زخمی افغانستان کی ادھوری کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجاہدین کے ”جہاد“ نے روسی افواج کی واپسی کے بعد رخ موڑا اور اقتدار کی رسہ کشی سے کابل کی زندگی کو گھیرے میں لیا تو عبدالسلام نے وطن کو خیرآباد کہا۔ دراصل عبدالسلام کی ہجرت کا سفر لاکھوں افغانوں کی طرح امن اور نوجوان نسل کے مستقبل کی تلاش کا سفر تھا۔

اپنے بزرگ والدین، بیوی اور اکلوتے بیٹے راشد کو لے کر مہاجرین کے قافلوں کے ساتھ پاکستان میں پناہ لی۔ عبدالسلام سے میری ملاقات انہی دنوں پشاور میں ہوئی جو شاید عمر بھر کی واقفیت میں تبدیل ہو گئی۔ ماضی کا یہ پائلٹ افغان قالینوں کی دکان پر ملازمت کرنے پر مجبور تھا۔

طالبان دور کے خاتمہ کے بعد جب افغانستان میں امن لوٹنے کی امیدیں جاگیں تو عبدالسلام بھی وطن واپس لوٹ گیا لیکن اب اسے ایک مرتبہ پھر بے یقینی نے گھیرے میں لے لیا۔

”تین دہائیاں گزر گیں، میں بوڑھا ہونے کو ہوں لیکن ماضی کی جنگ ہماری سرزمین اور قسمت کے ساتھ ایسی چمٹی ہے شاید زندگی بھر کے لیے۔ امید بندھتی ہے پھر ٹوٹتی ہے۔“ عبدالسلام کی ٹیلیفون پر بات چیت سے مایوسی جھلک رہی تھی۔ شاید بہت سارے افغانیوں کی طرح، وجہ امریکا کا فیصلہ۔

روسی افواج کی واپسی کے موقع پر سوویت یونین کے صدر میخائل گورباچوف نے افغان جنگ کو ایک ”خون رسنے والے زخم“ سے تشبیہ دی تھی۔ اب تین دہائیوں کے بعد صدر جو بائیڈن کا اعلان کہ نائن الیون کی بیسویں برسی تک افغانستان سے امریکی افواج کا مکمل انخلاء ہو جائے گا اور امریکا کے لیے اس ”نا ختم ہونے والی جنگ“ کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ بھی۔

لیکن عبدالسلام کی طرح بہت سارے افغان خاندان امریکا کے طالبان کے ساتھ ”امن“ معاہدہ کے مضمرات سے پریشان ہیں۔ ملک میں ممکنہ خانہ جنگی کے خدشات نے افغان عوام کے ذہنوں کے گرد اعصابی حصار کھینچا ہوا ہے۔ ماضی کے زخم موجود ہیں اور ان کی سرزمین اب بھی ایک میدان جنگ نظر آتی ہے۔

افغانستان سے امریکی افواج کی مرحلہ وار واپسی کا آغاز وہ بھی مستقبل کے سیاسی حل کے لیے فریقین افغان حکومت اور طالبان کے درمیان کوئی فارمولا طے ہوئے بغیر، افغان عوام کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔ ماضی کی جنگوں کی تباہ کاریاں، خون خرابہ، وطن سے دربدر ہونا اب ایک اور تنازعہ کی سوچ ہی ان کے وجود کو جھنجوڑ رہی ہے۔

ادھر طالبان جنگجو امریکیوں کی واپسی کو ”سپر پاور کی شکست“ اور ”اسلام کی فتح“ گردانتے ہیں اور کابل حکومت کو ”کٹھ پتلی“ گردانتے ہیں۔ انہیں اندازہ ہے کہ امریکیوں کے انخلاء کے بعد صدر اشرف غنی کمزور اور سیاسی تنہائی کا شکار ہو جائیں گے۔ انہوں نے اپنی نظریں کابل پر گاڑھی ہوئی ہیں۔

میدان جنگ میں لڑنے والے جنگجو طالبان کی پرانی حکمرانی والا دور واپس لانا چاہتے ہیں۔ دوحہ میں موجود، سیاسی دھڑے کو احساس ہے کہ تبدیل شدہ حالات میں طالبان طرز کا سخت گیر نظام رائج نہیں ہو سکتا۔

طالبان شوری اور طالبان سیاسی دھڑے کو اندازہ ہے ان کی اصل طاقت یہ نوجوان جنگجو ہیں اور ان سے ناراضگی مول نہیں لی جا سکتی۔ غالباً اسی وجہ سے وہ افغانستان کی مستقبل کی حکومت یا اس کے نظام کے خد و خال کے لیے اپنے مطالبات سامنے نہیں لانا چاہتے۔

طالبان کی شوری، سیاسی دھڑا اور افغانستان میں لڑنے والے جنگجوؤں میں نسل اور عہد کا فرق ہے۔ طالبان جنگجو نوجوان ہیں اور ان کی یادداشت نائن الیون اور اس کے بعد میدان جنگ میں ہوئے واقعات کے حصار میں گرفتار ہے۔ ان کا بدترین دشمن افغان نیشنل آرمی ہے تو مستقبل میں ان کے ساتھ گزارا ناممکن ہے۔

لگتا ہے کہ طالبان ابتدائی طور پر اپنے کنٹرول شدہ علاقوں پر مکمل اختیارات چاہیں گے۔ اس کا اندازہ کچھ یوں بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جب امریکی افواج نے ہلمند صوبے میں اپنا فوجی اڈا خالی کر کے افغان نیشنل آرمی کے سپرد کیا تو طالبان کے حملے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ ارزگان، غزنی اور کچھ مزید علاقوں میں، بقول ایک مقامی، ”جہاں طالبان کا راج راتوں کے اندھیروں میں تھا اب وہاں ان کا گشت دن کے اجالوں میں نظر آ رہا ہے۔“

جہاں طالبان جارحانہ انداز سے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہ رہے ہیں وہاں اربوں ڈالروں کی مدد سے تیار کی جانے والی افغان نیشنل آرمی کو کٹھن آزمائش کا سامنا ہے۔ کہ آیا یہ فورس مستقبل میں طالبان کا مقابلہ کرنے اور ملک میں امن قائم کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔

خونی ماضی، حال کی بے یقینی میں گھرے افغانستان میں پایہ دار امن کیسے ممکن ہے۔ طالبان اور افغان حکومت کے مابین مستقبل کے لیے کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔ صدر اشرف غنی کی شرائط ہیں اور طالبان ان سے مذاکرات کرنے پر آمادہ نہیں۔ اشرف غنی کا ماننا ہے کہ طالبان امن سے زیادہ اقتدار کے حصول میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ طالبان کے مطالبات میں بقول ان کے ابہام ہے۔ کیا وہ الیکشن کو قبول کریں گے؟ کیا وہ افغان عوام بشمول خواتین، لڑکیوں اور اقلیتوں کے مساوی حقوق پر یقین رکھتے ہیں؟

اشرف غنی نے اپنے فارن افیئرز میگزین کے مضمون میں ماضی کی طرح پاکستان پر طالبان کی حمایت کے الزامات دہرائے ہیں۔ طالبان کے خلاف ایک طویل چارج شیٹ بھی پیش کی ہے اور ساتھ ہی مذاکرات کی دعوت بھی دیتے ہیں۔ ایک مخمصے کا شکار ہیں۔ امریکا ”صاحب بہادر“ سے گلے شکوے کر نہیں سکتے۔ بیس برس، درجنوں ممالک کی افواج کی کوششیں، لگ بھگ ایک کھرب ڈالر اور پھر بھی افغانستان افراتفری کے گرداب میں۔

اس وقت کے حالات کو دیکھ کر مجھے اپنے صحافی ساتھی فخر کاکاخیل کی بات یاد آ جاتی ہے، جو انہوں نے نائن الیون کے کچھ برس بعد افغانستان کے دورے کے بعد کہی تھی۔ ”افغانستان میں غیر ملکیوں اور ان کے ساتھ ڈالرز کی دیہاڑی لگانے والے مقامیوں کی زبان پر“ پروژہ ”یعنی پراجیکٹ کا لفظ ہے۔ ہر شعبہ ان کے لیے چند برس کا پراجیکٹ لگتا ہے۔ تعلیم ہو یا صحت کا شعبہ۔ پولیس ہو یا نیشنل آرمی یا سڑکوں کی تعمیر۔ جنگ سے تباہ شدہ ملک کی تعمیر نو ایسے کی جا رہی ہے جیسے ایک عمارت جس کے اوپر رنگ و روغن تو نظر آتا ہے لیکن ڈھانچہ کمزور اور بنیادیں کھوکھلی۔“

کرزئی ہوں یا اشرف غنی یا دوسرے افغان رہنما ان کو یہ بات تو سمجھنا ہو گی کہ افغانستان کی اس حالت زار کی ذمہ دار اگر بیرونی طاقتیں ہیں تو کہیں نہ کہیں ذمہ داری ان کے کاندھوں ہر بھی ہے۔

امریکی فوجوں کی واپسی نے غیر یقینی کی صورتحال پیدا کی ہے لیکن افغانستان میں نوے کی دہائی والی خانہ جنگی یا انتشار کا راج بظاہر واپس لوٹتا نظر نہیں آتا۔ کیونکہ اس مرتبہ خطے کی طاقتیں روس، چین، ایران اور بالخصوص پاکستان افغانستان میں امن کی کوششوں سے جڑی ہوئی ہیں اور کہیں نہ کہیں ان کے مفادات بھی۔

پاکستان کے لیے افغانستان میں کروٹیں لیتے ہوئے حالات بے حد اہمیت کے حامل ہیں۔

پاکستان نے غالباً اپنے ماضی کی غلطیوں اور پالیسیوں سے سبق سیکھا ہو گا کیونکہ ایک بھاری قیمت چکائی ہے۔ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ستر ہزار جانیں گنوائیں ہیں اور معیشت کا بھاری نقصان بھی برداشت کیا ہے۔

پاکستان کی خواہش ہو گی کہ کابل کی مستقبل کی حکومت اگر حامی نہ ہو تو مخالف بھی نہ ہو۔ پاکستان کا ماننا ہے اس کے اپنے استحکام کے لیے مستحکم افغانستان ضروری ہے۔ افغان مہاجرین کے بوجھ کا الگ خطرہ۔

امریکا خطے کی طاقتوں اور پاکستان کا اثر و رسوخ استعمال کر کے طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ کرنا چاہ رہا ہے۔ لیکن طالبان کا ماننا ہے کہ اب وقت ان کے پاس ہے نہ کہ امریکا کے پاس۔

ادھر بائیڈن کے سیاسی جوئے میں وقت بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اندرونی طور پر تو افغان جنگ کے خاتمے کے اعلان سے امریکیوں کے دلوں کو جیتا جا سکتا ہے لیکن اگر یہ فیصلہ ناکام ہو گیا تو امریکا کی دنیا میں خارجی پالیسی کی ساکھ کو ٹھیس پہنچے گی۔

ریان کروکر جو نائن الیون کے بعد پاکستان، عراق اور افغانستان میں امریکا کے سفیر رہ چکے ہیں، انہوں نے افغانستان سے انخلاء کی پالیسی کو اپنے حالیہ شائع ہونے والے ایک مضمون میں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ”ہم جنگ ختم نہیں کر رہے بلکہ اپنے دشمنوں کو لڑائی کے لیے موقع دے رہے ہیں۔ وہ کون ہیں؟ طالبان اور القاعدہ جنہوں نے ہمارے خلاف نائن الیون حملے کیے۔ وہ شاید اب امریکا پر حملہ نہ کرنا چاہیں لیکن بائیڈن کے اعلان نے یہ فیصلہ ان کے ہاتھوں میں دے دیا ہے۔ اب یہ فیصلہ ہمارے پاس نہیں“

اب ساری نگاہیں افغانستان پر مرکوز ہیں کہ کیا اس جنگ و جدل کی سرزمین پر امن لوٹ سکے گا یا ایک مرتبہ پھر خون خرابے کے دور کی واپسی ہو گی۔ عبدالسلام کی طرح بہت سارے افغانیوں کے ذہنوں کو امریکی افواج کے انخلاء کے بعد خوف نے جکڑا ہوا ہے۔ ان کی زندگی کی کہانی بھی ان کے زخمی دیس کی طرح ادھوری لگتی ہے، شاید امن اور شانتی کی تلاش میں بھٹکتی ہوئی۔

بشکریہ ڈوئچے ویلے اردو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اویس توحید

اویس توحید ملک کے معروف صحافی اور تجزیہ کار ہیں ای میل ایڈریس [email protected] Twitter: @OwaisTohid

owais-tohid has 24 posts and counting.See all posts by owais-tohid

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *