تین سال میں تھوڑی بن گئی تھی۔ خلافت راشدہ کے جس عہد کو مدینہ ریاست کہہ کر عمران خان اہل پاکستان کو چکمہ دینا چاہتے ہیں وہ کل 29 برس پر محیط تھی جس میں فلاحی ریاست کے قیام کے علاوہ سیاسی دھوپ چھاؤں کے متعدد پہلو بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔  تاریخی حقائق کو سمجھنے اور اپنی اصلاح کی بجائے ، اب فلاح کو قانو ن کی عمل داری سے منسلک کرکے عمران خان اپنے ہی انتخابی ایجنڈے سے فرار کا راستہ تلاش کرنا چاہتے ہیں۔

اس حوالے سے دوسرا تجربہ تحریک لبیک کو نیچا دکھانے کے لئے یورپ میں ہولوکاسٹ کی طرح توہین رسالت کو بھی غیر قانونی قرار دینے کے مطالبے کا تھا۔ عمران خان دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ تمام مسلمان ملکوں کو ساتھ ملا کر یورپ کو توہین رسالت کو غیر قانونی قرار دینے پر مجبور کریں گے۔ یورپین پارلیمنٹ نے حال ہی میں پاکستان میں اقلیتوں کی صورت حال اور توہین مذہب قوانین کے ناروا استعمال پر سخت احتجاج کیا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ ان کی حکومت اقلیتوں کے حوالے سے یورپین پارلیمنٹ کی شکایات دور کرنے کی کوشش کرے گی لیکن حرمت رسول ﷺ پر سودے بازی نہیں کی جائے گی۔ حالانکہ اس قرار داد میں توہین رسالت کو موضوع ہی نہیں بنایا گیا بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ توہین مذہب کے قوانین کو ناجائز طور سے استعمال کرتے ہوئے اقلیتوں کو ہراساں کیا جاتا ہے۔ دیکھا جائے تو یہ مطالبہ دراصل اسی اصول پر استوار ہے جسے عمران خان نے آج پھر بیان کیا ہے کہ صرف طاقت ور کو ہی نہیں بلکہ کمزور و ناتواں کو بھی انصاف ملنا چاہئے۔ المیہ یہ ہے کہ ملک میں جنرل ضیا کے دور میں توہین مذہب میں شامل کی گئی شقات کے تحت قائم کئے گئے مقدمات میں پاکستانی عدالتی نظام ، انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہوچکا ہے۔ کیا عمران خان انصاف عام کرنے کے نقطہ نظر اور یورپ کی شکایت ختم کرنے کے لئے اس شعبہ میں کچھ کر دکھانے کا حوصلہ کریں گے؟

پولیس کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ سال 2020 میں کم سے کم 586 افراد پر توہین مذہب کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا. ملک میں ایک سو کے لگ بھگ لوگ توہین مذہب کے الزامات میں قید ہیں۔ کوئی عدالت ان کا مقدمہ سننے پر راضی نہیں ہوتی اور کوئی وکیل ان کا مقدمہ لینے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ کیوں کہ ملک میں مذہبی شدت پسندی کو ایسا رخ دے دیا گیا ہے کہ ایسا کرنے والا کوئی بھی شخص ان عناصر کے نشانے پر ہوگا اور عدالتیں یا نظام اس کی مدد سے قاصر رہے گا۔ اس کا متبادل راستہ یہ نکالا گیا ہے کہ جس شخص پر توہین مذہب کاالزام عائد ہوجائے تو وہ جیل میں سڑتا رہے اور وہیں دم توڑ جائے؟ یا کسی پرجوش عاشق رسولﷺ کے ہاتھوں مارا جائے۔ کیا عمران خان اس ناانصافی کو ختم کر کے سب کے لئے مساوی قانون کا دعویٰ سچ ثابت کر سکتے ہیں؟َ

پاکستام میں توہین مذہب قوانین کے بارے میں کوئی بات کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہو چکا ہے حالانکہ سلمان تاثیر قتل کیس میں سپریم کورٹ یہ طے کر چکی ہے کہ کسی قانون پر تنقیدی رائے کا اظہار توہین مذہب نہیں ہو سکتا۔ اس کے باوجود کوئی حکومت توہین مذہب قوانین میں ترمیم اور انہیں انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ہمت نہیں رکھتی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عوام کو گمراہ کن حد تک جذباتی نعروں کا اسیر بنا دیا گیا ہے۔ خود وزیر اعظم توہین مذہب قوانین کی کمزوریوں کو حرمت رسول ﷺ پرسودے بازی کے مترادف قرار دے کر اپنی قانونی، سیاسی اور انسانی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے سے بچنا چاہتے ہیں۔ ایسا وزیر اعظم اور اس کی حکومت کیسے ملک میں قانون کی عمل داری کا بیڑا اٹھا سکتے ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1879 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *